
کمرے میں ہلکی روشنی تھی۔ دیواروں پر وقت کی دھند جمی ہوئی تھی، اور کھڑکی کے باہر برگد کا درخت خاموش کھڑا تھا، جیسے برسوں سے کسی کا انتظار کر رہا ہو۔ بستر پر لیٹے بابا جی کی آنکھیں چھت پر جمی تھیں، مگر ان کی نظر کہیں اور تھی , ماضی کے کسی دھندلکے میں، جہاں ایک نرم ہاتھ ان کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہا تھا۔
بابا جی کا اصل نام کوئی نہیں جانتا تھا۔ ہم سب نرسیں انہیں بابا جی کہہ کر بلاتیں، اور وہ خاموشی سے مسکرا دیتے, ستر برس کے باباجی کی آنکھوں میں ایک ایسا بچہ چھپا تھا جو کبھی بڑا ہی نہیں ہوا۔
اسپتال میں نئی فزیوتھراپسٹ نوجوان زینب آئی اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی سنجیدگی تھی، جیسے وہ وقت سے پہلے بڑی ہو گئی ہو۔ جب اس نے پہلی بار بابا جی کے کندھے پر ہاتھ رکھا، تو وہ چونک گئے۔ یہ لمس… یہ تو وہی سکون تھا۔
آپ کو تکلیف تو نہیں ہو رہی ؟ زینب نے نرمی سے پوچھا تو بابا جی نے آنکھیں بند کر لیں۔ نہیں ، یہ تو… سکون ہے۔
زینب نے کچھ نہ کہا، بس مسکرا دی وہ جانتی تھی کہ کچھ زخم لفظوں سے نہیں، لمس سے بھرے جاتے ہیں۔
اگلے دنوں میں بابا جی کی طبیعت بہتر ہونے لگی۔ وہ زیادہ باتیں کرنے لگے کبھی اپنی بیوی کے قصے سناتے، کبھی بچپن کی شرارتیں زینب سنتی رہتی، جیسے وہ ان کہانیوں میں خود بھی شامل ہو۔
ایک دن، جب زینب نے ان کا ہاتھ تھاما، تو بابا جی کے گال گیلے ہوگئے۔ تم جانتی ہو، تمہاری انگلیوں میں بھی وہی مہک ہے۔
زینب نے ان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا۔ "شاید کچھ لمس وقت کے پار بھی زندہ رہتے ہیں
بابا جی نے دھیرے سے سر ہلایا, میں جب تمہارے پاس ہوتا ہوں، تو خود کو بچہ محسوس کرتا ہوں۔ جیسے وقت پیچھے چل پڑا ہو ۔
زینب نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے آہستگی سے کہا تو پھر بچہ بن جائیں۔ وقت کو تھوڑی دیر کے لیے بھول جائیں ۔
بابا جی نے آنکھیں بند کیں۔ ان کے ہونٹوں پر ایک ہلکی مسکراہٹ تھی، جیسے وہ کسی خواب میں داخل ہو گئے ہوں۔ ان کے ذہن میں ماں کی لوری گونج رہی تھی، اور وہ خود کو پھر سے اس گود میں محسوس کر رہے تھے جہاں ہر درد، ہر تنہائی، ہر خوف مٹ جاتا ہے۔
کمرے میں خاموشی تھی، مگر اس خاموشی میں ایک گہرا مکالمہ جاری تھا ایک ضعیف جسم اور ایک معصوم روح کے درمیان۔ زینب جانتی تھی کہ وہ صرف ایک معالج نہیں، ایک آئینہ ہے، جس میں بابا جی اپنے ماضی کی جھلک دیکھتے ہیں۔
دن گزرتے گئے۔ بابا جی کی صحت بہتر ہوئی، مگر ان کا دل زینب کے لمس کا عادی ہو چکا تھا۔ ایک دن، جب زینب نے بتایا کہ اس کی ٹریننگ مکمل ہو گئی ہے اور وہ اب کسی اور اسپتال میں جائے گی، تو بابا جی نے صرف اتنا کہا۔
بیٹی، اگر کبھی تمہیں ماں کی یاد آئے، تو جان لینا کہ تم کسی کے لیے وہ مہک بن چکی ہو۔
زینب کی آنکھوں میں نمی تھی۔ اس نے بابا جی کو سینے سے لگایا، اور وہ لمحہ وہ لمس وقت میں محفوظ ہو گیا ۔
زینب کے بعد کمرہ وہی تھا، روشنی وہی، دیواروں پر وقت کی وہی دھند… مگر کچھ بدل گیا تھا۔ برگد کے درخت کی شاخوں میں ہلکی ہلکی خاموش لرزش تھی ۔ جیسے کسی راز پر سرگوشی کر رہی ہوں ۔
بابا جی بستر پر نیم دراز تھے۔ ان کی آنکھیں بند تھیں، مگر اس بار وہ ماضی میں گم نہیں تھے۔ ان کے چہرے پر ایک ٹھہرا ہوا سکون تھا ۔ ایسا سکون جو جدائی کے بعد بھی باقی رہتا ہے ۔
حسبِ معمول صفائی کےدوران
میں نے پردہ سیدھا کرتے ہوئے پوچھا، بابا جی، کچھ کہا آپ نے ؟
انہوں نے آہستگی سے اپنی ہتھیلی کو دیکھا، جیسے ابھی بھی اس میں کسی نرم ہاتھ کی حرارت محفوظ ہو۔ ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی
” لمس چلا نہیں جاتا… بس جسم بدل لیتا ہے۔
کچھ لوگ زندگی میں ٹھہرتے نہیں، مگر ٹھہراؤ دے جاتے ہیں۔ شاید یاد نے دروازہ کھٹکھٹایا تھا ۔
کھڑکی سے آتی ہوا نے پردے کو ہلکی سی جنبش دی۔ کمرے کی خاموشی میں اب تنہائی نہیں تھی۔ جیسے کوئی ان دیکھا رشتہ دیواروں کے بیچ سانس لے رہا ہو۔
بابا جی نے آنکھیں بند کیں۔ اس بار ان کے ذہن میں صرف ماں کی لوری اور بیوی کی مہک نہ تھی بلکہ ایک نئی دعا بھی تھی ۔ کبھی کبھی، معالج صرف جسم نہیں سنوارتے وہ وقت کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو بھی جوڑ دیتے ہیں۔
وقت آگے بڑھ گیا تھا… مگر لمس، ہمیشہ کی طرح، اپنی جگہ قائم تھا۔




