غزل
غزل | ندی زمین کی ہے عکس آسمان کا ہے | عامر اظہر خان
غزل
ندی زمین کی ہے عکس آسمان کا ہے
میں تیرتا ہوں مگر اشتباہ اڑان کا ہے
میں رک کے دیکھ ہی سکتا ہوں رک نہیں سکتا
وہ راہ گیر کسی اور کاروان کا ہے
بہشت ہو کہ حرم ہو کہ دیر ہو کہ لحد
ازل سے دیکھیے جھگڑا کسی مکان کا ہے*
بہت حسین تھی جودھا بہت لطیف تھا عشق
مگر یہ واقعہ اکبر کی داستان کا ہے
ہمارے پاس بھی پرچہ ہی ہے جواب نہیں
نتیجہ یہ کئی نسلوں کے امتحان کا ہے
مٹا رہا ہے مگر مٹ نہیں رہا ہرگز
سوال خوں کا نہیں خون کے نشان کا ہے
رواں دواں ہے مری ماں کی خامشی عامرؔ
سخن تمام مری مادری زبان کا ہے




