نظم
یعنی کہ ۔۔۔۔۔ مَیں؟ / اویس ضمؔیر
یعنی کہ ۔۔۔۔۔ مَیں؟
تعجّب ہے !
کہ جب بھی زائچہ کھینچوں،
کروں جب قرعہ اندازی،
نکالوں فال جب دیوانِ حافظ اور مرزا سے،
یا تنہائی میں رب سے استخارہ ہو،
کوئی تخمینہ کاری ہو ریاضی کی۔۔۔
مِرا ہی نام آتا ہے !
تو یعنی۔۔۔
آج مَیں جس اِبتلا میں ہوں،
جو ہے حالِ زبوں میرا،
صعوبت جو بھی کاٹی ہے،
مصیبت جو بھی گزری ہے،
سبب خود مَیں ہی تھا اس کا !
تو کیا کل کو بھی۔۔۔
جو آفت اترنی ہے،
کوئی اُفتاد پڑنی ہے،
جو آئندہ بلائیں ٹوٹنی ہیں۔۔۔
اُن سبھی کا
مَیں ہی ذمہ دار ٹھہروں گا ؟؟
تعجّب ہے۔۔۔۔
تعجّب ہے۔۔۔۔




