غزل
غزل / جرم یہ ہے کہ کبھی سچ نہ بتا پائیں گے / وبھا جین خواب
عزل
جرم یہ ہے کہ کبھی سچ نہ بتا پائیں گے
اور سزا یہ کہ غلط مان لیے جائیں گے
پھر وہی رات وہی چاند وہی تم وہی میں
کیا کسی چھت کے مقدر میں لکھے جائیں گے
ہجر کے ماروں سے کچھ اور تو ہونے سے رہا
پھر اداسی کا کوئی گیت نیا گائیں گے
کب تلک تم بھی اٹھا پاؤ گے یہ بارِ وفا
کب تلک ہم بھی صداقت سے نبھا پائیں گے
اوب جائے گا پھر اک روز یہ دل دنیا سے
اور ہم پھر تری باہوں میں چلے آئیں گے



