اسلامک بلاگشخصیت و فنکالم

کلام اقبال اور حضرت علی علیہ السلام / تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

 

شاعر مشرق علامہ اقبالؒ کی شاعری میں حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت، ایک ایسی روحانی، فکری اور عملی روشنی کا مینار ہے جو آج بھی مسلمانوں کو راستہ دکھاتا ہے۔ وہ علیؑ جن کی شمشیر ظالم کے خلاف اٹھتی ہے، وہی علیؑ یتیموں کا باپ بھی ہے۔ وہ علیؑ جو میدانِ جنگ میں شیرِ خدا ہے، وہی محرابِ عبادت میں روتا ہوا عارف بھی ہے۔
اقبالؒ نے حضرت علیؑ کو نہ صرف تاریخ بلکہ حال اور مستقبل کے انسان کے لیے ایک کامل نمونہ قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ اقبال کی شاعری کا علی صرف ایک تاریخی کردار نہیں بلکہ ایک دائمی ، زندہ روحانی حقیقت ہے علامہ اقبال نے اپنے اردو اور فارسی کلام میں علی علیہ السلام کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے

مرتضیٰؑ شیرِ خدا دانند ہم
او بہ شمشیر و بہ قرآن محرم است

ترجمہ: علیؑ کو سب شیرِ خدا مانتے ہیں، مگر وہ قرآن اور شمشیر دونوں کے رازوں سے آشنا ہیں۔
اقبالؒ حضرت علیؑ کو وہ شخصیت مانتے ہیں جنہوں نے دین کے باطن اور ظاہر دونوں کو مکمل طور پر سمجھا اور عمل کیا وہ سمجھتے تھے کہ شجاعت و بہادری اور فکر وفہم کا توازن سیرت علی علیہ السلام کا جوہر ہے کیونکہ یہ دونوں صفات کسی عام انسان میں جمع نہیں ہو سکتیں
اقبال حضرت علی علیہ السلام کو عقل کل
کے منصب پر دیکھتے ہیں اسی لئیے کہا:

عقل و دل و نگاہ کا مرشد اولین ہے علی
اگرچہ علامہ اقبال نے اپنے اشعار میں علی علیہ السلام کی بہادری اور ان کے علم وفضل کو کئی جگہ اشعار کے پیرائے میں بیان کیا ہے لیکن ،، اسرار خودی، ، میں موجود حضرت علی کے بارے میں ان کا کلام حضرت علی علیہ سلام سے بے پناہ محبت وعقیدت اور معرفت کا مظہر ہے شاید اقبال کے پیش نظر جناب رسول خدا صل اللہ علیہ والہ وسلم کی یہ حدیث تھی کہ ،، میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ،، اور مہاجرین اور انصار کو جب مدینہ میں اخوت کے رشتے میں پرویا تھا تو جناب رسول خدا نے حضرت علی کے بارے میں فرمایا تھا ،
،،علی تم میرے بھائی ہو دنیا میں بھی اور آ خرت میں بھی، ،
اگرچہ علامہ اقبال نے حضرت علی کے بیٹے حسین علیہ السلام کو بھی خراج تحسین پیش کیا ہے اور خاتون جنت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کو بھی لیکن یہ ان کا فارسی کلام حضرت علی کو زبردست خراج تحسین ہے اور ان کی اعلی ذات کو مد نظر رکھتے ہوے جیسے کسی عالم جذب میں کہا ہے ، اقبال فرماتے ہیں :

مُسلمِ اوّل شہِ مرداں علی
عشق را سرمایۂ ایماں علی

پہلے مسلمان علی ع ہیں، مردوں کے سردار علی ہیں۔ عشق کیلیے ایمان کا سرمایہ علی ہیں۔

از ولائے دودمانش زندہ ام
در جہاں مثلِ گہر تابندہ ام

میں انکے خاندان کی محبت سے زندہ ہوں، اور دنیا میں موتیوں کی مانند چمک رہا ہوں۔

زمزم ار جوشد ز خاکِ من، ازوست
مے اگر ریزد ز تاکِ من، ازوست

اگر میری خاک سے زمزم ابلتے ہیں تو یہ انہی علی ہی سے ہے اور اگر میری انگور کی شاخ سے مے ٹپکتی ہے تو یہ انہی علی ہی سے ہے۔

از رُخِ اُو فال پیغمبر گرفت
ملّتِ حق از شکوہش فر گرفت

انکے چہرۂ مبارک سے پیغمبر (ص) فال لیا کرتے تھے، ملّتِ حق نے انکی شان و شوکت سے عزت حاصل کی
قوّتِ دینِ مُبیں فرمودہ اش
کائنات آئیں پذیر از دودہ اش

آپ (ص) نے علی (ع) کو روشن اور غالب دین کی قوت فرمایا، دنیا نے آپکے خاندان سے آئین اور قانون حاصل کیا۔

مُرسلِ حق کرد نامش بُو تراب
حق ید اللہ خواند در امّ الکتاب

اللہ کے سچے رسول (ص) نے آپ کو ابو تُراب کا نام (لقب) دیا، اللہ نے قرآن میں آپ کو ید اللہ (اللہ کا ہاتھ) قرار دیا۔

ہر کہ دانائے رموزِ زندگیست
سرّ اسمائے علی داند کہ چیست

ہر وہ کہ جو زندگی کے رموز جانتا ہے، جانتا ہے کہ علی کے ناموں کے اسرار کیا ہیں۔

شیرِ حق ایں خاک را تسخیر کرد
ایں گِلِ تاریک را اکسیر کرد

اللہ کے شیر نے اس خاک کو تسخیر کیا اور اس تاریک مٹی کو اکسیر کر دیا۔

مرتضیٰ کز تیغِ او حق روشن است
بوتراب از فتح اقلیمِ تن است

مرتضیٰ کہ انکی تلوار سے حق روشن اور آشکار ہوا اور وہ بوتراب یعنی مٹی کے باپ ہیں کہ انہوں نے تن کی سلطنت کو فتح کیا۔

زیرِ پاش اینجا شکوہِ خیبر است
دستِ اُو آنجا قسیمِ کوثر است

اس جگہ یعنی اس دنیا میں خیبر کی شان و شکوت و شکوہ انکے پاؤں کے نیچے ہے اور اُس جہاں میں انکا ہاتھ آبِ کوثر تقسیم کرنے والا ہے۔

ذاتِ اُو دروازہٴ شہرِ علوم
زیرِ فرمانش حجاز و چین و روم

انکی ذات شہر علوم کا دروازہ ہے اور انکے فرمان کے زیر تابع حجاز و چین و رارِ
تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی
) تیرہ رجب حضرت علی کے یوم ولادت پر لکھا گیا مضمون )

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x