اُردو ادبتبصرہ کتب

کتاب / ابریشم : تبصرہ / کنول بہزاد

سلمان باسط صاحب کے شعری مجموعے "ابریشم ” کی آمد کی خوش کن خبریں کئی مہینوں سے گردش میں تھیں ۔۔۔اس کے حسیں سرورق اور عنوان کے دلکش صوتی تاثر نے میرے ذوق مطالعہ کو مہمیز دے رکھی تھی ۔۔۔اور اب بالآخر یہ خوبصورت لمحات آن پہنچے ہیں کہ یہ خوبصورت کتاب ہماری دسترس میں ہے۔۔۔اس کے لیے فاطمہ شیروانی بطور پبلشر اور محترم سلمان باسط دونوں مبارکباد کے مستحق ہیں ۔

محترم سلمان باسط شعر و ادب میں ایک استاد کی حیثیت رکھتے ہیں مگر یہ بات آپ کو حیران کرتی ہے کہ آپ کا یہ شعری مجموعہ چار دہائیوں کے بعد منظر عام پر آیا ہے ۔۔۔ یہ ان نو آموز شعراء کے لیے یقیناً لمحہ فکریہ ہے جو اپنی شاعری سے ہر سو ایک طوفان برپا کیے ہوئے ہیں ۔۔۔اس حوالے سے آپ ایک رول ماڈل ہیں کہ کتاب در کتاب کی آمد آپ کے ادبی قد کی ہرگز ضامن نہیں ہوتی ۔۔۔اس کے لیے کچھ اور عناصر درکار ہوتے ہیں ۔۔۔

ابریشم کی زیارت ہوتی ہے تو دل کو چھو لینے والا نعتیہ کلام آپ کے قلب کو گداز اور آنکھوں کو نم کر دیتا ہے ۔۔۔

صد شکر میرا رابطہ خیر الورٰی سے ہے

آقا سے اس غلام کی نسبت سدا سے ہے

جلتے ہیں آج روح میں جو انگنت چراغ

اس روشنی کا سلسلہ غار حرا سے ہے

جوں جوں آگے بڑھتے ہیں ۔۔۔”ابریشم” اپنی پوری معنویت کے ساتھ آپ پر آشکار ہوتا چلا جاتا ہے ۔۔۔
نظمیں اتنی خوبصورت اور متنوع ہیں کہ آپ ٹھہر ٹھہر جاتے ہیں ۔۔۔ایک بار کی قرآت سے جی نہیں بھرتا ۔۔۔
ایک عجب شگفتگی ، روانی ، ردھم اور موسیقیت آپ کو اپنے سنگ بہا لے جاتی ہے ۔۔۔ یوں لگتا ہے جیسے آپ ایک سبک رو ندی کی سطح پہ تیرتی ناؤ میں سوار ہیں اور ارد گرد مسحور کن نظاروں کے جلوے بکھرے ہیں ۔۔۔

سلمان باسط صاحب کو شاعر محبت اور شاعر فطرت کہنا بے جا نہ ہوگا ۔۔۔میرا ماننا ہے کہ جب آپ فطرت سے اور خالق کائنات سے جڑ جاتے ہیں تو تب آپ کی تخلیق میں ایک وسعت ، ہمہ گیریت اور آفاقیت خود بخود پیدا ہو جاتی ہے ۔۔۔اور آپ بطور تخلیق کار زمان و مکان کی حدوں سے ماوراء ہو جاتے ہیں ۔۔۔

ذرا یہ نظم دیکھیے:

مری کے راستے پر

روشن اور چمکیلا دن ہے

آنکھ میں سبزہ تیر رہا ہے

چشمے کا شوریدہ پانی خواہش بن کر پھوٹ رہا ہے

چیڑ پہاڑوں کے اوپر سے گردن تانے دیکھ رہے ہیں

ہر لمحہ بل کھاتے رستے

یاد کی البم کھول رہے ہیں

جانے کیا کچھ یاد آنے پر

آنکھ کے گوشے بھیگ رہے ہیں

اس نظم میں حزن ،اداسی کے ساتھ ساتھ جو سر اور لے کا حسن ہے وہ آپ کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے ۔۔۔ اور پھر منظر کشی بھی کمال کی کرتے ہیں۔۔۔

اسی طرح نظم ” ساون موڑ مہار ” کو دیکھیے کیا حسیں مصوری کی ہے :

گہرے سبز درختوں میں کوئل کی کو کو

چڑیوں کی چہکار ، پپیہے کی گھائل پی ہو

کن من گرتی بوندیں جیسے گاتی ملہار

پتوں کی پازیب بجاتی چنچل شوخ ہوا

بادل میں گم ہوتے رستے
دھند میں لپٹے پیڑ

گہری سانولی شام کا جادو
مستی ، کیف ، سرور

اس موسم میں آنے لگا ہے ہر خواہش پر بور

یہ شعری مجموعہ صفحہ اول تا آخر آپ کا دھیان کہیں اور بھٹکنے نہیں دیتا۔۔۔نظموں کے بعد غزل کا جادو بھی سر چڑھ کر بولتا ہے ۔۔۔یہاں بھی سادگی میں پرکاری نظر آتی ہے ۔۔۔آپ اپنی دلی کیفیت کو بڑی سہولت سے شعر میں ڈھالنے کا ہنر جانتے ہیں ۔۔۔

ہر نئے زخم کو چہرے پہ سجا رکھتا ہے

آئینہ سارے
حوادث کا پتہ رکھتا ہے

دست الطاف کو دستک کی بھی توفیق نہیں

اور میرا دل ہے کہ دروازہ کھلا رکھتا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قسمت نام کی فلم میں ہم کو چپ کی ایکٹنگ کرنی ہے

تم اپنے کردار میں گم ہو میں اپنے کردار گم

آنکھ کی پتلی پر رقصاں حیرت کو کیا تصویر کریں

دانشور اور شاعر بھی شہرت کے آزار میں گم
۔۔۔۔۔۔

میں تو یہ کہوں گی کہ” ابریشم” آنے والے نئے سال کا ایک قیمتی اور نایاب تحفہ ہے جو ہمیں پیشگی میسر آ گیا ہے ۔۔۔شعر و سخن کے دلدادہ قارئین اس دلربا موسم میں اس سے خوب لطف و مسرت کشید کریں گے ۔۔۔سر دھنیں گے اور میری طرح سلمان باسط صاحب کو دعائیں بھی دیں گے ۔۔۔

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x