غزل
غزل | میں تابخاک رہا ، کاشغر نہیں بدلا | عامر بلوچ
غزل
میں تابخاک رہا ، کاشغر نہیں بدلا
بچھڑ کے اس سے کبھی اپنا گھر نہیں بدلا
وہ ایک جسم عجب ذائقے میں لت پت تھا
بوقت عصر بھی اس کا اثر نہیں بدلا
نئی نئی ہے سہولت مگر یہ دھیان رہے
اذیتوں سے کوئی سر بسر نہیں بدلا
کوئی بھی خوش نہیں تجسیمِ ذات پر اپنی
خدا نے پھر بھی مرا کوزہ گر نہیں بدلا
اسے بتانا نہیں پڑتا کس قبیل سے ہے
خزاں بتاتی ہے بوڑھا شجر نہیں بدلا
تلاشِ خوش گلو میں ترش لہجے ہاتھ آئے
ہمیشہ صبر کیا پر ثمر نہیں بدلا
گھماؤ عشق و اذیت کا ہی رہا درپیش
فرار تجھ سے ہوا دل مگر نہیں بدلا



