غزل
غزل / مرا حریف یونہی مجھ سے ڈر نہیں رہا تھا / اسد رحمان
غزل
مرا حریف یونہی مجھ سے ڈر نہیں رہا تھا
شکست خوردہ تھا مَیں اور مر نہیں رہا تھا
جسے وفا کی طلب تھی وہ میرے پاس آیا
یہ کام اپنے سوا کوئی کر نہیں رہا تھا
پھر ایک نام کو انگلی سے لکھ دیا دل پر
کوئی بھی ٹوٹکا جب کارگر نہیں رہا تھا
ہر ایک اپنے ہی گھر کو بچا رہا تھا جہاں
یہ جان لو کہ وہاں کوئی گھر نہیں رہا تھا
سزا کے طور پہ زندہ رکھا گیا مجھ کو
مَیں اپنے ہونے کا تاوان بھر نہیں رہا تھا
وہاں اک اشک سے حجت تمام کی مَیں نے
کوئی بھی حرف جہاں معتبر نہیں رہا تھا
کمالِ دُزد نگاہی تو یہ ہوا کہ خیال
تھا اس طرف بھی برابر جدھر نہیں رہا تھا




