
کہتے ہیں کہ جب لاڈلی پیدا ہوئی تو رونے کے بجایے کھلکھلا کر ہنسی تھی۔ کچھ کے لیے یہ پریشان کن تھا اور کچھ کے لئے یہ حیرانی کا باعث تھا۔ مشترکہ طور پر لاڈلی کو قدرت کی لاڈلی قرار دے دیا گیا اور یوں لاڈلی کا نام لاڈلی رکھ دیا گیا۔ جب محلے کے بچوں کو خسرہ نکلا تو سب بچے دانوں سے لد گیۓ مگر لاڈلی بھلی چنگی رہی۔ ایک بار اسکول سے آتے ہوئے اسکول وین کو حادثہ پیش آ گیا۔ سب بچے زخمی ہوئے، لاڈلی کا بال بیکا نہ ہوا۔ لاڈلی کی زندگی میں ایسے کئی واقعات یکے بعد دیگر پیش آتے رہے اور قدرت کی لاڈلی سب کی لاڈلی بنتی گئی۔ لاڈلی سے بے جا لاڈ لڑانے کا نتیجہ یہ نکلا کہ لاڈلی فطرتاً حساس ہو گئی اور خاص کر روحوں، جنوں اور چڑیلوں کی قصے کہانیاں سن کر سہم جاتی تھی۔
تنویر لاڈلی کا خالہ زاد تھا۔ لاڈلی جتنا روحوں سے ڈرتی تھی تنویر اتنا ہی نڈر تھا۔ وہ اکثر لاڈلی کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہویے لاڈلی کو روحوں سے ڈرانے کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا تھا۔ یوں ہی ہنستے کھیلتے دن تیزی سے گزرے اور دونوں کی شادی طے کر دی گئی۔
لاڈلی بضد تھی کہ تنویر، لہنگے کی خریداری کے لئے ساتھ چلے گا۔ لہٰذہ آج تنویر اور لاڈلی دونوں گھر کے قریبی بازار میں شانہ بشانہ چل رہے تھے۔ اچانک دل دہلا دینے والا دھماکہ ہوا اور ساتھ ہی گولیاں چلنے کی آواز آنے لگی۔ گرد، دھول، مٹی، چیخ و پکار، بارود کی بو، کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ تنویر دھماکے کی وجہ سے دور جا گرا چھلنی جسم کے ساتھ خون میں لت پت پوری قوت جمع کر کے اٹھا اور لاڈلی کی تلاش میں ڈور لگا دی۔ تھوڑی ہی دیر میں اسکے سامنے جو منظر تھا تنویر کی آنکھیں پتھرا دینے کے لئے کافی تھا۔ وہ لاڈلی کو دیکھ کر چلایا "لاڈلی گھر کی طرف بھاگو۔” لاڈلی نے گھر کا رخ کرنے کے لئے پلٹنے کا ارادہ کیا، جسے تنویر بھانپ گیا اور زور سے چلایا "نہیں لاڈلی نہیں پیچھے مت مڑنا سیدھی میرے پیچھے پیچھے آؤ۔”
تھوڑی دیر بعد وہ دونوں تنویر کے گھر اس کمرے میں تھے جو عجلہ عروسی تھا۔ اس کمرے میں گرمیوں کی راتیں ٹھنڈی رکھنے کے لیے چھت میں مگ نما بڑا روشن دان بنایا گیا تھا۔ لاڈلی ٹھنڈے فرش پر پلنگ سے تھوڑے فاصلے پر بیٹھی تھی۔ تنویر اس کے سامنے دوزانوں بیٹھا اسے بنا پلک جھپکے دیکھ رہا تھا۔ لاڈلی کانپتی آواز میں بولی "تم کو ڈاکٹر کے پاس جانا چاہیے تھا لیکن تم اپنے ساتھ ساتھ مجھے بھی یہاں لے آئے ہو۔” اور آگے بڑھ کر تنویر کا بازو پکڑنا چاہا مگر تنویر کا بازو جیسے ہوا میں تحلیل ہو گیا اور لاڈلی کا ہاتھ تنویر کے بازو کو چھو نہ سکا اور بازو کے آر پار ہو گیا۔ لاڈلی ڈر کے مارے خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹی اور سہمی سہمی خوفزدہ سی تنویر کو دیکھنے لگی۔ "یہ کیا ہوا تمہیں؟” وہ نحیف سی کپکپاتی آواز میں بولی۔ "کیا تم مر چکے ہو؟ کیا تم روح بن چکے ہو؟” مگر تنویر نے کوئی جواب نہ دیا۔ "آخر تم بولتے کیوں نہیں کچھ تو بولو ورنہ میں مر جاؤں گی۔” کچھ دیر دونوں خاموش رہے۔ لاڈلی اچانک پھر بولی "مجھے روحوں سے ڈر لگتا تھا ناں مگر مجھے تمہاری روح سے بالکل ڈر نہیں لگ رہا۔ وہ دیکھو تنویر گہرے نیلے رنگ کی روشنی کا ستون آسمان سے ظاہر ہو رہا ہے۔
تنویر کو اپنی ہی آواز گونجتی ہوئی سنائی دی، "نہیں لاڈلی نہیں پیچھے مت مڑنا سیدھی میرے پیچھے پیچھے آؤ۔” اور سوچنے لگا کہ شکر ہے لاڈلی پیچھے نہیں مڑی ورنہ وہ اپنی لاش دیکھ کر ڈر جاتی۔




