
”اگر شوہر بستر پر دوسری جانب کروٹ بدل کر سونے لگے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ بیوی اب اپنی کشش اور جاذبیت کھوتی جا رہی ہے، یا پھر کسی دوسری عورت کا سایہ اس پر پڑ گیا ہے، اور اگر ایسا بھی نہیں تو ممکن ہے کہ وہ اب عورت کے قابل ہی نہیں رہا۔“
راحیلہ کی بات سن کر شگفتہ سناٹے میں آ گئی۔ شاکر اچھا خاصا مرد تھا۔ ایک سال قبل تک شگفتہ کو اس سے کوئی شکایت نہ تھی۔ اس کا سینہ چوڑا اور بانہیں مضبوط تھیں۔ وصل کے لمحوں میں جب شگفتہ کے ہونٹوں سے شہوت انگیز سسکاریاں نکلنے لگتیں تو شاکر اور پُرجوش ہو جاتا۔ دونوں ایک دوسرے پر حاوی ہونے کی کوشش کرتے مگر ہار جیت کا فیصلہ کبھی نہ ہوتا۔
راحیلہ نے جاتے جاتے چنگاری دکھا دی اور شگفتہ اس چنگاری کو شعلہ بنتے دیکھتی رہی۔
اُس کی آنکھیں سرخ ہو گئیں، کنپٹیاں دھکنے لگیں اور سینہ تیزی سے دھڑکنے لگا۔ اس نے فوراً بلڈ پریشر ناپنے کا آلہ اٹھایا — 150/130
اس نے لہسن کے تین جو چھوٹے چھوٹے کتر کر پانی کے ساتھ حلق سے نیچے اتارے۔ سانسیں کچھ قابو میں آئیں تو وہ بستر پر چت لیٹ گئی۔ مگر دماغ میں اب بھی سائیں سائیں ہو رہی تھی۔
شاکر سرکاری بینک میں پی او تھا۔ دونوں کی ارینجڈ میرج تھی اور وہ خوش تھے۔ مگر شادی کے کچھ مہینے بعد ہی خاندان کی نگاہیں ایک نئے مہمان کی آمد پر ٹکی رہنے لگیں۔ دو تین سال یوں ہی بیت گئے، پھر خدشات نے سر اٹھایا۔ ڈاکٹر، وید، حکیم اور بابے ۔۔۔۔۔ سب آزمائے گئے مگر کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی۔ دونوں ہر طرح سے مکمل تھے مگر قدرت کے بھید کون جانے۔
بچے کی خواہش نے شگفتہ کی زندگی سے چمک چھین لی۔ وہ چڑچڑی ہونے لگی۔ شاکر نرم مزاج تھا، تلخیوں کو شکر کے گھونٹ سمجھ کر پی جاتا۔ بعد میں شگفتہ کو ندامت ہوتی، روتی، اور کبھی کبھی خدا سے شکوے بھی کرنے لگتی۔
”کیوں؟ آخر میرے ساتھ ہی کیوں؟“
اسے لگتا جیسے خدا نے اسے تہی دست کر دیا ہے۔ حالانکہ اس کے پاس سب کچھ تھا۔۔۔۔۔ پیار کرنے والا شوہر، ذاتی مکان، آسودہ زندگی ۔۔۔۔بس ایک کمی تھی۔ گھر میں کسی بچے کی قلقاری نہیں گونجتی تھی۔ الگنی پر ننھے کپڑے نہیں ٹنگتے تھے، بستر پر کوئی پیشاب نہیں کرتا تھا، دودھ کی بوتلیں نہیں تھیں، پیمپرز نہیں تھے، پوٹی نہیں تھی، بستر پر اس کے اور شاکر کے درمیان ایک خالی سی جگہ تھی ۔۔۔۔۔ اور یہی خیال اسے اندر سے کھوکھلا کرنے لگا تھا۔
شاکر یہ خلا محسوس کرتا بھی تھا تو ظاہر نہیں کرتا تھا۔ مرد کے دل کی تہہ گہری ہوتی ہے، بہت کچھ اس میں ڈوب جاتا ہے۔
ایک دن شاکر سسرال سے آئے نوکر کی بات پر پھٹ پڑا۔ وہ جاتے جاتے کہہ گیا:
”کیا بابو، جور نہیں لگاتے ہو کیا؟“
شاکر پہلے سمجھ نہیں پایا مگر جب شگفتہ کو مسکراتے دیکھا تو اس کا پارہ چڑھ گیا۔
”کیسے گنوار لوگ ہیں تمہارے!”
”ارے بُرا ماننے کی کیا بات ہے، گاؤں کے لوگ سیدھے سادے ہوتے ہیں۔“
”یہ سادگی مجھے پسند نہیں۔“
اسی لمحے کال بیل بجی۔ شگفتہ نے کپڑے درست کئے، بالوں کا جوڑا سا بنایا اور دروازہ کھولا۔ دودھ والا تھا۔ وہ جاتے ہوئے کنکھیوں سے دیکھ گیا۔ شگفتہ کے اندر طمانیت جاگی۔۔۔۔۔مردوں کی نظریں اب بھی اس پر ٹھہرتی تھیں۔
کچن سے دودھ کی خوشبو آتے ہی وہ آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ خود کو دھیان سے دیکھا۔ وہ اب بھی جوان اور خوبصورت تھی۔ ساری اتار کر آئینے میں سراپا دیکھا۔ قوسین اپنی جگہ چست تھیں، چہرہ شاداب، ہونٹ نم، رانیں گداز۔ نظروں ہی نظروں میں شاکر کو اپنے بدن پر مہکتے محسوس کرتی رہی، بدن میں سہرن دوڑتی رہی۔ اچانک دودھ جلنے کی بو آئی اور وہ بھاگ کر کچن کی طرف گئی۔
لیکن آئینے نے اسے ایک سوال دیا تھا ۔
کیا واقعی وہ کشش کھو چکی ہے؟
یا شاکر کہیں اور دیکھنے لگا ہے؟
اس نے شوہر کی زندگی میں آنے والی ہر عورت کا چہرہ ذہن میں لایا ۔۔۔۔۔ رشتہ دار، سہیلیاں، نوکرانیاں۔۔۔۔۔ مگر شاکر کسی پر حد سے آگے نہیں بڑھا تھا۔ موبائل پر کوڈ نیم بھی نہیں تھے۔ شاکر ہر امتحان میں کھرا اترا تھا ۔۔۔۔ مگر شک کی بیل ایک بار دل میں اگ آئے تو بہت دیر تک ہری رہتی ہے۔
کئی دن گزر گئے۔ شگفتہ کو سمجھ نہ آئی کہ شاکر کی بے رغبتی کی وجہ کیا ہے۔
کیا جوانی کی آگ سرد پڑ گئی؟ اتنی جلدی؟ کیسے ممکن ہے؟
وہ ہر وقت اسی سوچ میں غلطاں رہنے لگی۔ وہ ہمیشہ اپنا سراپا دیکھتی رہی مگر یہ نہیں سوچا کہ شاکر کی آنکھوں میں کبھی جھانکا بھی ہے کہ اسے کیا چاہیے؟
مرد جسم کا نہیں، پیار کا بھوکا ہوتا ہے۔
پہلے وہ اس کا خیال رکھتی تھی ۔۔۔۔۔ کھانے پینے سے لے کر لباس تک ۔۔۔۔۔ مگر پھر بچے کی خواہش نے اسے کڑوا، بدگو اور اندر سے ویران کر دیا۔ شاکر اسے سمجھاتا:
”شگفتہ! یہ دیکھو کہ تمہارے پاس کیا ہے، یہ نہیں کہ کیا نہیں۔“
مگر اب وہ سننے کی طاقت کھو چکی تھی۔
اس رات شاکر نے بتایا کہ بینک میں کام زیادہ ہے، دیر ہوگی۔ فون بند تھا۔ رات دس بج گئے۔۔۔۔۔ پھر گیارہ پھر بارہ۔
شک نے خوف میں، اور خوف نے احساسِ جرم میں بدل کر اسے رُلا دیا۔ نہ جانے کب اسی حال میں نیند آ گئی۔
رات کے کسی پہر کال بیل مسلسل بجی۔ وہ چونک کر اٹھی۔ شاکر تھا ۔۔۔۔۔ تھکا ہارا، پریشان، مگر گھر آگیا تھا۔ وہ صوفے پر بیٹھتے ہی جیسے ڈھیر ہوگیا۔
شگفتہ نے پہلی بار نرمی سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا:
”بہت تھک گئے نا؟“
شاکر نے اثبات میں سر ہلایا۔ اس کی تھکن جیسے لمحوں میں تحلیل ہو گئی۔
شگفتہ نے کہا:
”آئیے کپڑے بدل لیجیے، کھانا نکالتی ہوں۔“
اور اس رات ۔۔۔۔۔
بہت دنوں کے بعد ۔۔۔۔۔
شگفتہ کی ہڈیاں ایک بار پھر کڑکڑا رہی تھیں۔




