نبراس سہیل سے اردو ورثہ کی خصوصی گفتگو / انٹرویو

ادب، تعلیم اور بین الاقوامی ہم آہنگی کی ممتاز نمائندہ، نبراس سہیل، اس وقت دبئی میں ZAQ International ایجوکیشنل انسٹیٹیوٹ کی سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں، جہاں دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ وہ ایک سرگرم مصنفہ اور بچوں کے ادب کی مخلص علمبردار بھی ہیں، جنہوں نے ادبی ثقافت کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
دبئی میں ان کی علمی، ادبی اور تعلیمی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں "گولڈن ویزہ” سے بھی نوازا جا چکا ہے، جو ان کی خدمات اور کامیابیوں کا اعتراف ہے۔ ان کا بچپن لیبیا اور سعودی عرب جیسے ممالک میں گزرا، جہاں انہوں نے مختلف تہذیبوں کے ساتھ زندگی گزار کر وسیع تجربہ حاصل کیا۔
نبراس سہیل نہ صرف ادب اطفال کے میدان میں سنجیدہ کام کر رہی ہیں بلکہ پاکستان کے مثبت تشخص کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے مشن میں بھی فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ تعلیم اور ادب کے ذریعے وہ نئی نسل کی ذہن سازی میں مؤثر کردار ادا کر رہی ہیں۔ ہم نے ان سے اردو ورثہ کے لیے خصوصی بات چیت کی، جو پیش خدمت ہے۔
انٹرویو
کچھ اپنے بچپن کے بارے میں بتائیے کیسا بچپن گزرا، ابتدائی تعلیم کہاں ہوئی؟
بچپن بے حد حسین گزرا۔ ابتدائی ہوش مندی کی یادوں میں لیبیا کی پکنکس کے دن ذہن میں تازہ ہیں۔ 70 کی دہائی کے اخیر کی بات ہے۔ میرے ذہن میں اس وقت کی یادیں بھی تازہ ہیں جب میں چار پانچ برس کی تھی۔ مجھ سے بڑی بہن عراق میں پیدا ہوئ، میں لاہور میں… اور دو چھوٹے بھائی جو وہیں لیبیا میں ہی پیدا ہوئے… بڑے اچھے دن تھے۔ لیبیا میں پارٹیز کا رواج عام تھا۔ مجھے اب بھی محمد رفیع، لتا، مہدی حسن، غلام علی کے وہ گانے اور غزلیں یاد ہیں جو اکثر گھر میں یا پکنک پہ جاتے ہوئے گاڑی میں چلا کرتے۔ لیبیا میں زیتون توڑنے کا موسم آتا تو حکومت کی طرف سے عوام کو بھی olive picking میں شامل کیا جاتا۔ چھٹیاں دی جاتیں۔ لوگ پارکوں میں جاتے… درختوں کے نیچے چادریں بچھاتے، شاخیں ہلا ہلا کر زیتون جھاڑتے، انھیں اکٹھا کرتے اور وہیں پارکوں میں موجود حکومتی اہلکاروں کے حوالے کرتے۔ زیتون تول کر کچھ حصہ توڑنے والے خاندان کو بھی دیا جاتا۔ یہ وہاں کا نظام بھی تھا اور رواج بھی۔ یوں ڈھیر زیتون اکٹھا کیا جاتا۔ مجھے یاد ہے ہمارے گھر کے بالکل سامنے والے گھر میں جو خاندان آباد تھا وہ سرکہ میں زیتون کا اچار تیار کرتے تھے۔ ان کے یہاں بہت بڑے بڑے مرتبان ہوا کرتے تھے جو ہمہ وقت زیتون سے بھرے رہتے۔ ان کے بیرونی دروازے کے اوپر ایک بڑی سی، تقریبا” 3-4 فٹ لمبی ایک ہنوط شدہ چھپکلی آویزاں تھی جس کے نیچے سے گزرتے مجھے بے حد خوف آتا۔ مجھے لگتا اس کی اور میری آنکھوں کے درمیان ایک ڈوری بندھی ہے، جوں ہی میں نیچے سے گزروں گی وہ ڈوری ٹوٹ جائے گی اور وہ میرے اوپر آ گرے گی۔ اس کے بعد ہم سعودی عرب شفٹ ہو گئے۔ ابتدائی تعلیم پاکستانی سکول جدہ سے حاصل کی۔ پہلی دوستی وہیں ہوئی۔ مجھے اب بھی اپنی سہیلی بہت یاد آتی ہے۔ اسی کے نام پہ میں نے اپنی بھتیجی کا نام رحمہ رکھا۔ جب پاکستان لوٹے تو میں چھٹی جماعت میں تھی۔
عملی زندگی کی طرف کیسے آئیں؟
ایف ایس سی کے بعد جب میڈیکل میں ایڈمشن نہ ہو سکا تو ایک سال تو میں بے حد دلگرفتہ رہی۔ آرمی میڈیکل کالج میں ایک سیٹ نکلی تھی… میں کوالیفائی بھی کرتی تھی مگر ایک صاحب اقتدار کی بیٹی کو وہ سیٹ دے دی گئی۔ بعد میں ان محترمہ نے کنٹینیو بھی نہ کیا۔ خیر… اسی دلگرفتگی کے ساتھ میں نے نفسیات اور فلسفہ میں بی اے کیا۔ اور پھر انگریزی میں ایم اے۔ بی اے کے دوران کی بات ہے کہ میں نفسیات کی کلاس کے لئے شام میں ایک پروفیسر صاحب کے پاس جایا کرتی تھی۔ ایک دن جب میں کلاس میں ریڈنگ کر رہی تھی تو سر نے مجھے کہا کہ آپ ریڈیو پاکستان کیوں نہیں جوائن کرتی؟ میں نے کہا مجھے علم نہیں کیسے کرنا ہے۔ انھوں نے مجھے ریڈیو بھیجا۔ سٹیشن ڈائریکٹر صاحب کے آفس میں لمبی گفتگو رہی۔ بڑی زبردست شخصیت تھی عقیل اشرف صاحب کی۔ مجھ سے بہت کچھ پوچھتے اور اپنے قصے سناتے رہے۔ بالآخر میں نے اٹھتے ہوئے پوچھا ‘سر، انٹرویو کے لئے کب آ جاؤں؟’ انھوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ انٹرویو تو آپ کا ہو گیا۔ یہاں سے سٹوڈیو کی طرف جائیے اور آڈیشن دے دیجیے۔ یہ 1993 کی بات ہے۔ بس پھر ریڈیو پاکستان پر پروگرام کرنے لگی۔ بہت تھوڑا مگر بہت قیمتی معاوضہ ملتا تھا۔ ریڈیو سے بہت سیکھا… الفاظ، تلفظ، ادائیگی، آواز کا اتار چڑھاؤ، صبح اور شام کے پروگرام میں موڈ کا فرق اور آواز و الفاظ سے اس کا تاثر پیدا کرنا، ڈرامہ بولنا، ڈاکیومینٹری میں آواز پہ گرفت، سکرپٹ رائٹنگ وغیرہ وغیرہ… ایم اے جوں ہی مکمل ہوا تو والد صاحب نے تحفتا’ حج کروایا۔ الحمدللہ… واپس آ کر ایک سکول میں ٹیچنگ کرنے لگی۔ اب تک تعلیم کے پیشے سے منسلک ہوں۔ دبئی کے ایک بڑے پاکستانی ادارے پاکستان ایجوکیشن اکیڈمی میں بحیثیت انگلش لیکچرار سولہ برس کام کیا۔ ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ رہی۔ میڈیا سے وابستگی کا اثر تھا کہ کالج میں میڈیا ڈیپارٹمنٹ قائم کیا جہاں سے ہمارے کالج کے طلبا و طالبات نیوز بلیٹن جاری کیا کرتے۔ یہ سب سکھانا بھی ایک دلچسپ مشغلہ تھا۔ کالج کا میگزین، نیوز لیٹر اور سٹیج ڈرامہ سب کو ہیڈ کرتی رہی۔ جاب سے ریزائن کیا اور اب اپنا ایجوکیشنل انسٹیٹیوٹ ZAQ International کے نام سے گزشتہ برس ہی شروع کیا ہے۔ الحمدللہ یو اے ای میں مقیم پاکستانی، افغانی، بنگالی، سیرین اور دیگر نیشنیلیٹیز کے بچے میرے ادارے میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ابھی ابتدا ہے آگے بہت کچھ کرنا ہے۔ اس سال زیک نے پاکستان سے بھی ایڈمشن کا اجرا کر دیا ہے۔ اس وقت 6-7 بچے پاکستان سے آن لائن ہمارے ساتھ پڑھ رہے ہیں۔ انشااللہ اپریل 2025 سے پاکستان سے باقاعدہ داخلوں اور کلاسز کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ ہمارے بچوں کے لئے نہایت کم فیس میں اعلی درجے کی تعلیم اور انٹرنیشنل سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے۔
شادی اور بچوں کے بارے میں بتائیے؟
شادی 1998 میں ہوئی۔ ریڈیو پاکستان کی ورسٹائل آواز محمد سہیل انجم سے۔ بنیادی طور پہ یہ ڈرامہ آرٹسٹ تھے، بڑے ایوارڈ حاصل کئے سٹیج پلے میں… اس وقت ہم ایک مزاحیہ سلسلہ پیش کیا کرتے تھے ‘تکلف برطرف’ کے نام سے، تو جب بھی ہم ریکارڈنگ کیا کرتے سہیل کو بلایا جاتا۔ یہ صاحب ایک ہی وقت میں ڈاکٹر، مریض، جمعدار تین تین چار چار کیریکٹر پرفارم کرتے۔ پھر ہم نے ‘گیت کہانی’ کا سلسلہ اکٹھے کیا… بس پھر اپنی کہانی شروع ہو گئی۔ شادی کے اگلے ہی برس اللہ تعالی نے بیٹا عطا کیا، پھر اس سے اگلے برس ایک اور لعل گود میں آیا… پھر اللہ نے بیٹی کی نعمت بھی عطا کی۔ بڑا بیٹا پچھلے سال یو ای ٹی سے میکا ٹرانکس انجینئرنگ کر کے واپس آیا، چھوٹا لاہور میں آرکیٹیکچر پڑھ رہا ہے، بیٹی ترکیہ میں سائیکالوجی پڑھ رہی ہے۔ الحمدللہ۔
دبئی کب شفٹ ہوئیں اور وہاں اپنے کام اور ادارے کا تعارف کروائیے؟
دبئی 2006 میں شفٹ ہوئی۔ آتے ہی اگلے ماہ جاب مل گئی پاکستان ایجوکیشن اکیڈمی میں۔ اسی کالج میں انگریزی پڑھانے کے ساتھ ساتھ بہت کام کیا… مارننگ اسمبلی سے لے کر سٹیج ڈرامے تک۔ آپ یوٹیوب پہ ‘گڈ بائے مسٹر چپس’ دیکھ سکتے ہیں۔ Good bye Mr Chips by PEA ٹائپ کریں تو مل جائے گا۔ یہ ایک دلچسپ تجربہ تھا… روایت سے ہٹ کر اب کی بار 70 سٹوڈنٹس کی ٹیم تھی جو سکرپٹ رائٹنگ، کاسٹیوم ڈیزائننگ، سٹیج سیٹنگ، لائٹ اینڈ ساؤنڈ ایفیکٹس، آڈیو ریکارڈنگز، ریہرسلز، بیک سٹیج اسسٹینس… سب سٹوڈنٹس کر رہے تھے اور پرفارم کر رہے تھے اساتذہ۔ بے حد پر لطف تجربہ تھا… مقصد بچوں کو اس ناول کی روح سمجھانا تھا۔ اسی طرح ایک سال ایسا بھی آیا کہ میرے ذمے پاکستان سٹڈیز کا سبجیکٹ تھا… میں نے ایک کوئیز اناؤنس کر دیا اور وہ ہم نے کیا KBC کون بنے گا کروڑ پتی کے پیٹرن پہ… وہ بھی کمال تجربہ تھا۔ سٹوڈنٹس نے خوب یاد بھی کر لیا اور اپنے آئی ٹی کے جوہر بھی دکھائے… یہ بھی ایک بہترین پروگرام تھا۔
لکھنے کا خیال کیسے آیا، ‘پرواز’ کے بارے میں بتائیے؟
لکھنے کا شوق تو خیر بچپن سے ہی تھا۔ پہلے ڈائری لکھا کرتی تھی… اچھے اچھے اقتباسات اور اشعار محفوظ کیا کرتی… کچھ اپنے خیالات بھی لکھتی… مگر جب ریڈیو پہ جانا ہوا تو باقاعدہ کوشش کرتی کہ اپنے پورے پروگرام کا سکرپٹ بہترین لکھوں۔ ریڈیو پاکستان بہاولپور میں میری آواز کے ساتھ میرا سکرپٹ ہی میری شناخت بنا۔ میں بہت محنت کرتی تھی۔ پھر اسکول کی جاب کے دوران بہت کچھ لکھتی رہی… بچوں کو ہمیشہ سکرپٹ لکھنا بولنا سکھاتی… سنجیدگی سے میں نے لکھنا شروع کیا 2013 میں… ‘ہم سب’ ایک ڈیجیٹل بلاگ ہے جہاں نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر سے اردو کے بہترین صحافی اور مصنفین لکھتے ہیں، میں نے بھی یہی سے لکھنا شروع کیا۔ چند ابتدائی تحریروں سے ہی میری شناخت بن گئی۔ بس پھر لکھتی رہی… دیگر اخبارات میں بھی چھپی۔
‘پرواز’ ترجمہ ہے اولگا تکارچک کے ناول ‘فلائٹس’ کا… جب 2018 میں اولگا نے نوبیل پرائز حاصل کرنے کے بعد تقریر کی… میں سن رہی تھی… مجھے اولگا کی باتوں نے بہت متاثر کیا… میں نے ان کے کچھ انٹرویوز دیکھے… مجھے احساس ہوا کہ اولگا دنیا کو ایک انوکھے زاویے سے دیکھتی ہیں۔ ان کی کتاب ‘فلائٹس’ کو چونکہ ان کی زندگی اور حقیقی مشاہدات اور تجربات کی کتاب مانا جاتا ہے اور نوبیل انعام ملنے میں اس کتاب کو باقاعدہ مد نظر رکھا گیا اس لئے میں نے اسے پڑھنا شروع کیا۔ اب پرلطف بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں ترجمہ اس زبان سے کرنے کو ہی مانا جاتا جو تخلیق کی اصل زبان ہوتی ہے۔ یہ کتاب ‘فلائٹس’ بھی پولش زبان میں ‘بیگونی’ کے نام سے لکھی گئی… مگر جینیفر کروفٹ جس نے اسے انگریزی میں ترجمہ کیا وہ اکثر آپ کو اولگا تکارچک کے ساتھ ہی نظر آتی ہیں۔ وہ اولگا کی آفیشل ٹرانسلیٹر ہیں۔ ان کے بارے میں اولگا خود کہتی ہیں کہ ان کا ترجمہ اور انداز ہو بہو ان کی پولستانی میں لکھی کتاب جیسا ہی ہے۔ لہذا میں نے اردو میں اس کا ترجمہ شروع کیا اور چند ایسے لوگوں کے سامنے اس کے کچھ حصے پیش کئے جو اولگا کے لفظ، جملے، انداز اور لہجے کو جانتے تھے… انھوں نے مجھے یہی کہا کہ ہو بہو اردو ترجمے میں اولگا دکھائی پڑتی ہیں۔ اس حوصلہ افزائی کے ساتھ میں ترجمہ کرتی گئی۔ دو سال میں یہ کام مکمل ہوا کیونکہ کتاب میں مصنف کا عمیق مشاہدہ، گہری فکر اور پیچیدہ ساخت کے جملے پرلطف انداز میں بیان کئے گئے، لہذا میں نے پوری کوشش کی کہ اسے یونہی اردو کے قالب میں ڈھالا جائے۔
میری دوسری کتاب اردو سے انگریزی میں ترجمہ ہے۔ ڈاکٹر فرحت عباس شاہ جو شعر و سخن کے حوالے سے ہمارے پاکستان کا فخر ہیں، ان کی ادب و فن کے تجزیے کی تھیوری ہے ‘اردو کا ادراکی تنقیدی دبستان’… اسے انگریزی میں PERCEPTIONISM کے نام سے ترجمہ کیا تاکہ بیرونی دنیا تک اس تھیوری کو پہنچایا جائے۔ میری دونوں کتابیں شارجہ انٹرنیشنل بک فئیر میں لانچ ہوئیں۔ ‘پرواز’ 2022 میں جبکہ ‘پرسیپشنزم’ 2024 میں۔
دبئی میں پاکستان کی کیا چیز مس کرتی ہیں؟
سچ کہوں… واللہ… جیسی رونق پاکستان کی گلی گلی کوچے کوچے میں ہے، یہاں وہ چیز نہیں۔ باہر نکلیں تو انتہائ صاف ستھری خوبصورت سڑکیں اور جگمگ رستے ہیں، پر آپ کو لوگ رستوں پہ چلتے پھرتے یوں دکھائی نہیں دیتے۔ موسم کا اس میں بہت دخل ہے۔ اپنے پاکستان کے کیا کہنے… جیسی رونق گھروں کے اندر، ویسی ہی باہر… لوگ چلتے پھرتے، ہنستے بولتے، لڑتے غصہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ادھر ریڑھی پر فروٹ بک رہا ہے، ادھر سموسے چاٹ، ادھر کچھ دوست کھڑے خوش گپیاں کر رہے ہیں تو کوئی ہارن بجا کے رستہ مانگ رہا ہے… پنکچر والے، چائے والے، ڈرائی فروٹ والے… راہ چلتے لوگ، سائیکل، رکشہ، بائیک، گاڑی سب آوازیں، چہل پہل، رونق، زندگی… یہ سب بہت مس کرتی ہوں۔ اس تمام بات کا مقصد قطعی یہ نہیں کہ ٹریفک کا نظام نہ ہو، بے ہنگم پن ہو، نہیں وہ سب بہت ضروری ہے… بس راستوں کی رونق مجھے بہت اچھی لگتی ہے۔
پاکستان اور دبئی کے ماحول میں کتنا فرق ہے اور وہاں کیا چیز سب سے بہتر محسوس ہوئی؟
دیکھئے، دبئی میں تو سبھی کچھ بہت منظم، بہت آسودہ ہے… ایسا نظام اور سہولیات فراہم کرنے کے لئے یہاں کی لیڈرشپ کو سلام ہے۔ یہ وژنری لوگ ہیں۔ دن رات جدید تصورات پہ کام کرتے ہیں اور دبئی کو دیکھ لیجئے ہر میدان میں نمبر ون پہ لے آئے ہیں۔ دل سے ہوک سی اٹھتی ہے کہ ہمارے ملک کو تو اللہ نے اتنے بے بہا وسائل سے نوازا ہے، اس کے باوجود ہم پریشان ہیں۔ یہاں کی سب سے بہترین چیز ہی یہاں کے حکمرانوں کی اپنی سرزمین سے سچی محبت اور عوام کے لئے بہتر سے بہتر کرنے کا جذبہ ہے۔ ہم جیسے عام لوگ بھی وہی سہولیات انجوائے کرتے ہیں جو کسی بہت پیسے والے کے لئے ہو سکتی ہیں۔ ان کی عدالتوں میں انصاف کا بہترین نظام ہے وطنی اور غیر وطنی کے لئے یکساں… ان کی لیڈرشپ عوام کی فلاح و بہبود کے لئے دن رات کوشاں ہے۔ یہی سب سے اچھی اور معتبر بات ہے میرے نزدیک۔
کن ادیبوں کو آپ نے زیادہ پڑھا اور پسندیدہ ادیب؟
کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، سعادت حسن منٹو سب کو پڑھا، عصمت چغتائی کے مشاہدے اور جرات نے بہت متاثر کیا… عبداللہ حسین کا انٹلیکچوئل انداز بہت پسند آیا… احمد ندیم قاسمی اور غلام عباس کے افسانے دل کو چھوتے رہے… اس کے علاوہ پطرس بخاری کے مضامین، ہلکے پھلکے مزاح میں شفیق الرحمن اور مشتاق یوسفی سے بہت محظوظ ہوتی رہی۔ اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کا ادب میں روحانی اور عاجزانہ اقدار کے فلسفوں سے دل میں ان کا ایک خاص مقام بنا… مستنصر حسین تارڑ صاحب کی تحریروں کے ذریعے تو نگر نگر کی خوشبو ان مقامات پہ جانے سے پہلے بلکہ اکثر تو جائے بغیر کی محسوس کی… پھر تراجم پڑھنے کا شوق بھی ہمیشہ رہا۔ ہرمن ہیسے کا ‘سدھارتھ’ ناول جسے آصف فرخی نے ترجمہ کیا، بے حد انجوائے کیا۔ دستوفیسکی کو بہت شوق سے پڑھتی تھی… اس کی تحریروں کی اداسی نے مجھے بہت فہم عطا کیا۔ کافکا کی گہری اور دلگیر باتیں دل دکھاتی بھی رہیں اور دل لبھاتی بھی رہیں۔ تازہ لکھنے والوں میں ہمارے بہاولپور کے نیئر مصطفی، اسلام آباد سے ظفر عمران، لاہور سے نیلم احمد بشیر، دعا عظیمی، کنول بہزاد، ثمینہ سید، مسلم انصاری، کراچی سے نشاط یاسمین خان اور بہت سوں کو پڑھ رہی ہوں۔ میں بالخصوص ذکر کرنا چاہوں گی ریسرچ رائٹنگ کرنے والی میری بے حد پسندیدہ مصنفہ، شاعرہ اور مترجم صدف مرزا کا جو ڈنمارک میں اردو ادب کو زندہ رکھے ہوئے ہیں اور اقبال کو فارسی سے ڈینش زبان میں ترجمہ کر کے پڑھا بھی رہی ہیں… اور پھر روبینہ فیصل جو کینیڈا میں مقیم ہیں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں پہ بہترین افسانے، ناول اور فلمز تخلیق کر رہی ہیں۔ مجھے ہمیشہ نئے افکار اور نئے انداز سے لکھنے والے متاثر کرتے ہیں۔ اگر آج آپ مجھ سے پوچھیں تو میں صاف کہوں گی کہ مجھے اولگا تکارچک کے انداز نے بے حد متاثر کیا ہے۔ میں 2018 سے اب تک اس کے اثر سے نکل نہیں پائی ہوں۔
پاکستانی معاشرے سے کوئی گلہ؟ اور پیغام؟
جی بہت سے ہیں… آخر گلے اپنوں سے ہی ہوتے ہیں… ایک تو یہ کہ جب ہمیں کہا جاتا ہے کہ جی آپ تو باہر ہیں، آپ کو پاکستان کی سیاست، اور حالات سے کیا لینا دینا، آپ نہ بولیں… دل بہت دکھتا ہے۔ کوئی مجبوری میں اپنا ملک چھوڑ کے بیٹھا ہے یا اپنی مرضی سے، آپ یہ کہہ کر اس کے دل میں بسی اپنے وطن کی محبت کو نوچ نہیں سکتے… التماس ہے کہ یوں ہماری دل آزاری نہ کیا کریں۔ پاکستانی خواتین سے بالخصوص گلہ ہے کہ خود کو دنیا اور وقت کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیوں نہیں کرتیں؟ ہر نئی آنے والی ٹیکنالوجی سیکھیں، اپنا علم بڑھاتی چلی جائیں، کام کریں، اپنی شناخت بنائیں… گھریلو سیاست اور فضول خرچی ترک کریں۔ اس ضمن میں میں اپنے ہمسائے ملک کی مثال دینا چاہوں گی… وہ خواتین زندگی کے ہر شعبپاکستانی معاشرے سے کوئی گلہ؟ اور پیغام؟
جی بہت سے ہیں… آخر گلے اپنوں سے ہی ہوتے ہیں… ایک تو یہ کہ جب ہمیں کہا جاتا ہے کہ جی آپ تو باہر ہیں، آپ کو پاکستان کی سیاست، اور حالات سے کیا لینا دینا، آپ نہ بولیں… دل بہت دکھتا ہے۔ کوئی مجبوری میں اپنا ملک چھوڑ کے بیٹھا ہے یا اپنی مرضی سے، آپ یہ کہہ کر اس کے دل میں بسی اپنے وطن کی محبت کو نوچ نہیں سکتے… التماس ہے کہ یوں ہماری دل آزاری نہ کیا کریں۔ پاکستانی خواتین سے بالخصوص گلہ ہے کہ خود کو دنیا اور وقت کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیوں نہیں کرتیں؟ ہر نئی آنے والی ٹیکنالوجی سیکھیں، اپنا علم بڑھاتی چلی جائیں، کام کریں، اپنی شناخت بنائیں… گھریلو سیاست اور فضول خرچی ترک کریں۔ اس ضمن میں میں اپنے ہمسائے ملک کی مثال دینا چاہوں گی… وہ خواتین زندگی کے ہر شعبے میں کام کر رہی ہیں۔ انھیں برینڈڈ کپڑے، جوتے، پرس کی پرواہ نہیں… وہ اپنے بچوں کے سکلز پہ پیسہ خرچ کرتی ہیں اور اپنے لیے نئی راہیں تلاش کرتی ہیں۔ ہماری خواتین شوہر حضرات پہ بہت زیادہ بوجھ ڈالتی ہیں، اس لیے پیغام یہی ہے کہ ہم سبھی کو ان روایات اور رسم و رواج کو ترک کرنے میں اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہئے جو کسی مجبور پہ بوجھ ڈالے، کسی کی تضحیک یا دل آزاری کا سبب بنے۔ ایسی رسوم نبھانے کے لیے ہمیشہ آگے بڑھیں جس سے کسی کا دل اچھا ہو، اس کو کام یا روزگار میں مدد ملے۔ سب کام کریں اور ایک دوسرے کو سپورٹ کریں۔ گھریلو سیاست بازی کا قطعی حصہ نہ بنیں۔ ہر آن سیکھتی جائیے، آگے بڑھتی جائیے۔ وسائل بڑھائیے، مسائل کم کیجئیے۔ اپنی اہمیت جاننے کا پہلا قدم یہ ہے کہ ایک بار رک کر سوچئیے تو کہ میں جہاں ہوں، وہاں میرے ہونے سے کیا بہتری آ رہی ہے۔
نبراس صاحبہ، آپ سے بہت اچھی گفتگو ہوئی، بہت شکریہ




