غزل
غزل | کب تک یہ بارِ سنگِ تمنا اٹھائیں گے | کومل جوئیہ
غزل
کب تک یہ بارِ سنگِ تمنا اٹھائیں گے
ہم لوگ آئینوں کی طرح ٹوٹ جائیں گے
جی بھر کے آپ رسمِ تغافل ادا کریں
جس وقت ہم نہ ہونگے بہت یاد آئیں گے
آنا پڑے گا شہرِ رسا کی طرف ہمیں
ہم دشتِ دل میں خاک کہاں تک اڑائیں گے
وہ لوگ جن کے بس میں رہا ہے نظامِ زیست
ہم ایسے بے بسوں کا تماشا بنائیں گے
جی لینے دیجئے گا کہ اک مدتِ حیات
ہم پوری کر کے سوئے فلک لوٹ جائیں گے
اک اور حادثے کا یہاں کر کے اہتمام
اک حادثے سے سب کی توجہ ہٹائیں گے




