
ویسے تو میں صبح سویرے اٹھنے کا عادی ہوں لیکن دبئی سے پاکستان آنے میں ہمیشہ میری دو راتیں برباد ہوتی ہیں اس لیے آج میری صبح بارہ بجے ہوئی ۔ اپنے گھر اپنے بیوی بچوں میں آنکھ کھلے تو اس صبح کا مزہ ہی اور ہوتا ہے ۔ گھر کی پرسکون فضاوں میں سب کچھ ویسا ہی تھا جیسا میں چھ مہینے پہلے چھوڑ کر گیا تھا ۔ بس ایک چہرہ کچھ نیا نیا سا تھا اور وہ چہرہ تھا کام والی ماسی کا ۔ ” ماسی ” نہیں نہیں ۔ اسے ماسی کہنا ٹھیک نہیں ہے ۔ ہمارے ہاں ماسی کا تصور ایک بوڑھی کام والی کا ہے جبکہ یہ تو ایک اٹھارہ انیس سالہ لڑکی تھی ایسی ماسی کو میں ہمیشہ سیما کہہ کر بلاتا ہوں یعنی ماسی کا الٹ سی ما ۔ جوان کام والی کو اس طرح بلانا طبیعت پر گراں نہیں گزرتا ۔
وہ پونچھا لگاتی میرے قریب آئی تو میں نے پوچھا ۔” ہاں۔ بھئی سیما تمھارا نام کیا ہے ۔” اسنے مجھے تعجب سے دیکھا ۔ میرے ساتھ بیٹھی میری پچاس سالہ بیگم اسکا استعجاب دیکھ کر مسکرا دی اور اسے میرے کہنے کا مطلب سمجھانےلگی ۔ بات سمجھ کر سیما مسکرائی اور بولی ” میرا نام پارو ہے صاحب "۔ "پارو ” میں کتنی دیر اسے دیکھتا رہا پر درحقیقت میرے اندر کی نگاہ میرے ماضی میں کھل گئی تھی جہاں وہ روتی ہوئی بوڑھی عورت میری امی سے کہہ رہی تھی ۔ ” پارو پر بڑی بپتا آ پڑی ہے بیگم جی ، کچھ مدد کرو غریب کی ” ۔ امی نے اسے کہا ” پارو میرے بس میں جتنا ہوا تیری مدد کروں گی لیکن ابھی میرے اپنے حالات اچھے نہیں ہیں ورنہ تجھے در در مانگنے پر مجبور نا ہونا پڑتا ” ۔ میں امی کی مجبوری جانتا تھا اور ان کا دل کیا چاہتا ہے یہ بھی جانتا تھا ۔ پارو گھر سے نکلی تو میں نے اسے آواز دے کر گلی میں روک لیا ۔ ” ہاں بھئی پارو ، کیا بپتا آن پڑی تجھ پر ".
نم ہوتی آنکھوں سے اسنے جو بپتا بتائی تو میں سوچ میں پڑ گیا اچھی خاصی رقم چاہیے تھی اسکی بپتا دور کرنے کے لیے ۔
لیکن جناب ہم بھی لطیف آباد آٹھ نمبر کے چوہدری تھے یعنی چندے آفتاب چندے ماہتاب ۔ سارے جہاں کا درد اپنے جگر میں لیے پھرتے تھے ۔ میں آج بھی سوچتا ہوں تو مجھے حیرت ہوتی ہے ۔ اس وقت میری عمر سترہ اٹھارہ سال کی ہوگی لیکن محلے والوں کے کیسے کیسے کام کروائے تھے میں نے ۔ محلے کی کتنی ہی لڑکیوں کے لیے دوستوں کے بھائیوں کے رشتے بھجوائے ، کسی کی گیس لگوائی ، کسی کی کٹی ہوئی بجلی بحال کروائی ، کتنے غریبوں کے گھر مرمت کروائے ۔ فضل چاچا کی ٹانگ کٹی انکا روزگار چلا گیا تو سب دوستوں کو ساتھ ملا کر گھر گھر سے فروٹ مانگ کر انکے لیے پھلوں کا ٹھیلا لگوادیا ۔ اگر کچھ سال اور حیدرآباد میں گزار لیتے تو شاید وہاں کا مئیر نامزد ہوجاتا ۔
خیر تو میں پارو کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔ میں نے پارو سے وعدہ کرلیا تھا کہ پارو تیری بپتا چنتا اب سب تیری نہیں میری ہے۔ وہ خوشی خوشی مجھے دعائیں دیتی چلی گئی ۔ جیب خالی تھی اور ضرورت بڑی تھی پر کچھ نا کچھ تو کرنا تھا ۔ بڑی عید کی آمد آمد تھی ۔ محلے کی گلیاں گائے اور بکروں دنبوں سے بھر گئی تھیں ۔ امین صاحب کا بیل رسی تڑوا کر جیسے نائی کی دکان میں گھسا ویسے ہی پارو کی بپتا کا حل میرے دماغ میں گھس گیا بس پھر تو چل سو چل ۔ میں نے محلے کے ہر گھر کا دروازہ کھٹکھٹا دیا تھا بلکہ محلے میں ہی کیا شہر بھر میں ہر جاننے والے کے گھر جا پہنچا جہاں قربانی کا جانور بندھا تھا ۔ عید کے تین دن چالیس سے پچاس گھروں سے کھالیں اٹھائیں اور بیچ ڈالیں ۔ ان کھالوں کی رقم پارو کی مطلوبہ رقم سے زیادہ تھی ۔ لیکن مزے کی بات بتاؤں آپ کو ۔ ایمان دار بھی ہم ایسے تھے کہ جتنی رقم چاہیے تھی اس سے ایک روپیہ زیادہ نہ لیا ۔ کھالیں خریدنے والا اپنی قسمت اور میری اعلیٰ ظرفی پر عش عش کر اٹھا ۔
مجھے آج بھی یاد ہے کہ جب میں نے وہ پیسے پارو کو دئیے تو کیسی جھڑی لگی تھی اس کی آنکھوں کو ۔ اسکا بس ناچلتا تھا کہ وہ ایک لمحے میں ہزار دعائیں مجھے دے ڈالتی پر وہ مجھے چپ چاپ دیکھتی رہی کچھ بول ہی نہ سکی ۔ ” چل چل پارو ، بس ٹھیک ہے ، تیری بپتا دور ہوگئی ، جا شاباش اپنے کام نبٹا ".
میں اسکی دلی کیفیات کو جان گیا تھا اس لیے اسے زیادہ دیر ممنون کیے نا رکھا ۔ وہ ساڑھی کے پلو سے آنکھیں پونچھتی اپنے گھر کو ہولی ۔
چند دنوں بعد گرمیوں کی چھٹیاں ہوگئی تھیں ۔ کرکٹ کا جادو میرے سر چڑھا ہوا تھا سارا سارا دن دوستوں کے ساتھ گراؤنڈ میں گزر جاتا تھا ۔ اس دن بھی صبح امی نے مجھے کچھ کہا پر میرا سارا دھیان ٹورنامنٹ کے میچ پر تھا ۔ تین بجے کے بعد ہم بری طرح ہار کے گراؤنڈ میں بیٹھے غم منا رہے تھے تبھی محلے کا بچہ بھاگا بھاگا میرے قریب آیا ” چندہ بھائی چندہ بھائی ۔ آپ کو آپ کی امی کب سے گھر بلا رہی ہیں ” ۔ تب مجھے خیال آیا صبحِ امی جلدی آنے کے لیے ہی کہہ رہی تھیں ۔ خیر جناب گھر پہنچا تو امی دروازے میں ہی آدھی اندر آدھی باہر لٹکی ہوئی تھیں مجھے دیکھتے ہی بولیں ” ارے چندے ، صبح تجھے کہا بھی تھا کہ آج پارو کی لڑکی کی شادی ہے ۔ اب اس نے کہلوایا ہے کہ جب تک تو نہیں آئے گا وہ کھانا نہیں کھولے گی۔ غریب کے گھر بارات انتظار میں بیٹھی ہے جلدی بھاگ کر جا تاکہ وہ کھانا کھولے ".
امی کی بات سن کر میں بیٹ پیڈ کے ساتھ ہی پارو کے گھر کی طرف بھاگ گیا جہاں پارو اور اسکا شوہر ہاتھوں میں پھولوں کی مالا لیے میرے انتظار میں کھڑے ہوئے تھے ۔ پلاؤ کی پہلی پلیٹ میرے ہاتھ میں آئی تو میں اپنی ہار کا غم بھول گیا اور ایک انوکھی جیت کی سرشاری میرے وجود میں بھر گئی تھی ۔




