ادبی کالمتبصرہ کتبشخصیت و فنغزل
غزل / عقل گم ہے ترے اشاروں میں / اجمل فرید
غزل
عقل گم ہے ترے اشاروں میں
ڈھونڈتی ہے نظر ستاروں میں
پیڑ پر ہجر لکھ گیا تھا کوئی
سبز ہوتا نہیں بہاروں میں
تیری آنکھوں سے بہہ نہیں سکتا
پر گھٹن ہے بہت کناروں میں
صاف کہنے سے جان جاتی ہے
بات کرتے ہیں استعاروں میں
جنگلوں سے سفر ہوا تھا شروع
اب بھٹکتے ہیں لوگ کاروں میں
ہر جگہ سے نظر ہے دشمن پر
ہیں مرے دوست سب اداروں میں
ایک ویرانہ بلڈنگوں سے بھرا
ہم فلیٹوں کی بند غاروں میں
کھوٹے سکے بھی چل گئے میرے
فائدہ ہو گیا خساروں میں
ہر مہینے کے چار بل تھے فرید
زندگی لگ گئی قطاروں میں




