غزل
غزل / گہرے پانی پہ ہے قبضہ اس کا / ذی شان
غزل
گہرے پانی پہ ہے قبضہ اس کا
کشتیاں اس کی ہیں دریا اس کا
اک ذرا کہہ کے بچھڑتا تو سہی
میں پتہ پوچھتا پھرتا اس کا
پھول مرجھایا ہوا لگتا ہے
ایک تصویر میں چہرہ اس کا
وہ نہیں تھا مری جانب لیکن
پر مرے ساتھ خدا تھا اس کا
سانس آتی کہ نہ آتی مجھ کو
دل دھڑکتا نہ دھڑکتا اس کا
ایک تو پیار نہیں کرتا مجھے
اور پھر اس پہ دکھاوا اس کا
میں وضاحت سے ہوا لطف اندوز
جھوٹ ماتھے پہ لکھا تھا اس کا





بہت دعائیں بھائی