غزل

غزل | مرے وجود کا اب تک خیال رکھا ہے | نسیم عباسی

غزل

مرے وجود کا اب تک خیال رکھا ہے 

برتنے والے نے برتن سنبھال رکھا ہے 

کرو یہیں سے مرمت گری ہوئی دیوار 

کہ اس کے نیچے یتیموں کا مال رکھا ہے 

یہ اور بات کہ ہے ڈور ٹوٹنے والی 

کنوئیں میں ڈول تو پیاسے نے ڈال رکھا ہے 

 ذرا سی دیر لگے گی بدن کو گرنے میں 

زمیں نے گیند کو اوپر اچھال رکھا ہے 

جدید عہد کے شو کیس میں کوئی مجھ سا 

برائے دید بطورِ مثال رکھا ہے 

عجیب سمت نمائی سفر میں کی اس نے 

مرے جنوب کی جانب شمال رکھا ہے 

میں اس کو اپنا خدا ماننے پہ ہوں مجبور 

مرے ضمیر نے جو خوف پال رکھا ہے 

وہ ہاتھ اس کا کسی دوسرے کی جیب میں ہے 

جو اپنی جیب سے باہر نکال رکھا ہے 

میں پیاس مار کے چشموں سے لوٹ آیا ہوں 

نسیم دھوپ نے پانی ابال رکھا ہے 

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x