نظم

جگ رات / زاہد خان

جگ رات

 

اک بوڑھا شجر ہے آنگن میں

 اور رات کا منظر ہے 

کچھ تارے ہیں

 جو دور آکاش میں جلتے بجتے ہیں

 بس یاد کا پہرا ہے،،

 اور بے معنی خاموشی ہے

 

کروٹ لیتی خاموشی میں آواز ابھرتی ہے 

اک پیار بھرے آواز کا سایہ آنگن میں لہراتا ہے 

تب چاند زمین کی کی چادر اوڑھ کے 

زرد سراب ہو جاتا ہے

 

آہٹ پوروں سے جھانکتی ہے

 اور لمس کی تہہ میں سوتی ہے 

جب نیند قضا ہو جاتی ہے

 اور صبح نہیں ہوتی 

دو پنچھی یوں ہی دیر تلک

 بس جاگتے رہتے ہیں 

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x