غزل

غزل | کب تک یہ بارِ سنگِ تمنا اٹھائیں گے | کومل جوئیہ

غزل

کب تک یہ بارِ سنگِ تمنا اٹھائیں گے

ہم لوگ آئینوں کی طرح ٹوٹ جائیں گے

جی بھر کے آپ رسمِ تغافل ادا کریں 

جس وقت ہم نہ ہونگے بہت یاد آئیں گے

آنا پڑے گا شہرِ رسا کی طرف ہمیں

ہم دشتِ دل میں خاک کہاں تک اڑائیں گے

وہ لوگ جن کے بس میں رہا ہے نظامِ زیست

ہم ایسے بے بسوں کا تماشا بنائیں گے

جی لینے دیجئے گا کہ اک مدتِ حیات

ہم پوری کر کے سوئے فلک لوٹ جائیں گے

اک اور حادثے کا یہاں کر کے اہتمام

اک حادثے سے سب کی توجہ ہٹائیں گے

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x