غزل

غزل / ہمارے خانہِ دل کے مکین جیسی ہے / نسیم عباسی

غزل

 

ہمارے خانہِ دل کے مکین جیسی ہے

نمودِ صبح کسی نازنین جیسی ہے

 

زمیں پہ کوکتی کوئل کو یہ نہیں معلوم 

اب آدمی کی طبیعت مشین جیسی ہے

 

بڑا ڈراؤنا منظر ہے گھپ اندھیرے کا 

کہ آسمان کی صورت زمین جیسی ہے

 

بھنور میں ڈوبنے والے کی آخری امید 

خدا کی ذات پہ کامل یقین جیسی ہے

 

جنوں نے کی کسی لیلیٰ کی پرورش مجھ میں 

مری سرشت کہ محمل نشین جیسی ہے

 

نسیم وقت کے یاجوج چاٹتے ہیں اسے

وہ دوستی ہے جو دیوارِ چین جیسی ہے 

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x