غزل
غزل | پوچھیں گے مستزاد خسارے فقیر سے | اسد رحمان

غزل
پوچھیں گے مستزاد خسارے فقیر سے
جو چھین لے گئے ہیں سہارے فقیر سے
قبلہ درست کر دیا سب کا بَہ یَک نظر
کچھ منحرف ہوئے تھے ستارے فقیر سے
پوچھاکیے تھا میں کبھی لوگوں سےتیرا حال
اب پوچھتے ہیں سب ترے بارے فقیر سے
رکھتا ہے اپنے اشک دل و جان سے عزیز
گِرتے نہیں زمیں پہ سِپارے فقیر سے
حیرت ہے اہلِ ثروت و جاگیر پر مجھے
جلتے ہیں ایسے لوگ تمہارے فقیر سے
وہ آنکھ ملتفت ہوئی تو مہربان ہیں
رُوٹھے تھے جس قدر بھی نظارے فقیر سے
تعویذ اُس کو چاہیے اک اور بھی مگر
کہتی نہیں ہے لاج کے مارے، فقیر سے




