غزل
خنک اس کی ادا ہے
دسمبر کی ہوا ہے
وفا ہے یا جفا ہے
روا مجھ سے کیا ہے
سنی تم نے ابھی جو
خموشی کی صدا ہے
مقفّل ہیں زبا نیں
زباں بندی وبا ہے
مہک تیرے بدن کی
لیے پھر تی شفا ہے
کہو مجنوں جسے تم
ہما را نا خدا ہے
مسیحا بھیج اب تو
ستم کی انتہا ہے
ہے اپنا شہر سا را
مگر کو ئی خفا ہے
تمنّا ہے تری جو
وہ بر آ ئے دعا ہے
Author
URL Copied




