غزل
غزل|تھکن کی آنچ سے روشن ہیں بام و در کی چراغ|ڈاکٹر تاثیر صدیقی

غزل
تھکن کی آنچ سے روشن ہیں بام و در کے چراغ
میں باپ ہوں مِرے ذمّے ہیں میرے گھر کے چراغ
سنبھالے رکھنا مِرے بچّو آس کی میراث
میں سونپتا ہوں تمہیں اپنے عمر بھر کے چراغ
سنبھالو خود کو ہواؤ سمیٹ لو پر اب
کہ احتجاج پہ اُترے ہیں شہر بھر کے چراغ
ہوائے مَرگ نے گُل کر دئے پُرانے دیے
نئے سِرے سے جلیں اب نئے سفر کے چراغ
زرا سا گرم ہو بازار تو جِلا پائیں
گھروں میں سرد پڑے ہیں کئی ہنر کے چراغ
وہ پچھلی رات کو بادل نے پلکیں پونچھی تھیں
چمن میں نور فشاں ہیں گُل و ثمر کے چراغ
بقدرِ تاب لُٹانی ہے روشنی اِن کو
وہ چاہے خاک کے ہوں یا ہوں سیم و زر کے چراغ
علاج کیوں ہو غریبوں کے اشک کا تاثیرؔ
امیرِ شہر کو پیارے ہیں اپنے گھر کے چراغ




