نظم

مشینوں کی حکومت / خمار میرزادہ

مشینوں کی حکومت 

 

فارغ البال ہیں ہم

تند زمانے کی کشاکش کے بھنور سے باہر

پائمالی میں پڑی راہ گزر سے باہر

زیبِ تن عہدِ فراغت کا لبادہ کر کے

جسم اور روح کی عیاش و فسوں کار طلب گاہوں میں

فارغ البال ہیں وحشت کا اعادہ کر کے

ایک بے رمز سی امید کی بے رنگی کو جادہ کر کے

 

زندگی بخش مشینوں کا اکہرا احساس

اک رواں سطح سے نیچے نہیں جانے دیتا

ہاتھ توڑے ہوئے بیٹھے ہیں شب و روز کی خود کار سراؤں میں ہم

ایک پر شور خبر گیری میں

جیسے پوروں تلے دنیاؤں کی نبضیں دھڑکیں

نامیاتی رگ و ریشے میں افیمی تسکین

سر اٹھانے نہیں دیتی کہ نمویابی ہو

لیے جاتا ہے بس ایک سیلِ فراغت کا سبک خیز بہاو سب کو

فارغ البال ہیں ہم

 

دوڑتے پھرتے ہیں خود کار مشینی پُتلے

شاہراہوں پہ ہواؤں میں سلگتے ہوئے گلیاروں میں

بے عقیدہ و بنا وہم و یقیں

آہنی ہاتھوں میں سررشتۂ حیرت کا توازن لے کر

راستہ راستہ اک گردِ فراغت کا تعاون لے کر

اور ہم نیم دراز

رنگ و آواز بدلتی ہوئی سکرینوں کے جادو سے ادھر

سہل انگاریِ نو خیز سے لپٹے ہوئے

 موسم کا مزہ لیتے ہیں

گھونٹ پینے کو نوالوں کو نگلنے کے لیے

جلد مامور کیے جائیں گے تازہ پتلے

اشتراکِ طرب و غم کے لیے اب کوئی ہم زاد نہ سایہ جس سے

خود کلامی کے وسیلے سے مخاطب ہوں گے

ایک مصنوعی ذہانت کے علومِ بے انت

رات اور دن کے دریچوں کے جوانب ہوں گے

وہ پرندے جنھہں چہکار سے مطلب ہی نہیں 

اب اسی خلوتِ شب زاد کے غاصب ہوں گے

 

اسی بے ساختہ لب بستگی میں ساکتِ افعال ہیں ہم

اسی روز و شبِ احوال میں پُر حال ہیں ہم

فارغ البال ہیں ہم

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x