نظم

خوابِ نو | اویس ضمؔیر

خوابِ نو

 

نیند میں اِک سفر طے ہُوا

ہفت اقلیم کا 

منطقی رو طبق در طبق 

ریشہ ریشہ

کہیں بہتے بہتے

قریب آ گئی جاگنے کے

کبھی ایک تھے دائرے جو

جدا ہو چکے گھومتے گھومتے

گرچہ سپنا وہی لگ رہا ہے

مگر اشرفُ الخلق اِس بار

کاریگری کا کوئی اور شہکار ہے

میری معدوم ہوتی ہوئی ذات کا ما حصل

جینیاتی لڑی سے اٹھائے گئے

چند اِک حرف ہیں

اور اِس کے سوا بس

مِرے عکس اضغاثِ احلام ہیں

اور اِدھر۔۔۔۔

دھات کے خواب میں

برف گرنے لگی ہے برہنہ ہوئے کوہساروں پہ پھر

جھرنے بہنے لگے ہیں پرانے نئے

نیلگوں آسماں پر

دھوئیں کی لکیریں بھی مٹنے لگیں

اور سحابِ رجا

رقص کرتے نظر آ رہے ہیں

عمودی کھنڈر بستیوں کے بلوری در و بام پر

سبزہ چڑھنے لگا

کولتاری سڑک کی دراڑوں سے بھی

نرم احساس کی

گھاس کی پتّیاں جھانکتی ہیں

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x