غزل

غزل | عجیب ڈھنگ کے وہ راستے بنانے لگا | باسط پتافی

غزل

عجیب ڈھنگ کے وہ راستے بنانے لگا

کبھی وہ کھونے لگا اور کبھی وہ پانے لگا

وہ رفتہ رفتہ مرے نام سے ہوا واقف

پھر اس کے بعد مرا نام گنگنانے لگا

ابھی ابھی مجھے احساس یہ ہوا کہ میں ہوں 

ابھی ابھی کوئی آواز دے کے جانے لگا

مجھے ملال بھی تھا اور مجھے خوشی بھی ہوئی

کہ میرے تیر مجھی پر وہ آزمانے لگا

عجیب کیف ہے جنگل کے سُونے رستوں پر

یہ خرخرانے لگی اور وہ ہنہنانے لگا

کوئی تو ہے جو یہاں چاندنی پہ مرتا ہے

کوئی تو ہے جو ابھی بانسری بجانے لگا

وہ ایک پیڑ کی اک شاخ کے کنارے پر

کلی چٹکنے لگی پھول مسکرانے لگا

ابھی بھی وقت ہے باسط یہ فیصلہ کر لے

گماں کے پیڑ لگا یا کتاب خانے لگا

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x