غزل
غزل | غزل سرائے ہے اپنی وہیں پہ دم لیں گے | پرنو مشرا تیجس
غزل
غزل سرائے ہے اپنی وہیں پہ دم لیں گے
سفر تمام کریں گے نیا جنم لیں گے
نباہنے کو نبھائیں گے ایک ذرے سے
جو دل ہمارا کِیا ، وادیٔ اِرم لیں گے
سکون تلاش کریں گے کسی کی سانسوں میں
حسین لبوں پہ گھڑی دو گھڑی کو تھم لیں گے
اداسیاں تو دلِ زار خیر اپنی ہیں
ہم اب بھی سوچتے ہیں کچھ نئے بھرم لیں گے
وہ ایک ہم کہ جسے خودکشی سے نفرت تھی
وہ ایک ہم کہ اُسی راہ پر قدم لیں گے
تلاشنے کو کئی منزلیں پڑی ہوں گی
مگر یہ بات بھی کس کس کا ہم کرم لیں گے
ندی، پہاڑ، ہوا، زندگی کے مرکز ہیں
ہم ان سے چھٹ کے بھلا اور کیا رقم لیں گے؟




