غزلنظم

غزل / افق سے دور کسی کہکشاں سے آیا ہوا / ڈاکٹر جواز جعفری

غزل

افق سے دور کسی کہکشاں سے آیا ہوا

میں اس زمین پہ ہوں آسماں سے آیا ہوا

 

جو زخم آج بھی لو دے رہا ہے سینے میں

یہ زخم ہے کسی طرزِ بیاں سے آیا ہوا

 

یہاں تک آیا ہوں راہ قبول پر چل کر

کہ میں نہیں کسی باب نہاں سے آیا ہوا 

 

عجب طرح کا تحیر ہے اس سراپے میں

کہ جیسے وہ ہے کسی داستان سے آیا ہوا

 

دہک اٹھے مرے جذبے ، مہک اٹھا مرا گھر

وہ گل بدن ہے کسی گلستاں سے آیا ہوا 

 

میں اس زمیں پہ ہمیشہ ٹھہر نہیں سکتا

کہ میں ہوں اور کسی خاک داں سے آیا ہوا

 

کبھی کھلا تھا کسی کہکشاں کی مٹی میں

یہاں یہ پھول ہے ابر رواں سے آیا ہوا 

 

وہ جس کے پیر و جواں سر اٹھا کے چلتے ہیں

یہ سر فروش ہے اس خانداں سے آیا ہوا

 

کسی کے سائے کی ٹھنڈک بتا رہی ہے جواز

ہمارے گھر میں ہے مہماں کہاں سے آیا ہوا

  

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x