اُردو نثراسلامک بلاگبلاگ / کالمز

صفائی ستھرائی/ کلثوم پارس

” رمضان کا مہینہ آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔”( صحیح بخاری899)
جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے ہم ان خوش نصیب لوگوں میں شامل ہیں جنہیں یہ تیاریاں نصیب ہو رہی ہیں اور اگر اللہ نے چاہا تو رمضان کی رحمتیں ،برکتیں اور سعادتیں سمیٹنے کا موقع بھی ملے گا۔ ہم میں سے بہت سارے لوگ ایسے بھی ہیں جو پچھلے سال ہمارے ساتھ موجود تھے مگر آج نہیں ہیں۔ ہماری یہ خوش بختی ہے کہ ہمیں استقبالِ رمضان کی سعادت نصیب ہو رہی ہے۔
جیسا کہ سب کے علم میں ہے کہ اگر کسی گھر میں مہمانوں کا آنا ہو تو کیسے اس گھر کی ہر ہر چیز کو خوبصورتی سے سجایا جاتا ہے گھر کی ہر شے کو آپ کی جگہ پہ رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بیڈ شیٹس تبدیل کی جاتی ہیں حتی کہ باتھ روم اور واش روم کی صفائی کا خاص طور پر خیال رکھا جاتا ہے۔ ہم لوگ خود اپنی تیاری پر بھی خاص توجہ دیتے ہیں۔ بالکل اسی طرح رمضان کا مہینہ بھی مہمان بن کر آ رہا ہے۔ "گنتی کے چند دن ” تو کیوں نہ اس کے لیے بھی تیاریاں کی جائیں استقبالِ رمضان کیا جائے.
مگر کیسے ؟؟؟
سب سے پہلے صفائی کا کام اپنے دل سے شروع کرتے ہیں اب آپ کہیں گے کہ دل کی صفائی کیسے کریں۔
جس طرح لوہے پر زنگ لگ جاتا ہے بالکل اسی طرح گناہوں کی کثرت سے دلوں پر بھی زنگ لگ جاتا ہے اور اس زنگ کو اتارنے کا بہترین نسخہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ذکر ہے۔
جیسا کہ قرآن مجید میں ہے
"دلوں کا سکون تو اللہ کے ذکر میں ہے۔”
اب دوسرا کام جو کرنے والا ہے وہ ہے۔۔۔۔ دل کو حسد, بغض، نفرت، کدورت اور کینہ سے پاک کرنا۔ کسی کے بارے میں دل میں بدگمانی ہے تو اسے دور کر کے آگے بڑھیں۔ کسی سے لڑائی کی ہے تو صلح کر لیں۔۔۔۔ کسی کے بارے میں دل میں نفرت ہے تو نکال دیں۔۔۔۔۔ کوئی دشمنی ہے تو ختم کر دیں۔ اور اس سلسلے میں خود پہل کریں۔ دوسروں سے انا کی جنگ جیتنے کی بجائے انا کو قربان کر دیں۔ جب ہمارے جسم کو کوئی بیماری لگتی ہے تو ہم بڑے سے بڑے طبیب کے پاس جا کر علاج کرواتے ہیں اور اس بیماری پر کسی بھی قیمت پر نجات چاہتے ہیں اور تندرست و توانا زندگی کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ ہم کیسے لوگ ہیں؟ جسم کی آرائش و زیبائش پر تو بہت توجہ دیتے ہیں مگر روح کی بیماریوں کو ٹھیک کرنے کی بالکل کوشش نہیں کرتے اور نہ ہی اس کے حُسن سے ہمیں کوئی سروکار ہے۔ جھوٹی انا کو قربان کر کے روح کی ان بیماریوں سے پیچھا چھڑایا جا سکتا ہے۔

یہ تو تھی دل کی صفائی۔۔۔۔ اب کرتے ہیں گھر کی صفائی کی بات رمضان المبارک کی آمد سے پہلے گھر کی صفائی کا اہتمام کر لیا جائے، جالے اتار لیے جائیں ،کونوں کھدروں، اور کیبنٹس کو صاف کر لیا جائے الماریوں میں جو فالتو کپڑے ہیں جنہیں پہنے ہمیں عرصہ گزر گیا ہے غریبوں کو دے دیے جائیں تاکہ الماریاں بیچاری بھی سکھ کا سانس لیں۔ فالتو جوتے ،جیولری اس سال سب نکال دیں اور جو نہیں خرید سکتے انہیں اچھے طریقے سے پیک کر کے تحفے میں دے دیں اللہ آپ کو اور دے گا۔ باورچی خانے کی صفائی خوب اچھی طرح کر لی جائے تاکہ پورا رمضان آسانی سے گزر سکے یہ سوچے بغیر کہ عید کے قریب گھر کی صفائی کرنی ہے اور پتا چلے کہ طاق راتیں انہیں صفائیوں کی نذر ہو گئی ہیں۔
بحثیت مسلمان تمام مردو زن صدقے کی اہمیت سے خوب واقف ہیں تو کیوں نہ صدیقہ وخیرات کے سلسلے کو پہلے سے زیادہ اچھے طریقے سے شروع کیا جائے۔ ہماری پیارے نبی آخری الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم خصوصاً رمضان المبارک میں خوب کثرت سے صدیقہ وخیرات کیا کرتے تھے تو ہم سب کو بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ پہ عمل کرتے ہوئے زکوٰۃ و صدقات کو رمضان سے پہلے اور روزوں کے دوران ان مستحقین اور غرباء تک پہنچانے کی سعی کرنی ہے تاکہ ان کے گھر کا چولہا باعزت طریقے سے روشن ہو سکے۔
خصوصاً غریب رشتہ دار ,پڑوسی, یتیم بچے ,بیوائیں ,اور سفید پوش لوگ ہمارے ان صدقات و خیرات کے زیادہ حقدار ہیں۔
ہم سب اپنے مفاد کی خاطر اکثر کہتے ہیں "زمانہ بدل گیا ہے۔”
کیا ہم نے خود کو زمانے کے ساتھ بدلا ہے ؟؟؟ یہ سوال اپنے آپ سے کرنے والا ہے۔ آج کل ہر طرح کی معلومات سوشل میڈیا پر موجود ہے کیا ہم نے اس کو دیکھ کر یا سن کر اپنی ذات میں تبدیلی لانے کی کوشش کی ہے اگر کی ہے تو بہت اچھی بات ہے اور اگر نہیں کی تو آج سے شروع کر دیں۔
کچھ قربانی دے کر ،کسی کو اچھا مشورہ دے کر ، اپنی انا کو مات دے کر، اپنی بے لگام خواہشوں کو لگام ڈال کر۔ کسی کو تحفے میں چند روپے ،کپڑے جوتے دے کر اجر کمایا جا سکتا ہے۔ ضروری نہیں تحفہ بہت مہنگا ہو سستا تحفہ بھی تحفہ ہی ہوتا ہے بس دینے والے کا خلوص شامل ہونا چاہیے۔

آپ کوئی اسلامی کتاب ، کوئی شاعری کی کتاب کوئی ناول یا افسانوی مجموعہ یا دعاؤں کی کتاب دے کر بھی دوستوں سے دعائیں سمیٹ سکتے ہیں۔ اس سے کتاب بینی کا رجحان بھی بڑھے گا۔
دورانِ رمضان اپنا سکرین ٹائم بہت کم کر دیں زیادہ سے زیادہ وقت عبادت میں گزاریں کیونکہ فرمانِ الٰہی ہے
"روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ ”
اپنا احتساب کرنا چاہیے کہ پچھلے رمضان ہم سے کیا کوتاہیاں ہوئیں جو اس رمضان نہ ہوں۔ چھوٹے چھوٹے اور بڑے گناہوں سے پیچھا چھڑاتے ہوئے اللہ کی ناراضگی سے بچنے کو ہی تقوی کہتے ہیں۔ ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر عمل کر کے ہم اللہ کے محبوب بندے بن سکتے ہیں۔
تو پھر کیا خیال ہے صفائی شروع کریں
دل کی بھی اور گھر بھی۔

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x