غزل
غزل | کچھ بھی ہونے کا مجھ کو ڈر کم ہے | محمد عامر اعوان
غزل
کچھ بھی ہونے کا مجھ کو ڈر کم ہے
شکر ہے دور کی نظر کم ہے
میرے اپنے معانی ہوتے ہیں
ویسے دنیا کو مختصر کم ہے
میرا تصویر سے معاملہ ہے
مجھے دیوار کی خبر کم ہے
ہم توازن سے اڑ نہیں سکتے
ہم پرندوں کا ایک پر کم ہے
سوچنے والے کا دماغ نہیں
دیکھنے والے کی نظر کم ہے
Author
URL Copied



