نظم
اذیت بھری زندگی کا سکرین شاٹ / محمد ضیاء المصطفیٰ
اذیت بھری زندگی کا سکرین شاٹ
اے کلچر فوبیا والو!
ہر خستہ حالی کا ثقافت سے جبری نکاح پڑھانے والو!
ہر بدحالی میں کلچر کا ماسٹر پیس تلاشنے والو!
ٹھنڈے کمروں میں رکھے گداز صوفوں پہ پشت ٹِکائے
آگ برساتی دھوپ سے چھلنی جھونپڑی میں مصنوعی رومانس بھرنے والو!
کبھی ایک رات وہاں بسر کرو تو تم پہ کھُلے
کہ
تم غلطی پہ تھے،
جسے تم تصویروں میں دیکھ کر،
اپنی نظموں میں سکون کا پریم نگر کہتے رہے ہو،
وہ تو اذیت بھری زندگی کا سکرین شاٹ تھا
تم ان بےکواڑ کچے گھروندوں کو اپنی نظموں کی پیشانی پہ ٹانکتے پھرو
لیکن
تم یہاں پَل بھر بھی نہ ٹھہر پاؤ گے
اسے تم کلچر کہتے ہو،
کہتے رہو!
ہاں یہ کلچر ہے
مگر
افلاس کا کلچر
جو دیہات اور شہروں کی سرحدوں سے بےنیاز ہے
کیوں کہ،
مفلسی کا ہر جگہ ایک ہی کلچر ہوتا ہے




