نظم

نیا ایک عالم بنائیں | رفیق سندیلوی

نیا ایک عالم بنائیں

 

یہی دشت اب اپنا خطّہ ہے

دیوانگی صرف بازیگری ہے

فقط ایک پُتلی تماشا ہے

آئیں

یہاں ایک کونے میں

خیمہ لگائیں

مجاز اور حقیقت کو باہم ملائیں 

جدید اور مابعد آلات کو

پہلے وقتوں کے جنّات کو

آزمائیں

بُلائیں جو حجروں میں کاہن چُھپے ہیں

کرینیں اگر سارا ملبہ اٹھا لیں 

تو پھر سے مکانوں کا اک سلسلہ بن سکے  

لوگ آباد ہوں 

روزمرّہ کے معمول میں 

پھر نئی وحشتیں صرف ہوں

اور غزالوں کا پیچھا نہ کرنا پڑے 

خاک اُڑانے کا دستور تبدیل ہو

غیب کے سارے بازار حاضر کے اندر کُھلیں 

کوچۂ نو میں 

شاپر نہ اُڑتے پھریں

ٹین ڈبے نہ کھڑ کھڑ کریں

خواب فلٹر ہوں

ظلمت کا اپنا ہی اک نور ہو 

فرقت و وصل کے

نقل اور اصل کے

سب علاقوں سے باہر مَن و تُو ملیں

زلزلے سے نہ داخل نہ خارج کی یہ کائناتیں ہلیں 

شاخِ دیدار پر

رَس بھرے پھل ہمارا سواگت کریں 

اتنے شاداب ہوں

یہ ہمارے تراشے ہوئے گُلستاں

یہ زمان و مکاں 

اتنا سکڑیں کہ اک ثانیے میں  

کئی ہفت خواں طے ہوں

وابستۂ مظہر و شے ہوں

نادید کے اَن چھوئے سلسلے

آنکھیں بن جائیں از خود اُڑَن طشتری

مُنہ سے نکلے مُعطّر دُھواں 

دِل سے ڈیزل کی بُو ختم ہو

بچّے بچّے کو اسمائے لا یاد ہوں

ذہن اسیری میں آزاد ہوں

اور دوئی ثنَویّت سے مخلوط ہو

نیستی اور ہستی

غیاب اور موجود 

خیر اور شر

یہ ازل اور ابد 

سب کی کایا کلپ ہو

اُلٹ جائیں سارے عمود اور اُفق 

جاگنے اور سونے کے سسٹم کی تقلیب ہو 

کوئی ترکیب ہو

کہ زمانہ خُود اپنے زمانے سے خارج ہو

 ہم اِس خلا کو دوبارہ بھریں اور

نیا ایک عالم بنائیں

مجاز اور حقیقت کو باہم ملائیں!!

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x