
ناصر کے ذہن کے کباڑ خانے میں کہانیوں کاایک انبار تھا جو ختم ہونے میں ہی نہ آتا تھا۔ لکھنے کے شوق نے ساری زندگی اُسے ڈھنگ کا کوئی کام کرنے نہ دیا اور وہ اپنی کہانیاں تخلیق کر کر کے اپنے اردگرد ڈھیر کرتا رہا۔پڑھنے کی عمر میں وہ ایک لائق طالب علم رہا مگر انٹر میڈیٹ میں اچھے نمبروں کے باوجود وہ یونیورسٹی جانے کا صرف خواب ہی دیکھ سکا جس کی تعبیر کی راہ میں غربت ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح آڑے آگئی تھی۔ بارُسوخ حوالوں کے فقدان، چاپلوسی کی صلاحیت کا مفقود ہونا، غربت کی فراوانی اور زمانے کی چلتر بازیوں سے بے خبری کی وجہ سے اس کی تخلیق کردہ کہانیوں کے صفحات کے مقدر میں دیمک کا رزق بننا ہی لکھا تھا۔ ماں باپ تو عرصہ ہوا داعی اجل کو لبیک کہہ چکے تھے،دو بھائیوں اور ایک بہن نے جیسے تیسے اپنے جینے کی راہ متعین کی اور ناصر کو بوجھ سمجھتے ہوئے اُس سے کنارہ کشی میں ہی بہتری جانی۔ رہ گئے گنے چنے عزیز و اقارب۔۔۔ تو بھی ایسے کنی کترانے لگے جیسے روٹی کسی مفلوک الحال سے کوسوں دور رہتی ہے۔ اب ایسے عالم میں ناصر کا اپنی شادی کے بارے میں سوچنا بھی ناممکن تھا۔ در بدر ہونے کی وجہ سے بھری جوانی کو بھی گھن لگ چکا تھا۔ کوئی ڈھنگ کی مزدوری بھی تو نہیں کر سکتا تھا۔
ایک دِن نجانے کیا سوجھی کہ سٹرک کنارے ایک چارٹ پر ” کہانیوں کا کباڑ خانہ” جلی حروف میں لکھ کر ٹوٹے ہوئے سٹول پر بیٹھ گیا۔ "شاہکار کہانیاں ردی کے بھاو” کی عبارت پر پہلے تو کسی نے دھیان نہ دیا مگر رفتہ رفتہ راہگیر متوجہ ہونا شروع ہوئے۔کچھ حیرت زدہ ہوئے، کچھ نے گتمسخر آمیز نظروں سے دیکھا، کچھ سر جھٹک کر چلتے بنے تو کچھ نے فلسفیانہ انداز میں اُس کی شخصیت کو جانچنے کی کوشش کی۔ یہ تماشاشروع کیے کچھ ہی دن گزرے تھے کہ ایک منحنی ادھیڑ عمر آدمی اُس کی طرف بڑھا۔۔۔” کیسی کہانیاں ہیں تمہارے پاس؟” اس استفسار نے ناصر کو خاصا حوصلہ دیا اُس نے اُس آدمی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیا، ” ایک دم شہکار، معیاری اور حسبِ ضرورت”۔ آدمی کا اشتیاق بڑھا۔ایک معروف ادبی حلقے کا ممبر ہونے کے باوجود وہ کبھی قابلِ ذکر کہانی پیش نہیں کر سکا تھا۔ ناصر کی صورت میں اس کو امید کی ایک کرن نظر آئی۔۔۔۔” کل ہمارے ادبی حلقے کا اجلاس ہے مجھے کہانی لکھ کر دو گے”۔۔۔ ناصر نے فوراً حامی بھری اور کاغذ پر اُسے دکھانے کے لیے قلم گھسیٹنے لگا کیونکہ کہانی تو پہلے سے تیار موجود تھی۔ آدھے گھنٹے بعد وہی آدمی ناصر سے دوبارہ ملا۔ناصر کی لکھی کہانی پڑھی اور خوشی سے اچھل کر رہ گیا۔ ایک ایسے مفلس انسان کی بپتا تھی جس کو اپنی کایا پلٹنے کا شدت سے انتظار تھا اور جب قسمت نے یاوری کی تواُسے زندگی دغا دے گئی۔منحنی ادھیڑ عمر آدمی نے خوشی خوشی ادائیگی کی اور اپنی راہ ناپی۔
اگلے دِن ایک ایک سوٹڈ بوٹڈ شخص اُس کے پاس آیا اور کہا کہ وہ ایک این جی او کا عہدیدار ہے اور اپنی تنظیم کے اغراض و مقاصد سے میل کھاتی ایک شاندار کہانی چاہیے۔درحقیقت ایک دردانگیز افسانہ کی تشیہر کے ذریعے وہ موقر اداروں اور مخیر افراد سے فنڈز بٹورنے کا خواہش مند تھا۔ ناصر نے اُس کو ایک ایسے بچے کی المناک کہانی لکھ کر دی جو بچپن میں جنسی زیادتی کا شکار رہا اور ساری زندگی خوف کے مہیب سائے میں رہ کر اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کو پروان نہ چڑھا سکا یوں ایک پھول بن کھلے مرجھا گیا اور معاشرے کو ایک جوہر قابل سے محرومی کا ناقابلِ تلافی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس مواد کو پیش کر کے وہ شخص اپنی تنظیم کے منشور میں جنسی زیادتی کے شکار بچوں کی بحالی کے پروگرام کا نام لے کر اچھے خاصے فنڈ اکھٹے کر سکتا تھا۔ اُس نے بھی خوشی خوشی ناصر کو منہ مانگی قیمت دی اور چلتا بنا۔
بیوپار کا سلسلہ چل نکلا۔ ناصر نے سڑک سے اُٹھ کر ایک چھوٹے سے کھوکھے کو اپنا مسکن بنا لیا۔ ایک دن یونیورسٹی کی ایک طالبہ اُس کے پاس آئی اور بے یقینی کے ساتھ اس سے ایک ایسی کہانی لکھنے کی فرمائش کی جو اس کی یونیورسٹی کے کہانی نویسی کے مقابلے میں نمایاں پوزیشن حاصل کر سکے۔ اس طرح اُس کو انعامی رقم ملنے کے ساتھ ساتھ اپنے خاندان اور ہم جماعتوں پر اپنی ادبی دھاک بٹھانے کا موقع مل جاتا۔ ناصر نے اُس کو ایک ایسی دکھی ماں کی کہانی لکھ کر دی جو اپنے لختِ جگر کو کسی اعلیٰ مقام پر فائز دیکھنے کی آرزو میں زمانے بھر کی دھتکارسمیٹتی رہی مگر اُس کے ہونہار فرزند کو تعلیم کا سلسلہ انٹر کے بعد موقوف کرنا پڑا کیونکہ مناسب تعلیم کے لیے جن اسباب کی ضرورت ہوتی ہے اُس کا خاندان اُن سے یکسر محروم تھا۔ یوں ایک ماں کے ارمانوں کا خون ہونے کے ساتھ ساتھ اُس بچے کی قابلیت کا چراغ بھی گُل ہو گیا۔اس روگ نے بیچاری ماں کو ایک موذی مرض میں مبتلا کر دیا۔وہ بیٹا اپنی ماں کو کسمپرسی کی حالت میں زندگی سے دور جاتے دیکھ کر کچھ بھی تو نہ کر سکا۔طالبہ نے مٹھی میں جکڑی ہوئی رقم ناصر کے حوالے کی اور شاداں و فرحاں واپس لوٹ گئی۔دِن یونہی گزرتے رہے اور ناصر نے ایک نسبتاً کشادہ دکان میں اپنا دفتر جما لیا۔
ایک مذہبی تنظیم کے نمائندے نے ناصر کو ایک ایسی بپتا لکھ کر دینے کا کہا جس میں عبرت کا سامان ہو۔ اصل میں وہ مذہبی رہنما کہانی ایک حکایت کی صورت میں اپنے آئندہ اجتماع میں پیش کر کے سامعین کو متاثر کرنے کا خواہاں تھا۔ ناصر نے ایک ایسے شخص کی کہانی اتنے شاندار الفاظ میں بیان کی جس نے اُس نمائندے کا دل موہ لیا۔ایک باپ اپنی اکلوتی بیٹی کی ہر خواہش پوری کرنے کے چکر میں اپنے سرکاری عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھانے لگا اور کرپشن کرتے ہوئے اُس حد تک جا پہنچا جہاں سے اُس کی واپسی ناممکن تھی۔ بالاخر اُس کی بدعنوانیوں کا بھانڈا پھُوٹ گیا اور وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے جا پہنچا۔ جس بیٹی کے لیے اُس نے یہ سب کیا وہ ہی اپنے بدعنوان باپ سے گھن کھانے لگی اور اُس کی شکل تک دیکھنے کی روا دار نہ تھی۔مذہبی رہنما نے کہانی پڑھ کر ناصر کو اس کی فیس کے ساتھ ساتھ داد بھی دی۔ وہ اس میں اپنے خطیبانہ جملوں کا تڑکا لگا کر لوگوں کی ہمدردیاں سمیٹنے کا سوچنے لگا۔
ناکام ڈرامہ نگاروں، ناولوں کے نام نہاد مصنفین، عوام میں مقبولیت حاصل کرنے کے خواہشمند سیاستدان، طرم خان قسم کے موٹیویشنل سپیکر، ادبی اداروں کے سربراہان کی توجہ حاصل کرنے کے خبط میں مبتلا خواتین و حضرات غرضیکہ مختلف شعبہ ہائے زندگی کے افراد ناصر سے بھانت بھانت کی کہانیاں لکھوانے لگے۔ ناصر سڑک چھاپ لکھاری سے ترقی کرتے کرتے ایسے تمام افراد کی آنکھ کا تارا بن گیا۔ ایک دِن ایسے ہی ایک ضرورت مند نے اپنی غرض پوری ہونے کے بعد اس سے سرسری سا پوچھا کہ وہ اپنے نام سے ان کہانیوں کو کیوں شائع نہیں کرواتا۔ جواب میں ناصر نے صرف مسکرانے پر اکتفا کیا مگرتلخی سے سوچے بنا نہ رہ سکا۔۔۔۔
"پیٹ کا دوزخ ستائش کے رزق سے کب بھرتا ہے! "




