نظم
میں اکیسویں صدی کا انسان ہوں | ساجد علی امیر
میں اکیسویں صدی کا انسان ہوں
میں خاک ہوں
مجھ میں
ہوا آگ اور پانی سمایا ہے
تم دیکھتے نہیں ہو
پانی پر تیرتا ہوں
ہواوں میں اڑتا ہوں
ہاتھوں میں آگ لیے پھرتا ہوں
جب چاہوں
جہاں چاہوں
لگا دیتا ہوں
جلا دیتا ہوں
اڑا دیتا ہوں
پل بھر میں
کیا سے کپا بنا دیتا ہوں
میں اکیسویں صدی کا انسان ہوں
جب کبھی جشن منانا ہو
کوئی شرلی پٹاخہ چلانا ہو
اپنے جسم میں
بارود بھر لیتا ہوں
خود کو گولہ کر لیتا ہوں
بھر پور
ہنگامہ ہوتا
مرا وجود
جداجدا ہوتا ہے
سیاہ بادل چھا جاتے ہیں
سرخ
بارش ہوتی ہے
کل خلقت روتی ہے
میں اکیسویں صدی کا انسان ہوں




