ادبی خبریںرپورٹ

دسویں قومی اہل قلم کانفرس وقت کی اہم ضرورت /تحریر سیدہ عطرت بتول نقوی

 

دسویں قومی اہل قلم کانفرنس اس بار بابا بلھے شاہ کے شہر قصور میں منعقد کی گئی۔ بابا بلھے شاہ نے کہا تھا:
"بلھیا اسیں مرنا ناھیں گور پیا کوئی ہور”
اور واقعی ایسا ہی لگتا ہے۔ وہ زندہ ہیں، انہوں نے انسانیت کی بات کی، اعلی انسانی قدروں کی بات کی، اللہ رب العزت کی مخلوق کی بھلائی کی بات کی۔ اسی لیے وہ لوگوں کے دلوں اور ذہنوں میں زندہ ہیں۔ ایسے لوگ حیات جاودانی پاتے ہیں۔

میرا یہ خیال اس وقت اور پختہ ہوا جب میں نے قصور کی اخوت یونیورسٹی کا وزٹ کیا۔ یہ یونیورسٹی اتنی شاندار ہے، اتنا اچھا کام کر رہی ہے کہ اس کو قائم کرنے اور اس کا منصوبہ تیار کرنے والے یقینا حیات جاودانی پائیں گے۔ اس کا مقصد بہت بلند ہے: غریب بچوں کی اعلی تعلیم، بلاسود قرضے، اعلی نمبر حاصل کرنے والے لائق طلبا کی حوصلہ افزائی اور مدد، اور پھر اخوت ادارے کے تحت مستحق لوگوں کو کپڑوں کی فراہمی، مستحق بچیوں کو شادی کے کپڑوں کی فراہمی۔

ان سب سہولیات کے لیے ایک منظم سیٹ اپ تیار کرنے کا سہرا اخوت کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب کے سر ہے، جنہوں نے انتہائی درد مندی سے یہ سب کرنے کا سوچا اور کر دکھایا۔ اور ہمیں اخوت یونیورسٹی دکھانے اور ان سب منصوبوں سے متعارف کروانے کا سہرا شعیب مرزا کے سر ہے، جنہوں نے ڈاکٹر امجد ثاقب کی دعوت پر دسویں اہل قلم کانفرنس اخوت یونیورسٹی میں منعقد کی۔

یہ پندرہ فروری کا خوشگوار دن تھا جب ہم یونیورسٹی پہنچے۔ سنہری دھوپ پھیلی ہوئی تھی، وسیع و عریض یونیورسٹی بہت خوبصورت دکھائی دے رہی تھی۔ ایک منظم ماحول نظر آرہا تھا، کہیں بھی بد نظمی نہیں تھی۔ کہیں وسیع گرین لان کے کسی کارنر میں کوئی تقریب جاری تھی اور کہیں مختلف سیمینار ہالز میں مختلف پروگرامز ہو رہے تھے۔ یونیورسٹی کی خوبصورت عمارت میں بغیر شوروغل مختلف پروگرامز چل رہے تھے، عملہ مستعد تھا اور فضا میں موجود نظم و ضبط محسوس کیا جا سکتا تھا۔

جب ہم اہل قلم کانفرنس والے ہال میں پہنچے تو تقریباً سب مدعوین تشریف لا چکے تھے۔ ہم نے بھی اپنی نشست سنبھال لی۔ پہلے سیشن کی صدارت ڈاکٹر امجد ثاقب نے کی۔ انہوں نے کہا کہ اہل قلم معاشرے میں موجود غربت اور جہالت، معاشی ناہمواریوں کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اخوت ادارے کی ابتدا ایک مستحق خاتون کو دس ہزار قرض دینے سے ہوئی تھی، اور جب وہ قرض واپس ہوا تو اسی سے یہ کار خیر کا سلسلہ قائم رکھنے کی سوچ پیدا ہوئی۔

کانفرنس کے دوسرے سیشنز کی صدارت تسنیم جعفری، مسرت کلانچوی، ڈاکٹر شاہدہ رسول، ڈاکٹر فوزیہ سعید، ساجدہ حنیف، عظمی زریں نازیہ، بینا گوئیندی اور دیگر مہمان مقررین نے کی۔ اس موقع پر ایوارڈز بھی دیے گئے۔ تسنیم جعفری نے ڈاکٹر امجد ثاقب کو ایکسلینس ایوارڈ پیش کیا، یہ ایوارڈ سات ادیبوں کو دیا گیا۔ شعیب مرزا کو دس کانفرنسز کامیابی سے منعقد کرنے پر سپیشل تسنیم جعفری کیش ایوارڈ سے نوازا گیا۔

مسرت کلانچوی نے اپنے والد پروفیسر دلشاد کلانچوی کی یاد میں پروفیسر دلشاد کلانچوی کیش ایوارڈ کنول بہزاد اور دو دیگر اہل قلم کو پیش کیا۔ مسرت کلانچوی صاحبہ نے بتایا کہ ان کے والد درجن سے زائد کتابوں کے مصنف تھے اور کئی سرکاری و غیر سرکاری ایوارڈز حاصل کرچکے تھے۔ اس موقع پر فاؤنٹین ہاؤس کے سربراہ ڈاکٹر عمران مرتضی کی طرف سے بھی ایوارڈز دئیے گئے۔ معمار وطن ایوارڈ ڈاکٹر فوزیہ سعید اور تسنیم جعفری کو دیا گیا۔ اکادمی ادبیات اطفال کی طرف سے بھی تسنیم جعفری کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ شفیق جنجوعہ کیش ایوارڈ شمیم عارف نے حاصل کیا، جو انہوں نے بچوں کی فلاح و بہبود کے کام کے لیے شعیب مرزا کو نذر کر دیا۔

تمام اہل قلم کی پذیرائی کی گئی، شرکاء کو اکادمی ادبیات اطفال اور پھول میگزین کی طرف سے ایوارڈز اور سرٹیفیکیٹس دیے گئے۔ مدعوین چاروں صوبوں سے آئے تھے۔ اہل قلم کے لیے بہترین لنچ اور چائے کا انتظام بھی کیا گیا۔

یہ ایک یادگار کانفرنس تھی جس میں سیکھنے کے لیے بہت کچھ تھا۔ بہترین شخصیات مقررین میں شامل تھیں۔ ڈاکٹر فوزیہ سعید نے تھلیسمیا کے بچوں کے مسائل بہت درد مندی سے بیان کیے اور بینا گوئیندی کا خطاب بھی بہت معلوماتی اور مؤثر تھا۔ کانفرنس کامیابی سے منعقد کروانے پر شعیب مرزا صاحب کو بہت مبارکباد، اور ڈاکٹر امجد ثاقب کے کاز کے لیے نیک خواہشات اور دعائیں۔

 

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

1 Comment
Inline Feedbacks
View all comments
Shoaib mirza
Shoaib mirza
15 seconds ago

بہت خوب لکھا
بہت شکریہ

Related Articles

Back to top button
1
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x