وفاقی کابینہ نے 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی: وزیر قانون/ اردو ورثہ
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ہفتے کو بتایا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں وفاقی کابینہ نے آئین میں 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی۔
باکو میں موجودگی کی وجہ سے وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کی ویڈیو لنک کے ذریعے صدارت کی، جس کے حوالے سے وزیر قانون نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ یہ پہلہ دفعہ نہیں ہوا بلکہ قواعد میں درج ہے اور بہت سارے اجلاسوں میں اراکین کو یا وزیراعظم کو یہ سہولت فراہم کی گئی ہے۔
وفاقی وزیر قانون نے میڈیا کو بتایا کہ ’وفاقی کابینہ کو 27 ویں آئینی ترمیم پر بریفنگ دی گئی ہے اور وفاقی حکومت یہ ترمیمی بل آج سینیٹ میں پیش کرے گی۔‘
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ’سینیٹ میں پیش کرنے کے بعد اس بل کو مشترکہ کمیٹی میں بھیجنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے تاکہ کمیٹی میں بل کی شقوں پر تفصیلی گفتگو ہو سکے۔‘
مجوزہ 27 ویں آئینی ترمیم میں این ایف سی ایوارڈز میں صوبائی حصے کے تحفظ کا خاتمہ، آرٹیکل 243 میں ترمیم، آئینی عدالت کا قیام، ایگزیکٹو مجسٹریٹس کی بحالی اور ججوں کے تبادلے، تعلیم اور آبادی کی منصوبہ بندی کے اختیارات کی وفاق کو واپسی کے اختیارات سمیت دیگر چیزیں شامل ہیں۔
اس سلسلے میں حالیہ دنوں میں وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ، مسلم لیگ ق، بلوچستان نیشنل پارٹی اور استحکام پاکستان پارٹی سمیت تمام اتحادی جماعتوں سے مشاورت کر کے ترمیم کی حمایت مانگی تھی۔
وزیر قانون نے بتایا کہ وزیراعظم نے بل کی تیاری کے دوران تمام اتحادی جماعتوں سے مشاورت کی ہے۔ ان کے مطابق: ’چارٹر آف ڈیموکریسی کے تحت ایک وفاقی آئینی عدالت کے قیام پر اتفاق رائے ہو چکا ہے۔‘
اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ ’اب ایک الگ وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی تجویز بل کی صورت میں پارلیمان کے سپرد کی جائے گی۔‘
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’ججوں کے تبادلے کا اختیار جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کو دینے کی تجویز ہے، جبکہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بھی ججوں کے تبادلے کے عمل کا حصہ ہوں گے۔‘



