غزل
غزل | عشق و الفت کا بادہ کش مجھ میں | عمیس احمر
غزل
عشق و اُلفت کا بَادہ کش مجھ میں
پھرتا رہتا ہے مُرتَعِشْ مجھ میں
کیا عجب ہوک تھی جو چبھ گئی ہے
بن کے اک تیر نیم کش مجھ میں
ذہن و دل اس طرح الجھتے ہیں
ہونے لگتی ہے چَپقُلَش مجھ میں
حل ہوا اس طرف معمہ ایک
آ گئی دوجی کشمکش مجھ میں
اس لئے ماورا ہوں دنیا سے میں
اک محبت ہے دست کش مجھ میں
Author
URL Copied



