
ماسٹر احمد دین تہجد پڑھ کر کافی دیر جائے نماز پہ بیٹھے اپنی جوان بیٹی کے اچھے نصیب کے لیے دعائیں کرتے ، روتے گڑگڑاتے رہے،تاوقتیکہ فجر کی اذان کانوں میں پڑتے ہی وہ اٹھ کھڑے ہوئے جائے نماز لپیٹی تازہ وضو کیا، درود پاک پڑھتے ہوئے مسجد کی جانب چل پڑے،گھر سے مسجد دس منٹ کے فاصلے پہ تھی اسلیے حسب خواہش پہلی صف آسانی سے مل جاتی تھی، اکثر وہ پہلے مقتدی ہوتے جو امام صاحب کے بعد فجر کی نماز کے لیے پہنچتے ،آج بھی اپنے مقررہ وقت پر جب مسجد میں داخل ہونے لگے تو دہلیز پر ہی رک گئے کیونکہ امام صاحب کے ساتھ ایک مولانا صاحب پہلے سے ہی تشریف فرما تھے ماسٹر صاحب اس ہستی کو دیکھ کر اپنی جگہ جیسے جم گئے سفید براق کپڑے ،سلیقے سے تراشی ہوئی شرعی داڑھی، سر پر امامہ ، اس سےجھانکتے کالے گیسو جو گردن کے گرد ہالے کی طرح پھیلے ہوئے تھے ” "آئیے آئیے! ماسٹر صاحب رک کیوں گئے”
امام صاحب نے بڑے ادب سے پکارا تو ماسٹر صاحب جیسے ہوش میں آگئے،چہرے پر عجیب سی مسکراہٹ لیے آگے بڑھے امام صاحب سے مصافحہ کیا،
ان صاحب سے بھی مصافحہ کیا توانھوں نے ان کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھ میں دبالیا پھر ہلکا سا تبسم فرماکر اشارے سے بیٹھنے کو کہا ماسٹر صاحب خاموشی سے بیٹھ گئے،
امام صاحب سے کسی قسم کا استفسار نہیں کیا، لیکن امام صاحب چہرے کے تاثرات سمجھ گئے لہذا خود ہی امام صاحب نے تعارف کروایا ،
"ماسٹر صاحب یہ مولانا کرامت علی ہیں، رات ہی اپنی آمد سے شرف بخشا، ان کے آباؤ اجداد فلاں سلسلے کے تھے ،حسب نسب بہت اونچا، ازلی نسلی سید ہیں اب یہ گدی نشین ہیں ، قریہ قریہ گاؤں قصبے جاتے رہتے ہیں تاکہ لوگوں کو دین حق پہ چلنے کی تلقین کرسکیں ، اب کی بار اللہ تعالیٰ نے ان کو ہمارے پاس بھیجا ہے ”
مولوی صاحب کے تفصیلی تعارف سن کر ماسٹر صاحب اس جملے پہ چونکے اورحیرت سے بولے ” کیا مطلب اللہ نے بھیجا ہے ”
اس سے پہلے کہ مولوی صاحب کچھ بولتے کرامت علی صاحب نے فرمایا کہ "ہمیں تو بس اشارہ ہو جاتا ہے کہ ایسا کرو ،ہم استخارہ کر تے ہیں، اور کر ڈالتے ہیں اللہ کا حکم سر آنکھوں پر ،کبھی حکم عدولی نہیں کرتے”
پھر مولانا صاحب نے درود پاک پڑھ کر سر جھکا لیا ،جیسے مراقبے میں ہوں ،کچھ دیر سر جھکائے بیٹھے رہے ، تسبیح کے دانے پھیرتے رہے ، لب اس طرح ہلائے جیسے کچھ پوچھ رہے ہوں ماسٹر صاحب اور امام صاحب حیران تھے کہ یہ کیا انداز ہے ؟پھر سر اٹھایا اور بولے” ماسٹر صاحب اللہ نے چاہا تو آپ کو جلد ہی خوش خبری ملے گی ” ماسٹر صاحب کے ذہن میں وہ سب خواہشیں اور تمنائیں جاگ اٹھیں جن کی تکمیل کے لیے تہجد میں گڑگڑاتے تھے کہ اللہ جانے کون سی خوشخبری ،خیر وہ خوش تو بہت ہوئے ،کہ بہت انوکھی بات تھی کہ کسی کو اشارہ ہو جائے اور استخارہ کرکے کام کیاجائے یہ پہلی بار سنا تھا ،پھر حیرت مذید بڑھی، ذرا متذبذب انداز میں پوچھا "مولانا صاحب کب تک ہیں یہاں آپ ؟” ارے ماسٹر صاحب! ابھی تو پہنچے ہیں جب تک اللہ کا حکم ہوگا یہاں رکیں گے ”
،امام صاحب پھر گویا ہوئے کچھ عرصے ہمارے ساتھ قیام کریں گے،پھر کسی اور علاقے میں تبلیغ کے لیے چلے جائیں گے، اللہ توکل والے ہیں تن پہ جو کپڑے ہیں ان کے سوا کوئی دنیاوی سامان نہیں ، اللہ کے لیے دنیا تیاگ دی, بیوی نہ بچہ ،بس دو خدام زبردستی محبت میں ساتھ چلے آئے اس لیے مسجد کے بلکل ساتھ ہی ان کی رہائش کا بندوبست کردیا ہے ،”
پھر ماسٹر صاحب کی متوازن اور قناعت پسند زندگی پہ نظر ڈالی کہ ماشاءاللہ ہائی سکول کے استاد ہیں ،ابھی کچھ دن پہلے ہی ریٹائر ہوئے ہیں ، کیونکہ امام صاحب اور ماسٹر صاحب کی دیرینہ رفاقت تھی اسلیے اتنی دوستی تھی کہ ماسٹر صاحب کے چہرے کے تاثرات سے اندازہ لگا لیا کہ ماسٹر صاحب اس شخص کے بارے میں جاننے کے لیے شدت سے خواہاں ہیں، ماسٹر صاحب نے بہت عاجزانہ انداز میں پھر ایک نظر مولانا صاحب پہ ڈالی انھیں ایسا لگاکہ اس قصبے کے لوگوں نے نجانے کیا نیکی کی کہ اتنے خاندانی شخص نے یہاں قدم رنجہ فرما کر رہائشیوں پر احسان عظیم کر ڈالا اور اس قصبے کو اپنی زیارت کا اعزازبخشا ،
نمازکا وقت ہوگیا ماسٹر صاحب نے ان مولاناصاحب کے ساتھ پہلی صف میں نماز فجر ادا کی ،نماز کے بعد درود پاک پھر بعد مناجات لیکن آج یہ عمل مختصر تھا دعا کے بعد مولاناصاحب کا سب مقتدیوں کے سامنے ازسرنو جامع اور اکمل تعارف کروایا گیا،پھر وقت و حالات کے پیش نظر ان مولانا صاحب کو دعوت کلام دی ، سید صاحب نے نہایت عمدہ لہجے میں قرآن پاک کی آخری سورہ والناس کی قراءت فرمائی، پھر ترجمہ تفسیر ، اتنی صراحت کے ساتھ بیان کی اتنی تو امام صاحب نے بھی کبھی نہیں کی تھی،مسجد میں موجود تمام لوگ مولانا صاحب کے گرویدہ ہوگئے
ان کو آتے ہی مسجد کے امام سے زیادہ معتبر اور معزز سمجھ لیا گیا ، پیر صاحب ،شاہ جی کے القابات سے پکاراجانے لگا ، کچھ لوگ جو ان کی شخصیت کے سحر میں حد سے زیادہ مبتلا ہوگئے تھے، انھوں نے ان سے دعا کروانی شروع کر دی چند دنوں میں ہی ان کے صوفی منش, درویش ہونے کے چرچے ہونے لگے تو علاقے کے کچھ صاحب ثروت لوگوں کے فیصلہ کے مطابق ان کو باقاعدہ ایک بڑی رہائش گاہ میں منتقل کردیا گیا،جو بہت جلد آستانے میں تبدیل ہوگئی، ایک بڑا حجرہ بطور آرام گاہ مخصوص کردیا گیا ، جہاں استراحت فرماتے ،وہاں ان لوگوں کو جو اپنے معاملات صیغہ راز رکھنے کے خواہاں ہوتے شرف بخشتے ،
اس کے آگے وسیع و عریض برآمدہ کثیر معتقدین کی داد رسی کے لیے مختص کردیا گیا،کچھ شدید مذہبی رجحان کے حامل لوگوں نے مولانا کرامت علی کے ہاتھ پر بیعت بھی کرلی ، دو ماہ کے قلیل دورانیے میں ایک منظم درس کا انتظام کر لیا گیا ، ان کے معتقدین اتنے زیادہ ہوگئے کہ ان کے اخراجات کا بیڑہ سب نے مل کر اٹھالیا ،آستانے میں باقاعدہ درس کا وقت مقرر کردیا گیا ،عصر کے بعد مغرب کی اذان تک پیر صاحب قرآن پاک اور آحادیث مبارکہ کا درس دیا کرتے مولاناصاحب درس کے بعد مٹھائی پہ دم کرکے اپنے مریدوں اور تمام حاضرین و ناضرین میں تقسیم کیاکرتے ،ان کا ماننا تھا کہ میٹھا کھاؤ اور میٹھا بولو کانوں میں بس رس گھولو، عجیب سا ماحول بن چکا تھا ،عطر پھلیل کا انتظام تھا، روئی عطر میں ڈبو کر رکھ دی جاتی پھر آستانے پہ موجود سب لوگوں میں بانٹی جاتی چاروں کونوں میں اگر بتی کی خوشبو پھیلی ہوتی،
حاضرین پر عرق گلاب کا چھڑکاؤ کیا جاتا،
مولانا صاحب اپنے پورے جاہ و جلال وجمال سمیت منبر پر جلوہ افروز ہوا کرتے ،عورتوں کے لے پردے کا علیحدہ انتظام بڑے عمدہ انداز میں کیا گیا تھا، یعنی تمام خواتین و حضرات مولانا صاحب کو دیکھ سکتے تھے لیکن ایک دوسرے کو نہیں اسی طرح ہر حاضر و ناضر پر مولانا صاحب کی نظر ہوا کرتی
لوگ آستانے پر خالی ہاتھ نہ جاتے بلکہ کچھ نذرانہ ساتھ لے جاتے، جن میں مٹھائیاں پھل اور کچھ نقدی بھی شامل ہوا کرتی ،کچھ شاہ جی کے حسن وجمال سے شدید متاثر تھے وہ گلاب اور موتیوں کے پھول بھی لے جاتے ، مٹھائی اور پھل درس کے بعد بطور تبرک سب میں برابر تقسیم کر دیا جاتا،
پھول دم کرکے بے اولاد جوڑوں کو دے دئیے جاتے،
الغرض انتظام و انصرام اتنا عمدہ کیا گیا ،کہ خود قصبے والے بھی حیران تھے کہ عام غریب سے لوگ کیسے اتنا اہتمام کر سکتے ہیں ؟
لیکن سب نے یہ ہی سمجھا کہ سب مولانا صاحب کی بابرکت شخصیت کا نتیجہ ہے ایک روز درس کے دوران اچانک بزرگوار کی نظر کسی خاتون پہ پڑی اور وہ ٹکٹکی باندھ کر اسے دیکھنے لگے جس طرف نظر جمی تھی وہاں سب کم عمر جوان لڑکیاں بیٹھی تھیں اچانک مولانا صاحب بآواز بلند بولے ” چلا جا بد بخت چلا جا کیوں کسی بہن بیٹی کو تنگ کرتا ہے ،نامحرم ہے تو ان کے لیے، جا! تجھے اللہ رسول صلیٰ علیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا واسطہ ” اور پھر نرمی سے بولے "چلا جا ،میں تجھے موقع دیتا ہوں ” چہرے پہ عجیب سی خشیت تھی پھر آنکھیں بند کرکے منہ ہی منہ میں کچھ پڑھنے لگے ان کے ہاتھ میں موٹے منکوں کی مالا کے منکے تیز تیز گرنے لگے ، دس منٹ کے عمل کے بعد وہ نارمل ہوگئے، سب دم سادھے بیٹھے رہے کہ کچھ پوچھا تو بے ادبی نہ ہو جائے لیکن سب حیرت میں مبتلا تھے کہ ہوا کیا؟ کس سے مخاطب تھے ؟ یہ تو پتہ چل گیا تھا کہ کوئی خاتون یا لڑکی تھی لیکن کون ؟ اور کیوں کہا گیاکسی جذباتی مرید نے درس ختم ہونے کے بعد مؤدبانہ انداز میں پوچھ لیا کہ "بابا جی کون تھا” ابھی اگلا جملہ وہ بولنے نہیں پایا تھا کہ مولانا صاحب بہت نرمی سے بولے ” بیٹا کسی کو بے پردہ نہیں کیا کرتے ،تم دوسروں کا پردہ رکھو اللہ تمھارا پردہ رکھے گا،
کوئی اور مسئلہ ہو تو ضرور پوچھو مگر کسی کا راز نہ کھولو ”
اس جملے سے سب لوگ کے دلوں میں اس برگزیدہ بندے کی دھاک مذید بیٹھ گئ، اس بندے نے احتراما” ہاتھ چوما ،
نمناک آنکھوں سے معزرت چاہی اس کے بعد سب گھروں کو روانہ ہوئے لیکن دو خواتین نے جن کی جوان بیٹیاں ساتھ تھیں ، جب مولانا صاحب نے آسیب جن پریت کی بات کی، تو انھیں تجسس ہوا کہ ان کی بیٹی تو نہیں ،دونوں یکے بعد دیگرے درس کے بعد حجرے میں
شاہ صاحب سے ملیں کیونکہ کسی کے سامنے نہیں پوچھ سکتی تھیں ، شاہ جی نے تسبیح گھمائی سر جھکایا ،کچھ بڑبڑائے اور کہا” نہیں سب ٹھیک ہے کوئی سایہ نہیں ” ایک ماں تواپنی بیٹیوں کے ساتھ رخصت ہوگئ دوسری عورت نے اپنی دو بیٹیوں میں سے ایک بیٹی کی طرف اشارہ کرکے کے کہا "شاہ جی اس پہ دم کردیں یہ بہت ضدی ہے ، کسی رشتے کو قبول نہیں کرتی ،کب تک بٹھا رکھیں ” شاہ جی نے ماں بیٹی کا نام پوچھا سر جھکایا تسبیح گھمائی, کچھ دیر منہ میں بڑبڑاتے رہے پھر بولے ،
” ایک وظیفہ کرنا پڑے گا بہت سخت ہے ،عورت ذات تو کر نہیں سکتی اگر کہو تو ہم کریں "،
عورت پریشان ہوئی کہ کیا کرنا ہوگا ؟
"ارے !تم نے اور تمھاری بیٹی نے کچھ نہیں کرنا جو کرنا ہم کریں گے ”
"مہربانی پیر جی ”
وہ ممنون ہوکر بولی،
"بس تم اس وظیفے کے لیے صدقہ دے دو ”
"،کتنا "عورت بولی ۔۔
"جو حیثیت ہو”شاہ جی نے رعایت برتی
” شاہ جی میں بیوہ ہوں بھائیوں کے در پہ پڑی ہوں ،زیادہ نہیں کر سکتی, اچھا کب کرنا ہے وظیفہ ،”
” جب تم صدقہ دینے کا انتظام کردو ،بہن بات یہ ہے کہ
” کچھ خطرناک جن ہوتے ہیں, انسان کی عقل ماؤف کردیتےہیں ان سے نبٹنے کے لیے تو کچھ دینا دلانا ہوتاہے کہ لو اور چھوڑ دو بچی کا پیچھا ،ہم خود ادا کردیتے مگر مسئلہ یہ ہے کہ چونکہ تمھاری بچی ہے تمھارے ہاتھ کا اور تمھارے پاس سے چاہیے”
،عورت نے گہری سانس لی جیسے سمجھ گئ، انسانوں کی طرح جن بھی تو اپنے بیوی بچوں کے لیے رشوت لیتے ہوں گے ، وہ عورت یہ سب سوچتے ہوئے بولی "ٹھیک ہے کل شام حاضر ہوں گی”
وہ دونوں باہر نکل گئیں ،
پھر ایک نوجوان لڑکا حجرے میں آیا ،آتے ہی شاہ جی کے پیر پکڑ لیے، رونے لگا ،
"شاہ جی میری شادی مریم سے کروا دیں میں مرجاؤں گا ،”
"ارے بیٹا !،صبر تو کر بتا کون ہے وہ ،”
"ابھی تو گئ ہے آپ کے حجرے سے "،شاہ جی کو نام یاد تھا جھٹ بولے کہ” مریم ”
” ۔۔اچھا کیا وہ تجھے پسند کرتی ہے ؟”
"جی کرتی ہے ”
"اپنا نام بتا ! کیاکام کرتا ہے ،؟”
” میں عرفان ہوں اور دفتر میں کام کرتا ہوں ”
پیر صاحب نے سن کر پھر سوال داغا
” کیا کرسکتا ہے مریم کو پانے کے لیے ”
” کچھ بھی جو میرے بس میں ہوا”
"،ٹھیک ہے ابھی استخارہ کیے لیتے ہیں "،
شاہ جی نے پھر سرجھکایا تسبیح گھمائی توقف سے بولے
” شادی ہوسکتی ہے بس کچھ نذر نیاز لگے گی”
"جی جی ، بولیے ،”
شاہ جی مسکرائے
"بیٹا مشکل ترین کام ہے دو دلوں کو ملانا "،
اگلے دن وہ لڑکا دس ہزار لے کے آستانے حاضر ہوگیا
شاہ جی کے تاثرات عجیب سے تھے کہ بس اتنی ہی محبت ہے
لڑکا سمجھ گیا منمنا کر بولا
” شاہ جی کچھ دن تک اس سے ڈبل دے دوں گا "،
"کب تک بتا،ایک ہفتے کی مہلت ٹھیک ہے،جب لائے گا اگلے دن تیری بات طے ہوجائے گی "
،لڑکے پر شادی ءمرگ کی سی کیفیت طاری ہوگئی ”
اگلے دن مریم ا اس کی ماں دس ہزار لے کر پہنچے ،
شاہ جی نے کہا ،
"رقم تو بہت کم ہے، لگتا ہے خود کچھ کرنا پڑے گا کہ بچی یتیم ہے،” ماں بیٹی نے ڈبڈیائی آنکھوں سے مولانا صاحب کو دیکھا ماں نے تو ہاتھ جوڑ دئیے ، مولانا صاحب شاید پسیج گئے بولے
"ایک بہت مجرب وظیفہ ہے لیکن تمھیں نہیں مجھے کرنا ہے ,”
پھر گویا ہوئے
” مگر تم یاد رکھنا کہ آج ہے صفر کی تیرہ تاریخ
23 تاریخ کو اگر کوئی رشتہ آئے اور لڑکے کا نام ” ع” سے شروع ہو تو فورا” کر ڈالنا ،بچی خود بخود مان جائے گی،”
ماں خوش ہوئی مگر حیران زیادہ تھی ،
ٹھیک صفرالمظفر کی 25 تاریخ کو عرفان اور مریم کے گھر سے مٹھائی کے ڈبے آئے ،دیکھتے ہی دیکھتے سارے حاضرین میں بٹ گئے ،کہ واہ شاہ جی کے وظیفوں میں کتنا اثر ہے اس کی دیکھا دیکھی کچھ لوگوں نے بھی خلوت میں حاضر ہونا چاہا تو مغرب کے بعد حجرے میں آنے کا حکم ملا،
اسی شام ،مغرب کی نماز کے بعد ایک جوان فیروز علی جانوروں کا ڈاکٹر آستانے پر حاضر ہوا اپنے معاشی حالات کی روداد سنائی کہ
” سرکاری ملازم ہوں مگر تنخواہ سے گزارہ نہیں ہوتا گاؤں والے خود ہی جانوروں کاعلاج کرتے ہیں بہت ہی طبعیت خراب ہو تو پھر جاتے ہیں ڈاکٹر کے پاس ،اب ایسے تو گزارے نہیں ہوتے نا ،”
ڈاکٹر نے مولانا کے پاؤں دابتے ہوئے روداد سنا ڈالی
مولانا صاحب مسکرائے اور بولے،
” اب ہم سے کیا چاہتا ہے ؟”
ڈاکٹر فیروز بھی کچھ کچھ سمجھ گیا بولا ،
"جناب نذر نیاز جتنی کہیں دوں گا بلکہ وظیفہ باندھ دوں گا مگر کام چل پڑے روزی میں برکت ہوجائے میں بھی لاکھوں میں کھیلوں ” فیروز جذبات کی رو میں بہہ کر سب حال دل یکلخت کہہ گیا
پیر صاحب نے کہا،
” اونہہ! ٹھیک ہے کرتے ہیں کچھ ,لیکن اپنی بات پر قائم رہنا ،جھوٹ فریب سے کام بنتے نہیں بگڑتے ہیں ”
پھر فیروز کی بجھی بجھی آنکھوں میں دیکھ کر بولا
"چند دن رکو ، استخارہ اور وظیفے کے لیے وقت درکار ہے ،
اسوقت جاؤ” ،
فیروز علی نے کچھ رقم ملازم کو پکڑائی
سر جھکائے چلا گیا ،اگلے دن بھولا گجر اور اس کے بھائی
دو کلو کھویالے آئے کہ ان کے تین بھینسوں کے بچھے ہوئے ہیں اللہ نے قسمت پھیر دی ”
پیر صاحب نے قبول کیا
دعا دی ، پھر خادم سے کہاکہ فلاں پڑیا تو لادو تاکہ بھینسیں خوب دودھ دیں بھولے حلوائی کی آنکھوں کی چمک بڑھ گئ خادم پڑیا لایاپیر صاحب نے پڑیا پر کچھ پڑھ کر پھونکا اور بھولے کے حوالے کردی کہ یہ تینوں بھینسوں کو پانی میں ملا کر دے دینا ،وہ لوگ خوشی خوشی واپس چلے گئے دو دن بعد پریشانی کے عالم میں بھاگے چلے آئے کہ
” ہماری بھینسیں بیمار ہوگئ ہیں
چارہ تک نہیں کھا رہیں لگتا ہے نظر لگ گئ ،”
پیر صاحب کے چہرے پر تفکر کے آثار نظر آئے ,
فورا” مراقبے میں گئے منہ میں کچھ بڑ بڑائے اور تاخیر کیے بنا بولے” ارے بھولے نظر کا چکر نہیں تم نے خوراک تازہ نہیں دی استخارے میں آیا ہے کہ کسی ” ف” نامی ڈاکٹر کے پاس لے جاؤ فورا” آرام آجائے گا ”
بھولا چلا گیا ،
دو دن بعد شام کو ڈاکٹر فیروز پورے پانچ ہزار کاکرارا نوٹ پیر صاحب کو دے گیا، کہ پھر دو دن بعد بھولے نے بھنچی مٹھی مولانا صاحب کے قدموں میں کھولی ,کہ” واہ کیا ڈاکٹر ہے دو دن میں بھینسیں بھلی چنگی ہو گئیں , میں نے اپنے گدھے اور مرغیوں کو بھی دکھا دیا” ،
پیر صاحب کا استخارہ اور ان کی کرامت کے چرچے دور دور تک پھیلے
پھر ایک غریب جوان رنڈوا جس کی دوبارہ شادی نہیں ہو پارہی تھی وہ آکر اپنی بپتا سنا گیا اس نے بھی جلدی شادی ہونے کے لیے نذر نیاز دی
اچھی جگہ شادی ہونے کے بعد ایک تولہ سونے دینے کی حامی بھرڈالی ،
انھی دنوں ایک پھلبہری کی مریضہ کا بہت چرچا تھا، جو ہر لحاظ سے اچھی خاصی تھی بس یہ مرض تھا گھر بیٹھے بوڑھی ہورہی تھی ،باپ جہیز کا انبار دینے کو تیار تھا لیکن بات نہیں بن پا رہی تھی ، باپ جگہ جگہ رشتے کی بات کرتا پھر رہا تھا کئ لوگوں نے پیر صاحب کا ذکر کیا،
ویسے بھی علاقے میں ایک ہی جگہ بچی تھی اور وہ تھا پیر صاحب کا استانہ ،
ان کے پاس جا کر گڑگڑایا
ہاتھ میں موجود بھاری لفافہ پیر صاحب کے قدموں میں رکھا ،
پیر صاحب نے لفافہ سنبھالا کندھے پر ہاتھ رکھ کر شفقت سے دیکھا ,
دو دن بعد آنے کو کہا ،جب پیر صاحب نے بتایا،” کہ استخارے میں آیا ہے کہ کنوارا نہیں بلکہ رنڈوا شوہر بہتر رہے گا تو امجد علی کو بہت ناگوار گزرا ,
لیکن بولتا بھی کیا تیس سال کی تو اپنی بیٹی ہو چکی تھی اگر 35,36 سال کا رنڈوا مل رہاہے توحرج کیا،جب کہ بچے بھی نہ ہوں تو
پیر صاحب کے علاوہ بھی یہ سوچ عام فہم تھی کہ واقعی رشتہ کرنے میں مضائقہ کیا ؟
ویسے بھی اگر مرد غریب ہے تو اتنا روپیہ پیسہ اکلوتی بیٹی کا ہی ہے کونسے بیٹے تھے؟
ماتھے پرشکنیں تو ابھریں
مگر تحمل سے پوچھا ٫
"کسی کا نام آیاہے کیا ؟”
"ارے بلکل واضح اشارہ ہے
” ن” سے نام شروع ہوگا اور باپ کا بھی نام ” ن ” سے شروع ہوگا اور یہ بھی اشارہ ہے کہ تمھاری جان پہچان والا ہے بس دھیان نہیں گیا ”
،پیر صاحب جھٹ بولے ،
اتنا پکا اشارہ امجد علی حیران رہ گیااور چلا گیا
تحقیق کروائی تو پتہ چلا کہ
"ناصر نعیم ”
اسی علاقے کا رہنے والانکلا , چھوٹا سا جنرل سٹور تھا لیکن کریانے کی دکان سے بہتر
امجد علی جزبز ہوکر رہ گیا پھر بھی نقص زدہ بیٹی کا باپ تھا بیٹی کی عمر بھی زیادہ اور وزن بھی، اس پر سوا، برص کا مرض ،
اسی فی صد جسم چتکبرہ ہو چکاتھا،
بس حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناصر سے ملنے چلا گیا ناصر برا نہیں تھا بات چیت اخلاق میں اچھا تھا ، دیکھنے میں بھی معقول ،
لوگ اپنی غربت کی وجہ سے کم مائیگی کا شکار ہوجاتے ہیں ،
ورنہ ان میں دیگر عیب نہیں ہوتے جو بداخلاقی اور بدکرداری کے زمرے میں آئیں،
پھر کچھ ادھیڑ بن ،سوچ بچار کے بعد بات بن ہی گئ،
کیونکہ ناصر میں بظاہر کوئی جسمانی یا اخلاقی عیب نہیں تھا، ٹھیک ٹھا قد بت ،، قبول صورت ، رنڈوا ہونا بھی قسمت ہے، کوئی دھوکہ یا فراڈ نہیں ،
نہ ہی بیوی ظلم یا بھوک ننگ سے مری تھی کہ سوال اٹھتا!
شادی کے دو سال بعد بچے کی پیدائش پر دونوں زچہ بچہ ہسپتال چل بسے تھے، ناصر کاکیا قصور تھا
،گھر میں چپکے سے مرتی تو پھر بھی سوچاجا سکتا تھا ،
خیر تمام تانے بانے بنے گئے ،
تمام پہلو سوچے گئے سب نظام قدرت تھا،
امجد علی نے ناصر سے اپنی بیٹی کی شادی دھوم دھام سے کرتے ہی ایک خطیر رقم پیر صاحب کے قدموں میں رکھ دی ،ناصر نے بھی اپنے وعدے کے مطابق پیر صاحب کو خوش کرنے میں کسر نہیں چھوڑی
حسب وعدہ ایک تولے کا خالص سکہ پیروں میں ڈھیر کیا ،
یہ سب انہونے واقعات دیکھ کر ماسٹر صاحب نے بھی فیصلہ کیا کہ اپنی بیٹی حلیمہ کے لیے پیر صاحب سے استخارہ کروائیں گے، کیونکہ ماسٹر صاحب کے گھر کی طرح ہر گھر میں مولانا کرامت علی مدظلہ کی پرواز کے چرچے پہنچ چکے تھے ، ماسٹر صاحب اپنی بیوی صغریٰ کے ساتھ ہر جمعرات کو درس پہ جایا کرتے تھے،
اس مرتبہ تھوڑاقریب ہوکر اپنا مدعا مولانا صاحب کے گوش گزار کر ہی ڈالا ،
” شاہ صاحب!اللہ سبحانہ تعالی نے اپنے کرم سے تین بیٹیوں سے نوازا ،ماشاءاللہ دو تو صاحب اولاد بھی ہوگئیں، بس اب آخری فرض ادا کرنا باقی ہے، ایک جوان بیٹی ہے مگر کوئی جوڑ کا رشتہ ہی نہیں آتا ہر لحاظ سے اچھی بھلی ہے ،ہر کام میں ماہر پڑھی لکھی، اب بغاوت پہ اتری ہے کہ بی اے کرلیا ,اب آگے پڑھاؤ، میں تو چاہتاہوں اپنے گھر کی ہوجائے لیکن کوئی مناسب لگے تب ہی۔۔۔۔ ہم پر بوجھ نہیں مگر ذمہ داری تو ہے ، ”
کہتے ہوئے ان کا گلا رندھ گیا،
آنکھیں ڈبڈبائیں ،
شاہ صاحب نے معاملے کی نزاکت سمجھتے ہوئے ماسٹر صاحب کے کندھے پہ بہت شفقت سے ہاتھ رکھا، آنکھوں ہی آنکھوں میں تسلی رکھنے کا اشارہ کیا ،پھر کہا بچی کو لے کر آنا دیکھتے ہیں کہ کیا مسئلہ ہے ؟ پھر اگلے ہی شام ماسٹر صاحب نے بیوی اور بیٹی کو ہمراہ لیا اور پہنچ گئے پیر صاحب کے آستانے پر ،
پیر صاحب کی نظر حلیمہ پر پڑی تو ان کی نظر حلیمہ پر اور ماسٹر صاحب کی نظر پیرصاحب پر جم گئ ۔۔
"جی پیر صاحب ”
ماسٹر صاحب کی آواز سن کر پیر صاحب ہڑبڑا گئے پھر ایکدم مراقبے میں چلے گئے کچھ لمحے منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑائے ،
،سر اٹھایا پھربڑے خوش الحان ہو کر بولے ،”ماسٹر صاحب آپ بے فکر رہیے بچی پر کوئی اثر نہیں ، یہ بہت بلند بخت ہے اور اس کی شادی بہت جلد اور بہت اچھی جگہ ہونے والی ہے ,
ہوسکتا ہے اسی ماہ ہی آپ فرض سے سبکدوش ہوجائیں ”
یہ سننا تھا کہ ماسٹر صاحب کی بانچھیں کھل گئیں , صغریٰ بھی چادر کے پلو سے منہ چھپائے مسکرائی ,اس کی آنکھوں سےبھی خوشی چھلکی ,
پھر پیر صاحب بہت رعب دار آواز میں گویا ہوئے کہ
"مگر!
ایک بات کا خیال رکھناہوگا ”
"جی فرمائیے سرکار”
حلیمہ کے والدین ہاتھ باندھ کر ادب سے بولے,
"استخارے میں جس رشتے کا اشارہ ہو گا وہاں ہی کرنا ہوگا ”
،” جی ،جی، شاہ جی! انشاءاللہ”
ان دونوں کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ان کے ہاتھوں کی جگہ پیر چوم لیتے، ”
"کل جمعرات ہے شام کو آکر ملنا ہم دن بتا دیں گے کہ نکاح کس دن رکھا جائے ”
"بے شک حضور آپ کا حکم سر آنکھوں پر جہاں ،جب ،جس سے کہیں گے ہم تیار ہیں”
پیر صاحب مسکرائے
ماسٹر صاحب معہ اہلیہ ودختر روانہ ہوگئے،
جمعرات کی شام پہنچنے پر پیر صاحب نے ماسٹر جی مژدہ سنایا کہ
"جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے بعد دولہا تمھارے گھر پر پہنچ جائے گا، استقبال کرنا ،کسی رسم اور جانچ پڑتال کے بنا بس نکاح کردینا کسی لیت ولعل سے کام نہ لینا ،شک میں نہ پڑنا ، ”
ماسٹر صاحب پر تو شادی مرگ کی کیفیت طاری ہوگئ
،”وعدہ رہا”،
ماسٹر صاحب نے ان کا ہاتھ عقیدت سے چوم لیا ،
جھومتے ہوئے گھر کی طرف بھاگے
جاتے ہی حلیمہ کے آگے ہاتھ جوڑ لیے کہ "ہماری عزت اب تیرے ہاتھ ہے بیٹی، کل جمعہ کے بعد نکاح ہے تیرا ،انکار نہ کرنا ، حلیمہ چپ رہی ایک لفظ نہ بولی”
بڑی بے صبری سے تینوں نے رات گزاری ، صبح ہوئی توماسٹر صاحب کا جوش و خروش دیدنی تھا، دل بلیوں اچھل رہا تھا ہر کام روزمرہ سے زیادہ چستی پھرتی سے انجام دے رہے تھے اللہ اللہ کرکے نماز جمعہ ادا کی ،
پھر تیز تیز قدموں سے گھر کی راہ لی ،مبادا ان کے گھر پہنچنے سے پہلے ” دولہا” نہ پہنچ جائے اور اسے ان کے انتظار کی زحمت نہ اٹھانا پڑے
ایک تو شدید گرمی اوپر سے جوش ، گھر پہنچنے تک پسینے پسینے ہو چکے تھے ، دروازہ کھلا ہی تھا ،ماسڑ صاحب نے کھلا ہی رہنے دیا، ہلکا سا بھیڑ دیا کنڈی نہیں لگائی، صغریٰ اپنے شوہر کی بے تابی سمجھ گئ تھی ، ان کو آرام سے بیٹھنے کا کہہ کر بھاگ کر پانی لے آئی ” لیجے پانی پیجیے کپڑے بدلیے ، بے چین نہ ہوں اللہ بہتر کرے گا ،پانی پی کر گلاس بیوی کو پکڑایا ہی تھا کہ دروازے پہ دستک ہوئی، احمد دین صاحب ایسے لپکے کہ دوبارہ کھٹکھٹانے کی نوبت ہی نہ آئے،جھٹ دروازہ کھولا، سامنے عطر میں رچے بسے پیر کرامت علی شاہ صاحب مدظلہ گلے میں پھولوں اور نوٹوں کے ہار ڈالے اپنے حواریوں کے ساتھ کھڑے مسکرا رہےتھے




