رَد کی کاگار پر دَھڑکتا دِل / علی زیوف

رَد کی کاگار پر دَھڑکتا دِل
تِشنَہ کامِ محبت
ہم ہی تو ہیں
غلامِ محبت
جن کو زیبا نہیں
اُداسئ چِلمن
جو ٹھہرتے ہیں ذات کی تنہائی کے ہِلمن
خَانۂ خَرابئ بَدن کی خُود اِحتسابی
چشمِ تَر کے مَے کدے میں آنسوئے گلابی
جن کے ذَائقۂ جَد و جَدل میں
خَس کم خَواہشات کی بَے ثَباتی کے ثَوبانِ عدل میں
رَد کی کاگار پر دَھڑکتا ہے دلِ ناہنجار
جس کو نہیں کسی بھی رسم و رہ پہ صنفی اِعتبار
عقلِ معکوس کی روشنی ہے کہاں
رقیبانِ کوچۂ جاناں
بند پڑتا نہیں جس پہ درِ مژگاں
جنبشِ اَبروئے نَاتواں، سِتم گری میں ہے اُٹھتی وہاں
جن کو آتی نہیں صلح کی کوئی نوید
ہجر و وصل کی خبریں ہیں وہم کی بعید
جن کو دِکھتا ہی نہیں ماضی، حال و مستقبل میں
کوئی قُرب و جَوار
زَنگ آلودہ یاداشت کے سَمندر میں
لمحوں کی تیز گامی کا لُڑھکتا پتوار
فراق کی تُند و بالا لہریں، کٹیلے لہجے کے اعلیٰ آزار
دِن ڈھلتا نہیں
ڈھلوانیں ہیں روح کی سبھی بیکار
کوئی بندشِ نگاہ
دسترخوانِ خیال کی صف میں ہو شمار
تاکہ چلتا رہے سَخُنِ اِضطرابی
سوچ کے بند کمرے کا نہ کوئی تالا، کوئی چابی
رَد کی طرف سے آتے رَستوں کو میسر نہیں
کوئی جھوٹ
محبت کے طِلسم کے رَد کردہ قوائدوضوابط میں ملتی نہیں
کوئی چھوٹ
جن کی پگڈنڈیوں پر
رد ہونے کو بیشتر مل ہی جائیں گے
محبت کا بَار اٹھائے ہوئے دھڑکنوں کی چاکری سے بیزار دِل
جو ہیں اَبد کے تِشنَہ کامِ محبت
ہم ہی تو ہیں اَزل سے غلامِ محبت



