”یا اخی“ ایک شعری ندا | ڈاکٹر رفیق سندیلوی
”یا اخی“ ایک شعری ندا | ڈاکٹر رفیق سندیلوی
پہلے عابد رضا کی یہ غزل دیکھیں جو اس مضمون کو لکھنے کا محرک بنی :
پھر کوئی معرکہ ، منتظر ہے ترا ، یا اخی ، تازہ دم
کھینچ لے تیغ اپنی ، اٹھا لے سِپر ، یا اخی ، کم سے کم
دیکھ اب اس قدیمی رَصَد گاہ سے شہرِ جاں کی طرف
چاند کی آسمانی گزرگاہ کے ، یا اخی ، زیر و بم
اک پری زاد بد روح نکلی تھی آدم کی زنبیل سے
یہ جو مصنوعی دانش ڈراتی ہے اب ، یا اخی ، دم بہ دم
کیا کروں ، مجھ پہ کُھلتی نہیں آیتیں ، پردۂِ غیب سے
میری نظروں میں بس میرا ٹِک ٹاک ہے ، یااخی ، جامِ جم
اس گزر گاہ پر تیرا مُشکی ہے اور میرا سیارچہ
دشتِ ظلماتِ شب میں خلائی سفر ، یا اخی ، ہم قدم
نامہ لکھنے کو قرطاس و خامہ کہاں ، روشنائی کہاں
فون کی لوح پر انگلیاں ہو گئیں ، یا اخی ، اب قلم
وہ جو مومن تھے سینے سے اپنے بتوں کو لگاتے رہے
ہم تو کافر رہے مدتوں سے مگر ، یا اخی ، بے صنم
بس وہی ایک غم جو ملا ہے وراثت میں سادات کی
اور اس کے سوا تُو نہ دیکھے کوئی ، یا اخی ، رنج و غم
عابد رضا کی یہ غزل بظاہر غیر مردّف ہے لیکن ہر مصرعِ ثانی میں "یا اخی” کا اعادہ کیا گیا ہے جیسے شاعر نے شعوری طور پر ردیف کو اپنی اصل جگہ سے ہٹا کر اس کے گرد ایک نئی صوتی فضا پیدا کر دی ہو۔ "یا اخی” کی یہ تکرار روایتی معنوں میں ردیف نہیں رہی بلکہ ایک داخلی سرگوشی، ایک روحانی صدا بن گئی ہے جو ہر شعر کے اختتام پر نہیں، بیچ میں قافیے سے قبل گونجتی ہے۔ یوں غزل ایک مسلسل خطاب کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے شاعر خود سے، قاری سے یا پوری انسانیت سے کسی گہرے ربط میں گفتگو کر رہا ہو۔ یہ خطاب صرف نحوی یا صوتی نہیں، فکری طور پر بھی ایک دھڑکن کے مانند ہے جو غزل کے متن میں سنائی دیتی ہے۔
یہی وہ تجربہ ہے جو غزل کو قدیم اور جدید دونوں جہتوں میں کھڑا کرتا ہے۔ ایک طرف اس کی زبان میں کلاسیکی آہنگ ہے۔ معرکہ، تیغ، سپر، شہرِ جاں، پردۂِ غیب، جامِ جم، یہ سب الفاظ و مرکبات کسی روحانی یا رزمیاتی غزل کے نشانات ہیں لیکن دوسری طرف انہی کے بیچ میں جب "مصنوعی دانش”، "فون کی لوح”، "ٹک ٹاک” اور "سیارچہ” جیسے مظاہر داخل ہوتے ہیں تو ایک حیرت انگیز تضاد جنم لیتا ہے۔ شاعر اس تضاد کو توڑتا نہیں، اس سے نئی معنویت پیدا کرتا ہے۔ غور کیجئے تو قدیم و جدید کا یہ آمیزہ ایک شعوری تہہ بن جاتا ہے جیسے صدیوں پرانی روح ایک ڈیجیٹل بدن میں سانس لے رہی ہو۔ اہم بات یہ ہے کہ شاعر دونوں عوالم کو باہم ملاتے کے بجائے ان کے درمیان فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے معنی تخلیق کرتا ہے۔ "یا اخی” کی تکرار اسی فاصلے کی گونج ہے یا یوں جانیے کہ یہ ایک ایسا پُل ہے جو وجودی خلا کے اوپر بنا ہوا ہے۔ "پری زاد بد روح” اور "مصنوعی دانش” کا استعارہ انسان کی اپنی تخلیق سے خوف کی علامت ہے اور "میری نظروں میں بس میرا ٹک ٹاک ہے، یا اخی، جامِ جم” میں یہ خوف خود پرستی اور سطحیت میں بدل جاتا ہے۔ یہ مصرع دراصل ایک تہذیبی طنز ہے؛ اصلاً عرفان کا جامِ جم اب اسکرین کی روشنی میں تحلیل ہو گیا ہے۔
غزل کے آخری اشعار میں شاعر اس تمام جدلیات کو وجودی کرب میں سمیٹ دیتا ہے۔ "ہم تو کافر رہے مدتّوں سے مگر، یا اخی، بے صنم” میں مذہبی، فکری اور نفسیاتی سطحوں کا ایک گہرا باہمی تفاعل نظر آتا ہے جیسے شاعر کسی گمشدہ مرکز کی تلاش میں ہے مگر اس کی تلاش میں بھی ایک تسلیم ہے۔ یہی جدید انسان کی سب سے بڑی علامت ہے کہ وہ اپنے ایمان اور انکار دونوں کے درمیان معلّق ہے۔ یوں یہ غزل ایک جدید تجربہ بھی بن جاتی ہے اور غزل کے بیانیہ امکانات کی نئی قرأت بھی۔ "یا اخی” یہاں ایک ندائیہ مرکّب ہی نہیں، ایک داخلی صدائے بازگشت ہے۔۔۔۔ روایت اور جدیدیت، ایمان اور شک، روح اور مشین کے بیچ ایک رابطہ۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں اردو غزل خود کو نئے زمانے میں دریافت کرتی ہے اور اسی دریافت میں اس کی تازگی، اس کا طلسم اور اور اس کی معنوی بقا پوشیدہ ہے۔
"یا اخی” ایک ایسا ندائیہ ہے جو مجھے مظفر حنفی کی غزلوں کے مجموعے "یا اخی”) 1997ء) کی یاد دلاتا ہے اور اس کے ایک شعر کی بھی جو میرے حافظے میں اب تک محفوظ ہے:
یا اخی یا اخی پُکارتا ہوں
ہے کوئی تیر مارے والا
تاہم موضوع کی مناسبت سے میری توجہ کا محور عرفان صدیقی کی وہ مشہور غزل ہے جس میں یہ مرکّب ردیف کے طور پر ایک بنیادی حہت رکھتا ہے۔ اگر عابد رضا من و عن اسی حہت میں غزل کہتے تو ان کی غزل ردیف کی موروثی معنویت کے نیچے دب جاتی اور اس صوفیانہ روایت کی بازگفت قرار پاتی جو عرفان صدیقی سے مخصوص ہے۔ عابد رضا کا پیشرفت یہ ہے کہ انہوں نے اس مرکّب کو ردیف کی روایتی وابستگی سے نجات تو دلائی ہے لیکن اسے مکمل طور پر آزاد نہیں کیا کہ وہ شعر کے اندر اپنی مرضی کی کسی بھی جگہ پر متحرک ہو سکتا تاہم مصرعوں کے اندر ایک طے شدہ مقام پر اس کا تعیّن بھی ایک شعوری بغاوت ہے یا کم از کم اپنی تخلیقی خودمختاری کا اعلان ضرور ہے۔ نتیجتاً جگہ کی یہ تبدیلی "یا اخی” کی ندا کو ایک ایسا "آزاد مرکز” بناتی ہے جو ترکِ ردیف کے باوجود قاری کو خود بخود ردیف کے مقام پر لے جانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یوں اس کی فکری گردش اور مکالماتی طاقت زیادہ عصری محسوس ہوتی ہے۔ عرفان صدیقی کے ہاں یہ وجد و التجا کی علامت تھی جبکہ عابد رضا کے ہاں یہ عقلِ انسانی اور اس کے جدید شعور کا سوال بن جاتی ہے۔ کیسے؟ اس اجمال کی تفصیل میں جانا بہت ضروری ہے تاکہ دونوں شاعروں کے "یا اخی” کا تقابل بھی ہو سکے۔ لگے ہاتھوں عرفان صدیقی کی غزل پر بھی ایک نظر ڈال لیں:
تم ہمیں ایک دن دشت میں چھوڑ کر چل دئے تھے تمہیں کیا خبر یا اخی
کتنے موسم لگے ہیں ہمارے بدن پر نکلنے میں یہ بال و پر یا اخی
شب گزیدہ دیاروں کے ناقہ سواروں میں مہتاب چہرہ تمہارا نہ تھا
خاک میں مل گئے راہ تکتے ہوئے سب خمیدہ کمر بام و در یا اخی
جنگ کا فیصلہ ہو چکا ہے تو پھر میرے دل کی کمیں گاہ میں کون ہے
اک شقی کاٹتا ہے طنابیں مرے خیمۂ خواب کی رات بھر یا اخی
یہ بھی اچھا ہوا تم اس آشوب سے اپنے سرسبز بازو بچا لے گئے
یوں بھی کوئے زیاں میں لگانا ہی تھا ہم کو اپنے لہو کا شجر یا اخی
نہر اس شہر کی بھی بہت مہرباں ہے مگر اپنا رہوار مت روکنا
ہجرتوں کے مقدر میں باقی نہیں اب کوئی قریۂ معتبر یا اخی
زرد پتوں کے ٹھنڈے بدن اپنے ہاتھوں پہ لے کر ہوا نے شجر سے کہا
اگلے موسم میں تجھ پر نئے برگ و بار آئیں گے تب تلک صبر کر یا اخی
عرفان صدیقی کی غزل میں "یا اخی” محض ایک ندائیہ مرکب نہیں بلکہ ایک زندہ اور دھڑکتا ہوا کردار بن کر ابھرتا ہے۔ یہ کردار کسی خارجی وجود کی نمائندگی نہیں کرتا بلکہ شاعر کے اندر کے مکالمے، اس کے روحانی ہمزاد اور باطنی رفیق کا استعارہ ہے۔ عرفان صدیقی نے اس پکار کے ذریعے ایک ایسا ہم سفر تخلیق کیا ہے جو بظاہر غائب ہے مگر غزل کی فضا میں ہر لمحہ موجود رہتا ہے۔ "یا اخی” ایک غیاب کی صدا ہے، ایک روحانی گمشدگی کا احساس ہے جس میں رفاقت کے تمام امکانات تحلیل ہو چکے ہیں مگر یاد کی روشنی ابھی بجھی نہیں۔ جب شاعر کہتا ہے کہ “تم ہمیں ایک دن دشت میں چھوڑ کر چل دیے تھے، تمہیں کیا خبر یا اخی” تو یہ مصرعہ محض جدائی کی بات نہیں کرتا، اس باطنی خلا کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں روحانی تعلق ٹوٹ چکا ہے مگر اس کا سایہ اب بھی قائم ہے۔ اس ایک پکار میں ماضی کی رفاقت کا نوحہ بھی ہے، فنا کے سفر کا اقرار بھی اور تقدیر کو تسلیم کرنے کی نرمی بھی۔ "یا اخی” دراصل اس ہم سفر کا نام ہے جو کبھی شاعر کے ساتھ دشتِ وجود میں گرداں تھا اور اب اس کے اندر کی ویرانی میں تحلیل ہو چکا ہے۔ عرفان صدیقی نے "یا اخی” کے ذریعے جس کیفیت کو مجسم کیا ہے، وہ تصوف، تاریخ اور انسانی المیے کے سنگم پر کھڑی ایک خاموش مگر متحرک علامت ہے جو روحانی اخوّت کی علامت بھی ہے۔ غور کیجئے تو یہ کردار ایک ایسی اندرونی برادری کا نمائندہ ہے جو وقت، فاصلے اور فنا کی سرحدوں سے ماورا ہے۔ عرفان کے ہاں "یا اخی” انسان کی کھوئی ہوئی تکمیل کا نشان ہے، وہ ناقابلِ واپسی ہمزاد جس کے چلے جانے سے وجود کی ساخت میں ایک دائمی خلا پیدا ہو گیا ہے۔ اس خلا میں شاعر کبھی پکار کے لہجے میں، کبھی دعا کے لحن میں اور کبھی اس وجدانی سکوت میں مسلسل مکالمہ کرتا ہے جو روحانی تجربے کو شعری شناخت یا غیاب کو تخلیقی حضور میں بدلتا ہے۔
عابد رضا کی غزل میں "یا اخی” ایک نئے زمانے کی روح بن کر ظاہر ہوتا ہے۔ وہی مرکّب جو عرفان صدیقی کے ہاں روحانی ہمزاد اور باطنی رفیق کی صورت میں جلوہ گر تھا، اب عابد کے ہاں ایک عصری فکری سایہ بن جاتا ہے ۔۔۔ ایسا سایہ جو انسان کے وجود پر مسلسل دباؤ ڈالنے والے ٹیکنالوجیکل اور فکری بوجھ کی علامت ہے۔ عرفان کے "یا اخی” میں جو صداقت اور تسلیم کی آنچ تھی، وہ یہاں تشویش، طنز اور اضطراب میں بدل گئی ہے۔ عابد کا "یا اخی” کسی صوفیانہ مکالمے کی نرمی نہیں رکھتا؛ یہ انسانی شعور کو جھنجھوڑنے والی ایک بیدار صدا ہے۔ یہ اب روحانی فراق کی سسکی نہیں بلکہ عقلِ حاضر کی تھکن کی چیخ ہے۔ عرفان کا "یا اخی” اگر خاموش ہم سفر تھا تو عابد کا "یا اخی” زخمی ہم عصر ہے۔ وہ شخص جو شاعر کے ساتھ اس دنیا میں زندہ تو ہے مگر منقطع اور اپنے آپ سے بیگانہ۔ عابد رضا جب ٹک ٹاک کو جامِ جم کہتے ہیں تو اس میں ایک پورا تہذیبی المیہ سمٹ آتا ہے۔ جامِ جم جو کلاسیکی شاعری میں باطنی بصیرت اور عرفانی نظر کی علامت تھا، اب محض سکرین پر چلتی تصویروں میں بدل گیا ہے۔ اسی طرح "دم بہ دم ڈرانے والی مصنوعی دانش” جدید علم و عقل کے اس تصنع اور غرور پر طنز ہے جو انسان کو دانا و بینا بنانے کے چکر میں اندر سے خالی ہو گئی ہے۔ یہ روپ عرفان صدیقی کے ہمزاد کی جدید، مایوس اور منتشر نسل کا ہے جو روح کی خانقاہ سے نکل کر ڈیجیٹل دشت میں بھٹک رہی ہے۔ یہ دشتِ فنا نہیں جس میں عرفان صدیقی کا کردار اپنے خدا یا اپنے رفیق کو ڈھونڈتا تھا؛ یہ ڈیٹا کا دشت ہے جہاں انسان خود کو تلاش کر رہا ہے مگر الگورتھم اور مصنوعی ذہانت کے شور میں اس کی صدا دب چکی ہے۔
عرفان صدیقی کے کردار کا المیہ روحانی تنہائی تھی، عابد کے کردار کا المیہ وجودی بے یقینی ہے۔ عرفان کے ہاں "یا اخی” باطنی سکوت میں صدا بنتا ہے، عابد کے ہاں یہی لفظ شور کے بیچ انسانی خاموشی کا انکشاف بن جاتا ہے۔ وہ "اخی” جو کبھی فنا کے دشت میں چھوڑ گیا تھا، اب خود ایک بھُٹکا ہوا ڈیجیٹل انسان بن چکا ہے۔ یوں عابد رضا کے ہاں "یا اخی” روایت سے نکل کر عصرِ جدید کے وجودی زوال کا نشان بن جاتا ہے۔ یہ صوفی کے غم سے زیادہ شاعر کے شعور کا اضطراب ہے۔ اب یہ خطاب کسی ماضی کے رفیق سے نہیں بلکہ موجودہ انسان سے ہے جو خود اپنا گمشدہ بھائی بن چکا ہے۔ عابد رضا کے ہاں اس کردار کا ارتقا دراصل زمانے اور شعور کے بدلتے پس منظر کا عکاس ہے۔ عرفان کے ہاں یہ کردار ایک روحانی ہمزاد تھا جو شاعر کے باطنی خلا میں موجودگی کی یاد دلاتا تھا۔ اس کا درد وجود کی روحانی کمی سے جُڑا تھا اور اس کا لباس، لہجہ اور علامتی دائرہ تصوف، الم اور دعا کے رنگوں میں لپٹا ہوا تھا۔ عابد کے ہاں وہی کردار اب جدید انسان کی تنہائی اور فکری اضطرار کا منظر پیش کرتا ہے۔ یہاں "یا اخی” کسی روحانی وصال کی یاد نہیں سے نہیں جُڑتا، برقی حروف و اعداد کے دشتِ کارزار میں ٹوٹے ہوئے رشتوں اور بکھرتے ہوئے ذہنوں کی علامت ہے۔ لباس بدل چکا ہے، لہجہ اب صوفیانہ نہیں رہا، طنزیہ اور تنبیہی ہو گیا ہے۔ درد وجدانی سوز سے نکل کر عصری بحران کی بےچینی میں ڈھل گیا ہے۔ اب "یا اخی” میں انسان روح کے فراق میں نہیں بلکہ ڈیٹا کی کائنات میں جلاوطنی کے کرب میں مبتلا ہے۔ یہ وہی اندر کی جلاوطنی ہے جو اب جدید دور کے ڈیجیٹل ہیومنزم میں "سپرچوئل اگزائل آف دیٹا” بن گئی ہے۔ یہ جلاوطنی دراصل اُس عہد کی علامت ہے جس میں روحانی مرکز تحلیل ہو چکا ہے اور انسان اپنے ہی بنائے ہوئے برقی نظام کے تابع ہو کر خود سے بیگانہ ہو گیا ہے۔ اب اس کا وجود "آن لائن” ہے مگر اس کی روح آف لائن۔ یہی ڈیجیٹل روح کی جلاوطنی کا المیہ ہے یعنی ایک ایسا خلا جہاں ربط کی فراوانی ہے مگر قرب کا فقدان۔ یوں عابد رضا کا "یا اخی” ایک مابعد جدید تاویل ہے۔ یہاں عرفان کے ہمزاد کی موجودگی کو عصری انسانی تجربے میں منتقل کر کے نئے معنی عطا کیے گئے ہیں۔ نتیجتاً عرفان صدیقی کا "یا اخی” ایک صوفیانہ، خاموش مگر روشنی بھری صدا ہے جو روح کے المیے اور اخوتِ باطنی کی نمائندگی کرتا ہے۔ عابد رضا کا "یا اخی” ایک عصری، شور بھری اور سوالیہ صدا ہے جو انسانی بقا، شعوری خلاء اور جدید تہذیبی کشمکش کے بیچ بیداری پیدا کرتی ہے۔ اس حوالے سے دیکھیں تو "یا اخی” انسانی تجربات کو جوڑنے والا ایک پُل بن گیا ہے جو صوفیانہ وجد سے عصری شعوری تنقید تک کے سفر کو عیاں کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کردار نہ صرف ایک پُرکشش مرکّب کی سطح پر زندہ ہے بلکہ اردو غزل کی تاریخی اور موضوعاتی گہرائی میں بھی اپنی منفرد جگہ رکھتا ہے۔
تقلیدی سطح پر متعدد شاعروں نے عرفان صدیقی کی زمین میں غزلیں کہی ہیں لیکن اس زمین کے ذریعے جو تخلیقی لحن، وجدانی فضا اور صوفیانہ مکالمہ تخلیق پا گیا تھا، وہ اتنا بھرپور تھا کہ بعد کے اکثر شعرا اس کے دائرۂ تاثر سے باہر نکلنے میں ناکام رہے۔ تاہم عرفان ستار اور واجد امیر کی غزلیں کچھ پہلوؤں میں معنیاتی انحراف اور بیانیاتی تازگی بھی رکھتی ہیں۔ حسبِ ترتیب ایک نظر ان پر بھی ڈال لیں:
رزق کی جستجو میں کسے تھی خبر، تُو بھی ہو جائے گا رائگاں یا اخی
تیری آسودہ حالی کی امید پر، کر گئے ہم تو اپنا زیاں یا اخی
جب نہ تھا یہ بیابانِ دیوار و در، جب نہ تھی یہ سیاہی بھری رہگزر
کیسے کرتے تھے ہم گفتگو رات بھر، کیسے سنتا تھا یہ آسماں یا اخی
جب یہ خواہش کا انبوہِ وحشت نہ تھا، شہر اتنا تہی دستِ فرصت نہ تھا
کتنے آباد رہتے تھے اہلِ ہنر، ہر نظر تھی یہاں مہرباں یا اخی
یہ گروہِ اسیرانِ کذب و ریا، بندگانِ درم بندگانِ انا
ہم فقط اہلِ دل یہ فقط اہلِ زر، عمر کیسے کٹے گی یہاں یا اخی
خود کلامی کا یہ سلسلہ ختم کر، گوش و آواز کا فاصلہ ختم کر
اک خموشی ہے پھیلی ہوئی سر بہ سر، کچھ سخن چاہیے درمیاں یا اخی
جسم کی خواہشوں سے نکل کر چلیں، زاویہ جستجو کا بدل کا چلیں
ڈھونڈنے آگہی کی کوئی رہگزر، روح کے واسطے سائباں یا اخی
ہاں کہاتھا یہ ہم نے بچھڑتے ہوئے، لوٹ آئیں گے ہم عمر ڈھلتے ہوئے
ہم نے سوچا بھی تھا واپسی کا مگر، پھر یہ سوچا کہ تُو اب کہاں یا اخی
خود شناسی کے لمحے بہم کب ہوئے، ہم جو تھے درحقیقت وہ ہم کب ہوئے
تیرا احسان ہو تُو بتا دے اگر، کچھ ہمیں بھی ہمارا نشاں یا اخی
قصۂ رنج و حسرت نہیں مختصر، تجھ کو کیا کیا بتائے گی یہ چشمِ تر
آتشِ غم میں جلتے ہیں قلب و جگر، آنکھ تک آ رہا ہے دھواں یا اخی
عمر کے باب میں اب رعایت کہاں، سمت تبدیل کرنے کی مہلت کہاں
دیکھ بادِ فنا کھٹکھٹاتی ہے در، ختم ہونے کو ہے داستاں یا اخی
ہو چکا سب جو ہونا تھا سود و زیاں، اب جو سوچیں تو کیا رہ گیا ہے یہاں
اور کچھ فاصلے کا یہ رختِ سفر، اور کچھ روز کی نقدِ جاں یا اخی
تُو ہمیں دیکھ آ کر سرِ انجمن، یوں سمجھ لے کہ ہیں جانِ بزمِ سخن
ایک تو روداد دلچسپ ہے اس قدر، اور اس پر ہمارا بیاں یا اخی
٭٭٭
ہم نے ہجرت اٹھائی تھی چلتے ہوئے سونپ کر تم کو آبا کا گھر یا اخی
کیا بتائیں تمہیں آگ اور خون کا طے کیا ہم نے کیسے سفر یا اخی
شب نژادوں نے ہم کو بھی ڈھانپے رکھا اور دیکھی نہ تم نے سحر یا اخی
ہم نے بھی زرد موسم کے صدمے سہے اور تم بھی رہے بے ثمر یا اخی
کتنی نسلیں ہماری بھٹکتی رہیں کاوشِ رزق میں در بدر یا اخی
مسجدوں مندروں اور کلیساؤں میں ہم چھڑکتے رہے آبِ زر یا اخی
وہ جو سر سبز بازو بچا لے گئے تھے تمہیں علم ہے جسم سے کٹ گئے
اور تمہیں تو پتا ہے کہ شانے کسی رت میں ہوتے نہیں بار ور یا اخی
یہ جو دیوارِ گریہ ہے اس سے لپٹ کر کئی دن تلک ہم بہت روۓ تھے
دیکھ لو آج تک یہ فصیلِ دعا آنسوؤں اور لہو سے ہے تر یا اخی
امن پرچم تلے سازشوں کے اندھیرے میں خیمے لگائے ہوئے کون ہیں
جنگ کا فیصلہ ہو چکا ہے تو پھر کس لئے ہیں یہ تیر و تبر یا اخی
دھوپ رستوں میں اور بارشوں میں سروں پر ہمارے کوئی سائباں تک نہ تھا
بوڑھے برگد کی چھاؤں تمہیں مل گئی اور ہم نے لگایا شجر یا اخی
اپنے اجداد کے وہ مکاں اور دیوار و در دیکھنے اور چھونے کی حسرت لئے
صرف آنکھیں رہیں منتظر خاک میں سو گئے سب خمیدہ کمر یا اخی
ہجرتیں جب مقدر تھیں چلتے رہے سب تہی دست اور سب دریدہ بدن
مڑ کے تکتے رہے دور ہوتی ہوئی ایک سنسان سی رہ گزر یا اخی
عرفان صدیقی کے ہاں "یا اخی” ایک روحانی ہمزاد ہے جو وقت، فنا اور ہجرت کے بیچ ایک باطنی مکالمہ بن جاتا ہے۔ یہ وہی صدا ہے جو جدائی کے روحانی المیے کو انسانی تنہائی میں بدل دیتی ہے۔ عرفان ستار کے ہاں یہی صدا بازگشت بن کر ابھرتی ہے مگر اب لہجہ سماجی، اخلاقی اور فکری معنویت میں داخل ہوتا ہے۔ عرفان صدیقی کے "دشت” کی جگہ عرفان ستار کے ہاں "بیابانِ دیوار و در” آ گیا ہے یعنی باطنی صحرا اب شہری خلا بن گیا ہے۔ یہاں مکالمہ بھی باقی ہے مگر وجد کم، تشخیص زیادہ؛ اور عارفانہ اشاریت کی جگہ انسانی دکھ نے لے لی ہے جو مبنی بر تجربات ہوتے ہیں۔ ان کے ہاں ایک اخلاقی دوئی کی صدائے احتجاج بھی سنائی دیتی ہے جو عرفان صدیقی کی روحانی کیفیت سے ہٹ کر ایک سماجی لحن اختیار کرتی ہے۔ واجد امیر کی غزل براہِ راست طور پر عرفان صدیقی کے بیانیے کی توسیع معلوم ہوتی ہے۔ ان کے یہاں "ہجرت”، "زرد موسم”، "شجر”، "خیمے”، "دیوارِ گریہ”، "سرسنز بازو” یہ سب وہی استعارے ہیں مگر اب ان میں سیاسی تاریخ اور اجتماعی المیے کی جھلک نمایاں ہو جاتی ہے۔ یہاں "یا اخی” عرفانی غیاب کا مظہر نہیں، تاریخی تقسیم کا گواہ ہے۔ عرفان صدیقی کے "دشتِ فنا” کو واجد نے "خون اور آگ کے سفر” میں بدل دیا ہے یعنی روحانی فراق اب تہذیبی و قومی المیے کا روپ لے لیتا ہے۔ عرفان صدیقی کے ہاں ہجرت باطنی سفر تھی، واجد امیر کے ہاں وہ وجودی شکست بن جاتی ہے۔ یہاں ایک نظر واجد امیر کے اس مؤقف پر بھی ڈالتے جائیں جو انہوں نے عرفان صدیقی کے ساتھ اپنی غزل کا تقابل کرتے ہوئے اختیار کیا ہے: تقسیم کے وقت وہ ہندوستان رہ گئے ان کے بھائی پاکستان آگئے۔ یوں انہوں نے اپنے بھائی کو مخاطب کر کے یہ غزل کہی۔ اس غزل نے تقسیم کے المیے کو نہایت دلسوزی سے اجاگر کیا۔ اس غزل کو پڑھتے ہی یہ غزل شروع ہوئی۔ یہ المیہ یک طرفہ نہیں تھا۔ انہوں نے اپنی بات کی، ہم نے اپنے دکھ کا اظہار کیا۔ یہ غزلیں نوّے کی دہائی میں "بیاض” میں چھپیں پھر "خموشی بات کرنا چاہتی ہے” میں چھپیں۔ اسے سامنے لانے کا یہی موقع ہوتا ہے جب ہم نئی نسل کو بتا سکتے ہیں دونوں طرف کے لوگوں پہ کیا بیتی۔
واجد امیر کا یہ مؤقف غزل کے تاریخی پس منظر کو ضرور منکشف کرتا ہے مگر تنقیدی سطح پر یہ سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے کہ کیا شاعر کی نیّت متن کی تمام معنوی جہتوں کو محیط ہو سکتی ہے؟ اردو غزل کی روایت میں اکثر ایسا ہوا ہے کہ شعر اپنے تخلیق کار کے تجربے سے نکل کر اجتماعی لاشعور اور قاری کے فہم میں نئی صورتیں اختیار کر لیتا ہے۔ اس تناظر میں واجد امیر کی غزل محض تقسیمِ ہند کے المیے تک ہی محدود نہیں رہتی، عرفان صدیقی کے ندائیہ رشتے کو اپنی تاریخی یادداشت میں دُہراتی بھی ہے۔
واجد امیر اور عرفان ستار، دونوں شعرا عرفان صدیقی کے ندائیہ لحن سے پوری طرح آزاد نہیں ہو پاتے۔ ان کی مخاطبت عرفان صدیقی کے تخلیقی خدوخال کے اندر ہی رہتی ہے۔ فرق یہ ہے کہ عرفان ستار کا "یا اخی” اخلاقی فکر کی ایک بیدار صدا ہے جبکہ واجد امیر کا "یا اخی” تاریخی رنج اور اجتماعی زوال کا نوحہ ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ عرفان صدیقی نے جس “یا اخی” کو روحانی پکار کے طور پر پیدا کیا، عرفان ستار نے اسے انسانی ضمیر کی تنبیہ میں ڈھالا اور واجد امیر نے اسے تہذیبی یادداشت کا دکھ بنا دیا۔ اہم بات یہ ہے کہ دونوں شاعروں کے ہاں ندائیہ کی وہی گونج برقرار رہتی ہے جو عالمِ غیاب میں اپنے ضمیر یا رفیق سے یا اپنے ماضی سے گفتگو کرتی ہے البتہ معنی کی سمت کبھی وجود کی طرف تو کبھی تاریخ کی طرف مڑ جاتی ہے۔ اس گونج سےعابد رضا بھی منسلک ہیں مگر ان کا انداز منفرد ہے؛ وہ عرفان صدیقی کے لحن کو بنیاد کے طور پر لیتے ہوئے اپنا آزاد بیانیہ، عصری تشخیص اور تجرباتی زاویہ شامل کرتے ہیں جس کے نتیجے میں "یا اخی” کی ندا اپنی شعری جہت میں ایک بامعنی اور امتیازی توسیع سے گزرتی ہے۔




