نظم
اختیار / وسیم نادر
اختیار
تمہارا حق زیادہ ہے درختوں پر
سو تم نے ٹھیک ہی سمجھا
مجھے اِن نرم سایوں سے زرا سا دور ہی رکھّا
مگر کس کو بتاؤں
مجھے یہ چند سوکھی ٹہنیاں آواز دیتی ہیں
مجھے مجبور کرتی ہیں
کہ میں سجھوں
کوئی جب شاخ سے ٹوٹے تو کیا محسوس ہوتا ہے
زمیں کو نم بنانے میں
درختوں کو ہرا رکھنے میں تم نے خوب محنت کی
مگر جو زرد ہوتی ٹہنیاں پتّے بہت سرگوشیوں میں بین کرتے ہیں
مجھے کچھ دیر ان کے ساتھ ماتم کی اجازت چاہیے تم سے
تمہارا حق زیادہ ہے درختوں پر




