غزل

غزل | جب بھی وہ آشنا بدلتا ہے | ڈاکٹر شکیل پتافی

غزل

جب بھی وہ آشنا بدلتا ہے

پہلے گھر کا پتا بدلتا ہے

کوئی انسان مر نہیں جاتا

صرف آب و ہوا بدلتا ہے

اپنے چہرے کے خد و خال بدل 

تو مگر آئینہ بدلتا ہے

ہجر سے اور کچھ نہیں ہوتا

پیار کا ذائقہ بدلتا ہے

میری منزل مرے حوالےکر

تو اگر راستہ بدلتا ہے

میں نے اپنا خدا نہیں بدلا

جس کو چاہے خدا، بدلتا ہے

اس کی بے چینیاں بتاتی ہیں

روز اپنی دعا بدلتا ہے 

چند لمحے شکیل مل تو گئے!

چند لمحوں میں کیا بدلتا ہے

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x