
تم نے کہا تھا کہ کامیابی میرا راستہ دیکھ رہی ہے اور مجھے بہت پذیرائی ملےگی ۔ لیکن دیکھو تمہاری بات جھوٹ ثابت ہوئی ۔ اب اگر گھر کی طرف واپس مڑوں تو مجھے میرے گھر والے بھی قبول نہیں کریں گے ۔
اچھی بھلی زندگی گزر رہی تھی لیکن تمہاری باتوں اور دکھائے گئے خوابوں کو حقیقت سمجھ کر میں نے خود کی زندگی پہلے سے بھی مشکل میں ڈال لی ہے ۔
میری بات کو اس نے خاموشی سے سنا اور کوئی جواب نہ دیا تو میرا دماغ مذید الجھ گیا ۔
باتوں کے دوران مجھے احساس ہوا کہ چائے بھی ٹھنڈی ہورہی ہے ۔
میں نے چائے پیتے ہوئے تمام شکوے شکایت کردیے اور جواب کے لیے نظر اس پر جما دی ۔
اب مجھے اس نے جواب دینا شروع کردیا کہ تمہاری اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے گلےشکوں کی عادت بہت بری ہے ۔
میں نے تمہیں کچھ بھی غلط نہیں بتایا میں اب بھی اسی بات پر قائم ہوں کہ جوکچھ بھی تمہیں بتایا وہ درست اور سچ ہے ۔
تم نے ہی ضرور کوئی کوتاہی کی ہوگی جسے تسلیم نہ کرکے اس غلطی کو دوگنا کرنے پر آمادہ ہو ۔
مگر سدھارنے کا خیال نہیں ۔
مجھے اس کی اس بات سے پھر الجھن ہونے لگی اور وہاں سے اٹھ کر جانے کی تیاری کرلی کہ اس نے اپنی بات سے نہیں ہٹنا مجھے خود ہی کوئی راستہ نکالنا ہوگا
تبھی اس نے ایک بات کہی کہ تمہارے گھر والے تمہیں قبول کرنے کو بالکل تیار ہیں, والدین کبھی بھی اولاد سے مستقل ناراض نہیں رہتے تم ان کی اولاد ہو
اور یہ تمہارا وہم اور بلاوجہ کا خوف ہے کہ وہ تمہیں قبول نہیں کریں گے ۔
اس کی بات سے میرا دماغ گہری سوچ میں پڑ گیا کہ یہ کیسے ممکن ہے تب میں نے سوال کردیا کہ
اچھا تو کیا میرے اس عمل سے بھائی کب خوش ہوئے ہوں گے تمہیں شاید بھائیوں کا نہیں معلوم وہ نہیں مانیں گے ۔
تب میری دوست نے اگلے لمحے مجھے بتایا کہ تم سے زیادہ میں تمہارے بھائیوں کو جانتی ہوں ۔
بلکہ اب تک کی تمہاری باتوں سے جو سوچ تمہاری سامنے آئی ہے میں سمجھ چکی ہوں کہ تم سے کہاں کہاں غلطی ہوئی ہے اور میں تمہاری مدد کرنے کو بالکل تیار ہوں ۔
خوشی سے میرا دل جھوم اٹھا کہ وہ میری مدد کرنے کو تیار ہے
میں نے اس سے کہا ہاں مجھے مدد کی ضرورت ہے تم میری مدد کرو ۔
میں تمہاری مدد تو کروں گی مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر کیا میں نے بےچینی سے پوچھا تو اس نے کہا کہ
پہلے کی طرح تم نے دوبارہ وہ غلطیاں نہیں کرنا
بس اب میں تمہاری مدد صرف اس حدتک کرسکتی ہوں کہ تمہیں تمہاری غلطیوں کی نشاندہی کروا دوں اور ان سے نمٹنے کا راستہ بتا دوں ۔
اگلا کام تم خود سمجھدار ہو وہ تمہیں کرنا ہے ۔
اگر وہ نہ کر سکو خواہ مخواہ مجھے ملامت مت کرنا
اس کی یہ بات مجھے متذبذب کر رہی تھی مگر میں نے ایک لمبی سانس لےکر اس سے کہا کہ ہاں ہاں تم تو مجھے ہی غلط کہنا خود کو ذمہ دار نہ سمجھنا
سارے لوگ بھی ٹھیک ہیں بس صرف میں غلط ہوں
تب اس نے کہا مدد چاہیے کہ نہیں ۔۔
اس سوال کے جواب میں میرے پاس سوائے خاموشی کے کچھ نہ تھا
پھر اس نے کہنا شروع کردیا کہ تمہاری غلطیوں میں سے ایک غلطی تو یہ تم میں ہمت نہیں کہ تم اپنی غلطی تسلیم کرسکو بلکہ ڈٹ جانے کو درست سمجھنا تمہارا وطیرہ بن چکا ہے جو کہ بہت غلط ہے ۔
سچ میں طاقت ہے لیکن تم نے منہ پر سچ بول کر دوسروں کی تضحیک کرنے کا عمل اپنا رکھا ہے اس سے منہ پھٹ اور بدتہذیب ہونے کا لیبل خود پر چسپاں کیا ہوا ہے اسے درست کرو ۔
میں تمہیں اب صرف تمہاری غلطیاں ہی بتا سکتی ہوں
انہیں سدھارنا تمہارا کام ہے میری بات توجہ سے سنو
خود کو دوسروں سے بہتر سمجھنے کی غلطی ہے تم میں
محبت نہ دے کر بھی خود اپنے لیے دوسروں سے عزت و محبت وصولنے کی بہت بڑی خامی تم میں ہے ۔۔
محبت اور رحمت کا بڑا گٹھ جوڑ ہے
محبت دیے بغیر ہمیشہ تم نے رحمت چاہی اور یہ ناممکن ہے ۔
میرا تمہیں اب بھی یہی مشورہ ہے کہ محبت سے پیش آنا شروع کر دو
ہر اس کو جس جس کو اسی نے بنایا ہے جس نے تم کو بنایا ہے ۔
اپنی دوست کی باتیں سن کر سخت سردی میں جسم پسینے سے شرابور ہوکر ایسے ہوگیا کہ جیسے برف میں لگا ہو ۔
میں نے اپنی دوست کی طرف بغور دیکھا تو وہ مسکرا رہی تھی میں نے کانپتے ہاتھوں سے اس کا اگلا صفحہ الٹنے کے بجائے اسے بند کرکے الماری میں رکھا اور چلا کر کہا چائے ایک کپ اور بھیجو ۔۔




