اُردو ادباُردو شاعرینظم

نظم: حال دل /کلثوم پارس

کچھ ایسے دل
توڑ دیں تیرا
کہ پھر جوڑ نہ پاؤ
تجھے ایسا رلائیں جاناں !
کہ ہنسنا بھول جاؤ
تو ملنے کو بلائے
اور ہم نا آئیں
کر کے برباد چین تیرا
ہم لمبی تان کے سوئیں
تو تڑپے ہماری یاد میں
ہمیں رتی بھر پرواہ نہ ہو
اس سلیقے سے
ستم ڈھائیں تجھ پر
کہ تجھ کو زرہ برابر
گلہ نہ ہو۔۔۔
تمہارا ارادہ ہو
حال دل سنانے کا
خود رونے اور
ہم کو بھی رلانے کا
جواباً ہم بے نیازی سے کہیں
کیا؟ کچھ کہا تم نے ؟؟
کچھ بھی تو نہیں سنا ہم نے
تجھے ایسا بھولیں
کہ تو عمر بھر یاد رکھے
پھر بھی دیتے ہیں دعا
خدا تجھے آباد رکھے
اے بے وفا!!!
ستم گر, دشمنِ جاں!
ہونے کو کیا ہو نہیں سکتا ؟
مگر ہم چاہ کر بھی
ایسا کر نہیں سکتے۔

 

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x