عقیل عباس کے شعری مجموعہ ”برقاب“ کا اجمالی جائزہ / حسن جمیل

عقیل عباس کے شعری مجموعہ ”برقاب“ کا اجمالی جائزہ از حسن جمیل
اسے وحدت کے راگ نے جگا دیا ہے سو وہ دنیا تیاگنے نکل کھڑا ہوا ہے مگر اس سفر کے دوران میں اس کو ایک دشت میں قیام کرنا پڑا جہاں باہر کی دھوپ اور اندر کی آگ نے مل کر اس کی رنگت سنولا دی ہے اور اب اس نےشام کی پریوں کے غول کی تلاش میں باغ کا رخ کر لیا ہے راستے میں آلودہ پانیوں اور گھاس کی سڑانڈ گھات لگائے بیٹھی ہو گی مگر نروان کی خاطر بستی چھوڑ کر آنے والے کو راستے میں پیش آنے والی پریشانیوں کی کیا پروا کہ وہ تو نروان کی خاطر اس روشن آنکھوں اورگھور گھنیری زلفوں والی لڑکی کو بھی چھوڑ کر آ گیا جو اس کی دلی و بے کنار محبتوں کی متاعِ کل تھی۔
اس لڑکی کی یادیں عقیل عباس کی زندگی کا حسین سرمایہ ہیں اگرچہ عقیل اس کے ساتھ اتنا وقت نہیں گزار سکا جتنا وہ گزارنا چاہتا تھا مگر اسے اس کے ساتھ جو تھوڑا سا وقت گزارنے کا موقع ملا عقیل نے وہ وقت ضائع نہیں کیا تھا اس نے اس جمالیاتی فضا میں نہ صرف مشاہدے کی آنکھ کھلی رکھی تھی بلکہ اس پر مستزاد یہ کہ اس کی تمام تر شوخی و ناز و ادا اپنے تہذیبی حافظے میں جمع کر لی تھی، تبھی تو وہ ایسا شاہکار شعر تخلیق کر سکا ہے ۔
وہ جسم آنکھوں کو اتنی رسائی دیتا ہے
گلے سے پانی اترتا دکھائی دیتا ہے
اس نے اس شوخ لڑکی کی اداؤں اور ارد گرد کے عناصر کی حرکی تصویروں کے امتزاج سے کیسی حسین تمثال گری کی ہے، دیکھیے
دریا نے بھی بھاگ بھری کی گاگر اتنی بھر دی ہے
اب گاگر کے ہونٹ بھگوتے جاتے ہیں پگڈنڈی کو
وہ گل بدوش قبا میں بلوچ شہزادی
وہ اونٹ ہانکنے والی قبیلہ پرور بھی
کبھی وہ اس کی انتہا درجے کی خود پسندی پر اسے سرزنش کرتا ہے ۔
خود پہ اتنی فریفتہ بھی نہ ہو
پھول چنتی نہیں کپاس اپنے
کبھی وہ اسے اپنی طرف مائل ہوتا دیکھ کر حیرت زدہ رہ جاتا ہے
یہ کون پائنچے اونچے کیے اترتا ہے
ہماری آنکھ میں سیلاب دیکھنے کے لیے
عقیل نے اپنی شاعری میں پرلطف لمحات کی تصویر کشی بھی کی ہے ۔
وہ گھوڑیوں کی طرح شوخ اور لچیلی تھی
میں شہ سوار تھا لیکن گرفت ڈھیلی تھی
منظر کی اوک سے بڑی اچھی لپک اٹھی
ہم جھڑ چکے تو پیڑ کی ڈالی لچک اٹھی
کچھ عشق سے ہماری تشفی نہ ہو سکی
کچھ تجھ سے مل گئیں ہمیں آزادیاں بہت
وہ جا چکی تو اچانک مجھے خیال آیا
وہ گھاس جس پہ میں بیٹھا تھا کتنی گیلی تھی
اس نے پوشاک سوکھنے کو رکھی
اور خوشبو امڈ پڑی چھت کو
عدیم ہاشمی نے کہا تھا
وہ کہ خوشبو کی طرح پھیلا تھا میرے چار سو
میں اسے محسوس کر سکتا تھا چھو سکتا نہ تھا
عقیل نے ان لمحوں کی عکس بندی بھی کی ہے کہ جب بہ امر مجبوری قربت کے باوجود اسے قربِ جاناں کی گھڑی میسر نہ آ سکی اور اسے نہ چاہتے ہوئے بھی صبر کرنا پڑا
وہ ٹی وی پر ساس بہو کے جھگڑے میں گم بیٹھی ہے
میں چھاتی پر روک رہا ہوں خواہش کی برقابی کو
بدن ہے یا کوئی مفتوحہ چھاؤنی ہے جہاں
سگِ خیال خرابات میں ٹہلتا ہے
عقیل نے اپنی غزل میں بعض جگہ جنسی واقعات تک کو منظوم کر دیا ہے مگر یہاں بھی اس نے ذیادہ تر حرفِ برہنہ لکھنے سے گریز برتا اور خوش سلیقگی کا دامن ہاتھ سے جانے نہ دیا
جانے اس وقت کہاں فون پڑا ہے اس کا
جانے اس وقت وہ کس شخص کی آغوش میں ہے
تم ہٹا ہی لو ہاتھ سینے سے
اور پگھلا رہی ہو تانبے کو
اس نے اپلوں پہ دیگچی رکھی
اور پکنے لگا شباب اس کا
ملائم اتنی کہ چھونے سے نیل پڑ جائے
مبارزت ہو تو آفت ہو بربری بھی ہو
ان دونوں نے اندرون و بیرونِ ذات کئی سفر اکٹھے طے کیے ۔عقیل نے سفر کے دوران میں یہ شرط بھی عائد کی کہ ۔۔۔
تو ہمیں چھوڑ دے گا رستے میں
اور ہم چھوڑ دیں گے رستے کو
ان دونوں نے ایک ساتھ مل کر جو سب سے خوبصورت سفر اختیار کیا عقیل نے اس سفر کا احوال بھی اپنے ایک شعر میں منظوم کیا ہے ۔۔
پیش رو کوئی سرِ راہ ِنجف تھا ہی نہیں
پیچھے پیچھے مری مولائی تھی آگے میں تھا
جدید عہد میں ایک سچے شاعر کو جس کرب سے گزرنا پڑتا ہے اور ادبی مافیا کے غیر ادبی ہتھکنڈوں کا شکار ہو کر ایک سچا تخلیق کار جس طرح دیوار سے لگا دیا گیا ہے خوشامدی ٹولے طرح طرح کے غیر ادبی ہتھکنڈے استعمال کرکے مشاعروں پر قبضہ جمائے بیٹھے ہیں مشاعروں میں سستے جذبات پر مبنی اشعار سنائے جاتے ہیں۔ شعر کا معیار اس کی قرات پر بجنے والی سیٹیوں سے طے ہونے لگا ہے، ادھر محبت کے پیروں میں بھی سکوں کی جھنکار سے سجی پازیب سجا دی گئی ہے، معاشرتی بنت اس قدر فرسودگی کا شکار ہو چکی ہے کہ حرمت ِحرف ہی بے اوقات کر دی گئی ، عقیل جیسے زندہ دل شاعر کے ہاں یہ اندوہناک جذبہ(جس کا آگے ذکر آ رہا ہے) بلاوجہ پیدا نہیں ہوا اس کے پیچھے خارج کے مظاہر اور ان خارجی مظاہر کے سبب در آنے والا داخلی کرب ہے، بظاہر سادہ نظر آنے والا عقیل کا یہ عام فہم شعر اپنے اندر درد کا ساتواں آسمان لیے ہوئے ہے ۔۔
خدا کو خط لکھوں گا خود کشی کا
لکھوں گا میں ریزائن کر رہا ہوں
سید علی مطہر اشعر کا بے مثل شعر ہے ۔۔
مناسب ہے کہ اشعر شاعری میں اپنا لہجہ ہو
کسی بھی شخص کے زیر اثر اچھی نہیں لگتی
اگرچہ عقیل کے بعض اشعار پر اپنے عہد کے بڑے شعراء کے اثرات بھی ملتے ہیں مثلاً اس کا یہ شعر
جھڑتا جاتا ہے بدن کا گارا
اب کوئی ہو جو مرا لیپ کرے
پڑھ کر فوراً اختر عثمان کا درج ذیل شعر یاد آتا ہے
جھڑتا جھڑتا ہے جسم روز بروز
کوزہ گر کی دکان تک ہو آؤں
اسی طرح عقیل کا شعر ۔۔۔
توے پر بوند پڑنے کا عمل ہے
میں جس مٹی پہ کن من کر رہا ہوں
پڑھ کر اختر کا یہ شعر ذہن میں آ جاتا ہے
توے کے تارے پلک جھپکتے ہی بجھ گئے ہیں
زمیں پہ اختر کو جاں کے لالے پڑے ہوئے ہیں
گلزار نے کہا تھا
ذکر جہلم کا ہے بات ہے دینے کی
چاند پکھراج کا، رات پشمینے کی
عقیل کے ہاں گلزار کے اثرات بھی در آئے ہیں ۔
بے گھری دیکھ دل کے نقشے میں
کتنے جہلم ہیں کتنے دینے ہیں
اور
اس طرح شال تو بننی نہیں گل مینے سے
جس طرح آپ الجھ بیٹھی ہیں پشمینے سے
عقیل نے بعض غیر مرئی عناصر کو مجسم صورت میں بھی دکھایا ہے ۔
شاید کسی دکان یا تندور پر نہ ہو
اتری تھی یاد چوک میں گھر تو نہیں گئی
اس کے علاؤہ عقیل کے بعض اشعار میں ثروت حسین کی فضا بھی دیکھنے کو ملتی ہے، لیکن اس کے باوصف مجموعی طور پر عقیل کی شاعری میں موجود زیریں لہریں اس کے ہاں ایک اپنی فضا ترتیب دیتی دکھائی دیتی ہیں اور ایک نیا لہجہ تخلیق ہوتا نظر آتا ہے ۔۔
تن کی طناب کھینچ میں ناکام ہوگئی
سونے کا اہتمام کرو شام ہو گئی
بوسہ برونِ شہر بدن کام آ گیا
خواہش سپردِ مجلسِ آلام ہو گئی
پہلو میں ایک نور کے پیکر کو دیکھ کر
اتنا جلی کہ رات سیہ فام ہو گئی
اور یہ شعر
رات کتوں نے سڑک سر پہ اٹھا رکھی تھی
اور آسیب کی آمد سے مکاں واقف تھا
کنجِ ذات سے نکلتے سمے آنکھوں کا لال ہو جانا، بے قراری کا التباس، رات بھر گونجتی بستی اور دولے ترکھان کی خراس، امور سلطنت جسم، معبد کی سیڑھیاں، سمے کا سفوف، سنہری تھالیوں میں چنی ہوئی گفتگو، نگاہ و آہ کے اسباب اور دیگر بہت سی سمعی، بصری اور حرکی تمثالیں عقیل کے تخلیقی وفور اور فن کے ساتھ اس کی سچی وابستگی اور جڑت کا پتا دیتی ہیں، عقیل نے کسی فرضی دکھاوے کی خاطر محض علم کا التباس نہیں اوڑھ لیا بلکہ فلسفہ و تاریخ کا مطالعہ بہت ڈوب کر اور گہرائی کے ساتھ کیا ہے جس کا تخلیقی اظہار اس کی شاعری میں جا بجا نظر آتا ہے ۔۔
اشوک و پورس و گوتم کی سرزمین سے میں
حضور آپ کا خادم ہوں منکرین سے میں
وقت فرماں روائے دلی ہے
اور میں بخت ہوں بریلی کا
سب الست بربکم سے ہوا
ورنہ اب بھی وہی شبینے ہیں
میں اونچ نیچ کا قائل بھی اس بدن سے ہوا
کہ میں جو ہوں اسے کہنا کبیر داس نہیں
اس نے تاریخی حوالوں سے عورت کو مرد کے نسبت وفا شعار ثابت کیا ہے
وفا تلاش رہا تھا میں اس میں ہانی کی
پر اس کے خون میں شامل تھا میر چاکر بھی
معاشرے میں بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال کا جائزہ بھی عقیل کے ہاں جابجا ملتا ہے ۔۔
یہ تو جو لیے جاتی ہے گھی پاس کے مندر
میں تیرا خدا ہوں تو مجھے بھوک لگی ہے
روح ِعصر کی نمائندگی کے باب میں عقیل نے کئی اندوہناک واقعات کو اپنے اشعار کا حصہ بنایا ہے ۔
بالا خانے سے چیخ اٹھتی تھی
اور در بند تھا حویلی کا
سیاسی صورتحال پر بھی گہری نظر رکھتا ہے
حرم سراؤں کے خواجہ سرا لپکتے تھے
نگاہ و آہ کے اسباب دیکھنے کے لیے
وقت کولہو ہے اور ہم سب بیل
منفرد ہے نظام تیلی کا
عقیل کے ہاں موسیقی کے فن سے گہری فکری و فنی وابستگی کا اظہار بھی ملتا ہے ۔۔
بدن طبلہ ہوا جاتا ہے دکھ سے
تِنَک دِھن دِھن تِنَک دِھن کر رہا ہوں
حسن جمیل (واہ کینٹ)




