غزل
غزل | ہم سے بھی کوئی پوچھتا نقصان ہمارا | فیصل محمود

غزل
ہم سے بھی کوئی پوچھتا نقصان ہمارا
میلے میں کہیں کھو گیا انسان ہمارا
جیسے کسی آسیب کا سایہ ہو یہاں پر
گھر ایسا نہیں تھا کبھی ویران ہمارا
آنکھوں میں کہیں ٹوٹے ہوئے خواب پڑے ہیں
سینے میں کہیں دفن ہے ارمان ہمارا
ہم لوگ محبت میں گرفتار ہوئے تھے
اب ساتھ لیے پھرتے ہیں زندان ہمارا
جیسے کسی آسیب کا سایہ ہو یہاں پر
گھر ایسا نہیں تھا کبھی ویران ہمارا
وہ شخص تو اک روز خدا ہو ہی چلا تھا
خطرے میں پڑا تھا کبھی ایمان ہمارا




