نظم

فارمولا / وحید احمد

فارمولا

 

ہماری سب ریاضت بس ریاضی ہے

ریاضی 

ہم ریاضی دان ہیں 

اپنا بنایا فارمولا ہیں 

ہماری زندگی کے دس کا پورا آٹھواں حصہ تو ہر دم

موت کے ایمن کی ٹھمری گا رہا ہے

یہ اسی بیس کا کلیہ ہے

اسی بیس کا کلیہ

یہ ہم کیا کر رہے ہیں 

اک ذرا خود کو ٹٹولو 

واقعی جیتے ہیں ہم یا مر رہے ہیں 

بہت کم لوگ ہیں 

جو مسکرا کر جام صحت

 اپنی زندہ ذات کو تجویز کرتے ہیں 

پھر اس کو سانس کے شیشے سے ٹکراتے ہیں 

پیتے ہیں 

بہت کم لوگ ہیں جو زندگی کو زندگی کہتے ہیں 

جیتے ہیں 

پرندوں کی طرح 

چھتنار زندوں کی طرح 

ورنہ تو سارے

سانس کے تابوت میں 

سہمے ہوئے کلبوت میں 

بس زندگی کی فوت جیتے ہیں 

یہ عالم

اور ان کے اندھے پیروکار 

ہرگز زندگی جیتے نہیں ہیں 

موت جیتے ہیں

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x