خبریں

توشہ خانہ:اسلام آباد ہائی کورٹ نےٹرائل کورٹ کافیصلہ کالعدم قراردے دیا


اسلام آباد ہائی کورٹ نے منگل کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس میں ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے معاملہ واپس ٹرائل کورٹ کو بھجوا دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس عمر فاروق نے توشہ خانہ کیس میں محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو سات دن میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل کے دلائل پر دوبارہ فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے۔

سیشن کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توشہ خانہ ٹرائل کو قابل سماعت قرار دیا تھا، جسے عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے توشہ خانہ کیس ناقابلِ سماعت قرار دینے کی درخواست دائر کی تھی۔

سیشن عدالت نے توشہ خانہ کیس کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے عمران خان پر رواں برس 10 مئی کو فرد جرم عائد کی تھی لیکن ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد اب عمران خان کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کیس ختم ہو گیا ہے۔ 

عدالتی کارروائی: کب کیا ہوا؟

عمران خان کے وکلا نے سیشن کورٹ میں توشہ خانہ کیس کے خلاف دائر کی گئی درخواست میں استدعا کی تھی کہ یہ کیس بدنیتی پر مبنی ہے، لہذا عدالت اسے ناقابل سماعت قرار دے۔

تاہم پانچ مئی کو سیشن کورٹ نے عمران خان کے وکلا کی درخواستیں مسترد کر دیں اور عمران خان کو فرد جرم عائد کرنے کے لیے 10 مئی کو طلب کیا گیا۔

اس کے بعد 10 مئی کو عمران خان پر فرد جرم بھی عائد کردی گئی، لیکن پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے سیشن کورٹ کا پانچ مئی کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا۔ 

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عمران خان کی قانونی ٹیم نے عدالت میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ’سیشن عدالت اسی وقت کیس سن سکتی ہے جب یہ الیکشن ایکٹ کے سیکشن 190 کے تحت بھیجا جائے۔‘

مزید کہا گیا تھا کہ ’درخواست گزار وقاص ملک شکایت دائر کرتے وقت ضلعی الیکشن کمشنر تھے ہی نہیں جبکہ درخواست پر وقاص ملک کے دستخط بھی مختلف ہیں۔ مختلف دستخط اور تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ عمران خان کے خلاف درخواست غلط بیانی پر مبنی ہے۔‘

اسی کیس میں عمران خان نے گذشتہ روز چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے توشہ خانہ کیس ٹرائل کے خلاف درخواستیں دوسرے بینچ کو منتقل کرنے کی استدعا کی تھی۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ ’عمران خان کو یقین ہے کہ چیف جسٹس کی عدالت سے شفاف اور غیرجانبدار انصاف نہیں ملے گا۔ چیف جسٹس عامر فاروق، عمران خان کی درخواستیں سننے سے معذرت کر لیں۔‘

توشہ خانہ ریفرنس میں فوجداری کارروائی کیا ہے؟ 

عمران خان کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کارروائی کا ریفرنس الیکشن کمیشن کی جانب سے ٹرائل کورٹ میں گذشتہ برس دسمبر میں بھیجا گیا تھا۔

الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ ریفرنس ٹرائل کورٹ میں الیکشن ایکٹ کے سیکشن 137 ،170 ،167 کے تحت بھجواتے ہوئے کہا تھا کہ ’عدالت شکایت منظور کرکے 

عمران خان پر کرپٹ پریکٹس کا ٹرائل کرے اور انہیں سیکشن 167 اور 173 کے تحت سزا دے۔‘

ان دفعات کے تحت تین سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ 

توشہ خانہ نااہلی ریفرنس فیصلہ کیا تھا؟

الیکشن کمیشن کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے گذشتہ برس 21 اکتوبر کو عمران خان کے خلاف توشہ خانہ نااہلی ریفرنس کا فیصلہ سنایا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے جان بوجھ کر الیکشن ایکٹ 2017 کی خلاف ورزی کی ہے۔

الیکشن کمیشن نے عمران خان کو جھوٹا بیان جمع کروانے پر آرٹیکل 63 (ون) (پی) کے تحت نااہل قرار دیا تھا۔ 

تحریری فیصلے میں کہا گیا تھا کہ عمران خان نے غیر واضح بیان جمع کروایا، عمران خان نے الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن137 (اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات جمع کروانا)، سیکشن167 (کرپٹ پریکٹس) اور سیکشن 173 (جھوٹا بیان اور ڈیکلیریشن جمع کروانا) کی خلاف ورزی کی ہے، لہذا وہ الیکشن ایکٹ کی متعلقہ سیکشنز کے تحت کرپٹ پریکٹس کے مرتکب ہوئے ہیں اور انہوں نے توشہ خانہ سے حاصل تحائف اثاثوں میں ڈیکلیئر نہ کرکے دانستہ طور پر حقائق چھپائے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں عمران خان کے خلاف فوجداری کارروائی کرنے کی بھی سفارش کی تھی۔ 

توشہ خانہ ریفرنس کس نے دائر کیا تھا؟

چار اگست 2022 کو مسلم لیگ ن کے رہنما محسن نواز رانجھا نے حکمران الائنس پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے قانونی ماہرین کے دستخطوں کے ساتھ عمران خان کے خلاف توشہ خانہ تخائف کی تفصیلات شئیر نہ کرنے پر سپیکر قومی اسمبلی کے پاس آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کے تحت ریفرنس دائر کیا تھا۔

ریفرنس میں سرکاری تخائف کو بیرون ملک بیچنے کا الزام بھی لگایا گیا اور تمام دستاویزی ثبوت بھی ریفرنس کے ہمراہ جمع کروائے گئے تھے۔





Source link

Author

Related Articles

Back to top button