نظم
نظم / خالد ریاض خالد
نظم
بھاگتے دن، دوڑتی راتیں
زندگی، کیپسول میں بند کر کے
دوڑاے پھرتے ہیں
سرمی شامیں
منتظر کب ٹھری ہیں
سنہری کرنوں کے لیے اندھا ہو گیا ہوں
چاندنی راتوں کے پرسکون لمحے،
پرانی کتابوں کے اوراق میں
تتلیاں کے ساتھ حنوط ہیں
تنہائی کے دھاگوں سے بنا کوئی لباس ہے
بدن دریدہ سے لپٹا ہوا
آنکھوں سے ضرورتوں کا چارٹ چپکا رہتا ہے
ساری خواہشیں خالی کوڑے دان میں پھینک دی ہیں
خوابوں کی دنیا اب نہیں ہے
جینا کوئی خیال تھا
جو کھو گیا ہے




