غزل
غزل | شکستہ شاخ پہ گھر ان کا پائدار نہیں | نعیم احمد نیم
غزل
شکستہ شاخ پہ گھر ان کا پائدار نہیں
مگر یہ راز پرندوں پہ آشکار نہیں
وہ حسن حسن ہی کیا جو ہوا ہوس کو نہ دے
وہ کیا شراب کہ جس میں کوئی خمار نہیں
میں اُس کو چھیڑ کے پُر کیف سُر بناتا ہوں
وہ اک بدن ہے اگرچہ کوئی گٹار نہیں
اے ابرِ دردِ محبت برس خدا کے لئے
کہ جوئے چشمِ سیہ میری آب دار نہیں
مرے حبیب! یہ وحشت کی آخری حد ہے
کہ رو رہا ہوں میں اور آنکھ اشکبار نہیں
ہے گرچہ وصل ترا ممکنات سے باہر
پہ تیرے شوق سے دل اب بھی رستگار نہیں
بدن کا لمس بھی اک جزوِ لازمی ہے نعیم
کہ صرف روح پہ الفت کا انحصار نہیں





Beautiful 😍 🥰