جلیل عالی کا ایک شعر : ڈاکٹر رفیق سندیلوی
جلیل عالی کا ایک شعر : ڈاکٹر رفیق سندیلوی
دیکھ اے بحرِ فنا! جوش نہ کھا، ہوش میں آ
ہم نے کچھ سوچ کے چھوڑے ہیں کنارے تیرے
یہ شعر پہلی قرأت ہی میں قاری کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے کیونکہ اس میں فنا جیسے ہیبت ناک اور ازلی تصور کو محض ایک غیر شخصی حقیقت کے طور پر نہیں بلکہ ایک مخاطَب اور ایک قوتِ فعال کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ شاعر کے لہجے میں خوف زدگی ہے نہ مرعوبیت، بلکہ اس میں ایک ٹھہراؤ، وقار اور خود اعتمادی جھلکتی ہے۔ “بحرِ فنا” کا استعارہ زندگی اور موت کے اس وسیع اور بے کنار دائرے کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کے سامنے عموماً انسان خود کو بے بس محسوس کرتا ہے مگر یہاں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ شاعر فنا کو جوش سے باز رہنے اور ہوش میں آنے کا کہتا ہے۔۔۔ گویا یہ اعلان کیا جا رہا ہو کہ اندھی قوتوں کے مقابل بھی کوئی شعوری ہستی موجود ہے جو محض بہاؤ کا حصہ بننے پر آمادہ نہیں۔
شعر کا دوسرا مصرع اس تاثر کو اور گہرا کر دیتا ہے۔ “ہم نے کچھ سوچ کے چھوڑے ہیں کنارے تیرے” محض احتیاط یا کم ہمتی کا بیان نہیں، ایک باقاعدہ فکری فیصلے کی خبر دیتا ہے۔ یہاں کنارے چھوڑنا فنا سے ناواقفیت یا خوف کی علامت نہیں بلکہ اس کی مکمل آگہی کے بعد کیا گیا انتخاب ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں شعر ایک سادہ وجودی کیفیت سے نکل کر فکری اور فلسفیانہ منطقے میں داخل ہو جاتا ہے۔ قاری کے ذہن میں فوراً یہ سوال ابھرتا ہے کہ یہ “ہم” کون ہے جو فنا سے مکالمہ کر رہا ہے، جس کے پاس سوچنے کی صلاحیت ہے، جو جوش اور ہوش میں فرق کر سکتا ہے، اور جو ترک و قبول کا اختیار رکھتا ہے۔ اسی “ہم” کی تعیین شعر کی تفہیم کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ کیا یہ عام انسان ہے، مجموعی انسانی شعور ہے یا کوئی بالاتر قوت جو فنا کے مقابل کھڑی ہو کر کلام کر رہی ہے؟ یہی سوال شعر کے فکری دروازے کھولتا ہے اور قاری کو اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ وہ محض حسنِ بیان پر اکتفا نہ کرے بلکہ اس کے باطن میں اتر کر "ہم” کے وجود، مرتبے اور معنوی دائرے پر غور کرے۔
اگر شعر میں “ہم” کو بنی نوعِ انسان کے مجموعی شعور کے طور پر پڑھا جائے تو معنی کی ایک وسیع اور ٹھہری ہوئی سطح سامنے آتی ہے۔ یہاں انسان کسی فرد کی حیثیت سے نہیں، ایک تاریخی، فکری اور تجرباتی وحدت کے طور پر جلوہ گر ہوتا ہے۔ وہ انسان جس نے صدیوں میں فنا کو دیکھا بھی ہے، برتا بھی ہے اور اس کے بارے میں سوچا بھی ہے۔ موت، عدم اور نیست اس کے لیے اجنبی تصورات نہیں رہے۔ وہ ان سے واقف ہے اور ان کی کشش و ہیبت دونوں کو پہچانتا ہے۔ اسی واقفیت کے سبب اس کا رویّہ کسی عمومی خوف یا کسی اندھی جرأت کا نہیں بلکہ شعوری توازن کا ہے۔ اس تناظر میں “کنارے چھوڑنا” کسی پسپائی یا کم ہمتی کا استعارہ نہیں رہتا، زندگی سے ایک باقاعدہ وابستگی کی علامت بن جاتا ہے۔ انسان فنا کے سمندر کی گہرائی اور وسعت سے باخبر ہے مگر اس کے باوجود وہ خود کو اس میں بہا دینے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ وہ زندگی کو محض حادثہ نہیں سمجھتا بلکہ ایک امکان، ایک ذمہ داری اور ایک مسلسل جدوجہد کے طور پر قبول کرتا ہے۔ امید، مقصد اور عمل اسی وابستگی کے مظاہر ہیں جو اسے فنا کے مکمل غلبے سے روکے رکھتے ہیں۔
شعر کا مصرعۂ ثانی محض ایک بیان نہیں بلکہ انسانی شعور کی پوری تاریخ کو سمیٹے ہوئے ہے۔ اس میں تجربہ بھی ہے، دکھ بھی، سوال بھی اور جواب بھی۔ انسان کا فنا سے فاصلہ لاعلمی کی وجہ سے نہیں بلکہ علم کے بعد پیدا ہونے والے انتخاب کی بنا پر ہے۔ وہ جانتا ہے کہ مکمل ترکِ حیات یا خود کو عدم کے حوالے کر دینا کوئی حتمی حل نہیں، اصلاً یہ ایک ایسا انکار ہے جو زندگی کے معنوں کو ختم کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ فنا کو رد نہیں کرتا مگر اسے اپنے وجود کی ایک واحد حقیقت کے طور پر بھی تسلیم نہیں کرتا۔ غور کیجئے تو اس قرأت میں انسان کا مرتبہ خاص طور پر نمایاں ہو جاتا ہے۔ وہ کمزور یا بے بس مخلوق نہیں جو محض طاقتور کائناتی قوتوں کے سامنے سر جھکا دے بلکہ ایک فانی ہستی ہے جو اپنی فنا کو جانتے ہوئے بھی وقار کے ساتھ جینے کا فیصلہ کرتی ہے۔ شعر میں موجود “ہم” اسی باوقار انسانی شعور کی آواز ہے جو فنا کو تسلیم تو کرتا ہے مگر اس کے سامنے خود کو تحلیل ہونے نہیں دیتا، اور یہی شعوری ٹھہراؤ اس خیال کو محض ایک خوب صورت شعر سے آگے انسانی خود آگاہی کا بیان بنا دیتا ہے۔
اگر “ہم” کو انسان بطور صاحبِ عقل کے زاویے سے دیکھا جائے تو شعر ایک اور گہری معنوی جہت اختیار کر لیتا ہے۔ یہاں انسان محض زندہ مخلوق نہیں رہتا بلکہ عقل، فہم اور شعور کا پیکر بن کر سامنے آتا ہے۔ اسی عقل کی بدولت وہ کائنات کی اندھی قوتوں سے امتیاز قائم کرتا ہے اور ان کے مقابل اپنی حیثیت متعین کرتا ہے۔ شاعر نے “بحرِ فنا” کو جوش سے منسوب کر کے اسے ایک ایسی قوت کے طور پر پیش کیا ہے جو بہاؤ رکھتی ہے مگر سمت نہیں، جو طاقتور تو ہے مگر صاحبِ فہم نہیں۔ اس کے مقابل “ہم” کی شناخت سوچ سے جڑی ہوئی ہے۔ سوچ یہاں محض ذہنی سرگرمی نہیں بلکہ تمیز، انتخاب اور ضبط کی علامت ہے۔ عقل کا کام یہی ہے کہ وہ جوش کو پہچانے، اس کے اثر کو سمجھے اور پھر اس کے آگے حد قائم کرے۔ یہی وجہ ہے کہ شاعر فنا کو ہوش میں آنے کی تلقین کرتا ہے۔ یہ تلقین دراصل ایک علامتی اعلان ہے کہ اندھی قوتیں اگرچہ غالب نظر آتی ہیں مگر ان کی بالادستی مطلق نہیں۔ ان کے سامنے ایک ایسی ہستی موجود ہے جو سمجھتی ہے، پرکھتی ہے اور فیصلے کرتی ہے۔
دوسرے مصرعے میں ملفوف بیان عقل کے عملی اظہار کے طور پر بھی سامنے آتا ہے۔ کنارے چھوڑنا یہاں عقل کی بنائی ہوئی سرحدیں ہیں، وہ حدود جو انسان نے محض بقا کے لیے نہیں بلکہ معنویت کے تحفظ کے لیے قائم کی ہیں۔ عقل جانتی ہے کہ فنا کی کشش جذباتی ہو سکتی ہے مگر وہ اس کشش کو قبول یا رد کرنے کا اختیار اپنے پاس رکھتی ہے۔ اس اختیار کے ذریعے انسان خود کو محض ایک ردِعمل کرنے والی مخلوق کے بجائے فیصلہ ساز ہستی کے طور پر منواتا ہے۔ اس طرح شعر میں عقل کا مرتبہ فنا سے بلند دکھائی دیتا ہے۔ فنا ایک حقیقت ضرور ہے مگر غیر شعوری حقیقت جبکہ عقل ایک ایسی قوت ہے جو حقیقت کو سمجھنے اور اس کے ساتھ فاصلہ رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ شاعر کا یہ رویّہ انسان کو کائناتی بہاؤ کے سامنے بے وزن نہیں ہونے دیتا بلکہ اسے اس مقام پر کھڑا کرتا ہے جہاں وہ اندھی طاقتوں سے مکالمہ بھی کر سکتا ہے اور ان کے اثر کو محدود بھی۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں شعر انسان کی عقل کو محض ایک وصف نہیں بلکہ اس کی اصل شناخت اور برتری کے طور پر پیش کرتا ہے۔
شعر کی اس عقلی قرأت میں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ جن قوتوں کو “اندھی” کہا گیا ہے، مذہبی یا ایمانی ذہن انہیں ہرگز بے شعور نہیں سمجھتا بلکہ ایک برتر اور بینا نظم کا حصہ قرار دیتا ہے۔ اس زاویے سے فنا، بہاؤ یا کائناتی جبر کسی بے سمت طاقت کا نام نہیں بلکہ ایک حکیمانہ مشیت کی کارفرمائی ہے جس کے پسِ پشت علم اور ارادہ کارفرما ہے۔ یوں شعر کا مکالمہ صرف انسان اور بے مقصد قوتوں کے درمیان محدود نہیں رہتا بلکہ محدود انسانی شعور اور ایک وسیع تر ماورائی شعور کے درمیان بھی قائم ہو جاتا ہے جہاں انسان اپنی حد میں "ایک اختیار” رکھتا ہے اور کائنات اپنی حد میں "ایک ترتیب” رکھتی ہے۔
تیسری قرأت میں "ہم” کو صاحبانِ بصیرت یا "اہلِ فکرونظر” کے طور پر لیا جا سکتا ہے جو وجود، عدم اور معنی کے سوالات کو سطحی جاننے کے بجائے فکری ریاضت کا ایک سلسلہ سمجھتے ہیں۔ یہ وہ اذہان ہیں جو فنا کو ایک ہولناک انجام یا نفسیاتی خوف کے طور پر نہیں دیکھتے، ایک تعبیری حقیقت کے طور پر اس کا سامنا کرتے ہیں۔ ان کے لیے موت اور نیستی حادثہ نہیں، ایک فکری مسئلہ ہے جس پر تفکر بھی کیا جا سکتا ہے اور مکالمہ بھی۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو شعر کا لہجہ اور بھی معنی خیز ہو جاتا ہے۔ اہلِ فکر کا فنا سے خطاب کسی جذباتی ردِعمل کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ یہ طویل غور وخوض کے بعد پیدا ہونے والی بے نیازی کا اظہار ہے۔ "جوش نہ کھا، ہوش میں آ” جیسے ٹکڑے یہاں اس بات کی علامت ہیں کہ مخاطِب خود ہوش اور آگہی کی حالت میں ہے۔ وہ فنا کی قوت سے مرعوب نہیں کیونکہ وہ اس کی ماہیّت کو سمجھ چکا ہے۔ سمجھ بوجھ کا یہی مرحلہ خوف کو کمزور اور وقار کو مضبوط بنا دیتا ہے۔ اس تناظر میں دوسرا مصرعہ اہلِ بصیرت کے طرزِ عمل کا خلاصہ معلوم ہوتا ہے۔ یہ کنارے نہ تو لاعلمی کی دیواریں ہیں اور نہ ہی مصلحت کی پناہ گاہیں بلکہ فکری حد بندیاں ہیں۔ اہلِ نظر فنا کے سمندر میں کودنے سے انکار اس لیے نہیں کرتے کہ وہ اس کی گہرائی سے ناواقف ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ جانتے ہیں کہاں رکنا ہے۔ ان کے نزدیک ہر مقرر کردہ راستے کو طے کرنا ضروری نہیں، اور ہر معلوم حقیقت میں تحلیل ہونا بھی لازم نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں “ہم” خواص کا “ہم” بن جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو زندگی اور موت دونوں کو ایک فکری فاصلے سے دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جو زندگی کو اپناتے اور فنا کو تسلیم کرتے ہیں مگر اندھے بن کر اس کے آگے سر نہیں جھکاتے۔ اس قرأت میں شعر ایک طرح سے فکری اشرافیہ کے وقار کا اعلان بن جاتا ہے جہاں انسان کی برتری اس کے جسم یا قوت میں نہیں بلکہ اس کی بصیرت اور شعوری گہرائی میں مضمر ہے۔
چوتھی قرأت میں شعر علامتی سطح پر بلند ہو جاتا ہے جہاں "ہم” اور "بحرِ فنا” اب محض انسان اور موت کا اشارہ نہیں رہتے بلکہ دو متقابل اصولوں کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ ایک طرف وہ کائناتی قوتیں ہیں جو بہاؤ رکھتی ہیں مگر شعور نہیں، جو حرکت تو پیدا کرتی ہیں مگر سمت کا تعیّن نہیں کرتیں؛ اور دوسری طرف انسان ہے جو کمزور ہونے کے باوجود ہوش، انتخاب اور ارادے کی طاقت رکھتا ہے۔ اس تقابل میں اصل مقابلہ طاقت کا نہیں بلکہ نوعیت کا ہے۔ "بحرِ فنا” یہاں اندھی حرکت کا استعارہ بن جاتا ہے۔ اس کا جوش ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لینا چاہتا ہے، بغیر کسی امتیاز کے، بغیر کسی سوال کے۔ اس کے مقابل انسان کا “ہم” ایک ایسی ہستی کے طور پر ابھرتا ہے جو بہاؤ میں بہنے کے بجائے رک کر سوچنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہی سوچ اسے انتخاب کا حق دیتی ہے اور یہی انتخاب اندھی قوت کے سامنے اس کی پہلی اور بنیادی مزاحمت ہے۔ انسان فنا کو روک نہیں سکتا، مگر وہ اس کے اثر کی نوعیت طے کر سکتا ہے۔ علامتی تناظر میں دیکھیں تو "سوچ” حفاظتی فاصلے کا بیان نہیں، شعور کی تخلیقی مداخلت ہے۔ کنارے فطرت نے نہیں بنائے، انسان نے خود وضع کیے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں انسان محض ایک عنصر کی طرح کائنات کا تابع نہیں رہتا بلکہ اس کے بہاؤ میں اپنی حد مقرر کرنے والا شریک بن جاتا ہے۔ وہ بہاؤ کو مکمل طور پر رد نہیں کرتا مگر اس کے اندر اپنی جگہ متعین کر لیتا ہے۔ غیر معمولی مقام پر فائز ہونے کے باوجود وہ مخلوق رہتا ہے مگر ایسی مخلوق جو معنی پیدا کرتی ہے، حدود بناتی ہے اور اندھی طاقتوں کے سامنے خاموشی سے اپنا وجود منوا لیتی ہے۔ یوں شعر میں انسان اور کائناتی قوتوں کا رشتہ تصادم کا نہیں، علامتی مکالمے کا بن جاتا ہے جہاں فیصلہ طاقت نہیں کرتی، شعور کرتا ہے۔ یہی شعور انسان کو فنا کے سمندر کے مقابل ایک ایسا کنارہ عطا کرتا ہے جو خود اسی کی تخلیق ہے۔ ان تمام قرأتوں کو سامنے رکھا جائے تو آخرکار سوال “ہم” کے مرتبے پر آ ٹھہرتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں شعر کی اصل جمالیات پوری طرح منکشف ہوتی ہے۔




