یادگار 25 دسمبر: پرانی دوستی، نئی کتاب اور خلوص کے لمحے

دسمبر کا دن تاریخ میں دو عظیم شخصیات، قائداعظم محمد علی جناحؒ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے منسوب ہے۔ پاکستان اور یورپ میں اس دن ان دونوں ہستیوں کا ذکرِ خیر کیا جاتا ہے۔ اتفاقِ رائے سے اسی تاریخ کو کچھ عام افراد کی پیدائش بھی ہوئی، جن میں سیدہ عطرت بتول نقوی بھی شامل ہیں۔ ہر سال 24 دسمبر کی رات بارہ بجے کے بعد بچوں اور ننھے بھتیجے بھتیجیوں کی جانب سے سالگرہ کی مبارکباد کے پیغامات اور کیک کاٹنے کے منصوبے شروع ہو جاتے ہیں۔
اس برس 25 دسمبر کی سالگرہ ایک خاص خوشی لے کر آئی، جب لڑکپن کے زمانے کی نہایت قریبی دوست، ڈاکٹر ثمینہ، اسلام آباد سے لاہور آئیں تاکہ یہ دن سیدہ عطرت بتول نقوی کے ساتھ منا سکیں۔ اس خوشی میں مزید اضافہ اس بات سے ہوا کہ ڈاکٹر ثمینہ کی شاعری کی پہلی کتاب ’’حدیثِ دل‘‘ بھی اسی روز انہیں موصول ہوئی، جسے ماورا پبلشنگ ادارے نے شائع کیا ہے۔ چونکہ 25 دسمبر کی تعطیل کے باعث ماورا کا شو روم بند تھا، اس لیے ادارے کے سربراہ خالد شریف صاحب نے ڈاکٹر ثمینہ کو اپنے گھر مدعو کیا، جہاں سے انہوں نے اپنی کتب وصول کیں۔ ڈاکٹر ثمینہ کے مطابق، ایک بڑے اشاعتی ادارے کے سربراہ ہونے کے باوجود خالد شریف صاحب نہایت منکسرالمزاج ہیں، اور ان کی اہلیہ اور بہو نے بھی انتہائی خلوص اور محبت سے استقبال کیا۔ کتاب کی طباعت بھی اعلیٰ معیار کی تھی۔
بعد ازاں ڈاکٹر ثمینہ اور سیدہ عطرت بتول نقوی نے Mandarin Kitchen میں ڈنر کے دوران نہایت خوشگوار وقت گزارا۔ لڑکپن، فرسٹ ایئر اور کالج کے دنوں کی یادوں نے محفل کو مزید رنگین بنا دیا اور وقت گزرنے کا احساس ہی نہ رہا۔ اس موقع پر ڈاکٹر ثمینہ کی بہنوں، ڈاکٹر روبینہ اور تسنیم سے بھی ملاقات ہوئی۔
چونکہ ڈاکٹر ثمینہ اسلام آباد میں پریکٹس کرنے والی ایک فرض شناس ڈاکٹر ہیں، اس لیے وہ زیادہ دیر لاہور میں قیام نہ کر سکیں اور اگلے روز واپسی کے لیے روانہ ہو گئیں۔ تاہم ان کی آمد نے سیدہ عطرت بتول نقوی کی سالگرہ کو یادگار بنا دیا۔ اس موقع پر ذوق کا یہ شعر بے اختیار یاد آتا ہے کہ
’’ہمدمِ دیرینہ سے ملنا، خضر و مسیحا کی ملاقات سے بڑھ کر ہے۔‘‘
آخر میں اردو ورثہ کی پوری ٹیم کی جانب سے اپنی نہایت محترم، مخلص اور فعال رکن سیدہ عطرت بتول نقوی کو دل کی گہرائیوں سے سالگرہ مبارک پیش کی جاتی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت، سکون، علم و عمل کی برکتیں عطا فرمائے اور اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے ان کی کاوشوں کو شرفِ قبولیت بخشے۔ آمین۔



